Home بلاگ عصبیت اقتدار کے حصول کے لئے ناگزیر

عصبیت اقتدار کے حصول کے لئے ناگزیر

تحریر عامر شہباز ہاشمی

ابنِ خلدون نےعلمِ تاریخ کی روشنی میں یہ بتایا کہ یہ عصبیت ہے جو مستحکم اقتدارکی بنیاد بنتی ہے۔ جب کسی قبیلے یا گروہ کو عصبیت حاصل ہو جائے توپھر اقتدار خودبخود اس کے گھر پہنچ جاتا ہے۔ بنو عباس کو جب بنو ہاشم (اہلِ بیت) کی عصبیت منتقل ہوئی تو وہ ان کے اقتدار کی بنیاد بن گئی۔ ابومسلم خراسانی جتنا بھی باصلاحیت کیوں نہ ہو، ان کواقتدار دلواتو سکتا تھا، خود حکمران نہیں بن سکتا تھا۔اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ محض عصبیت اقتدار کے لیے کافی ہوتی تھی۔ صلاحیت اور اہلیت تو ہر کام کیلئے ناگزیر ہے۔ اس کا اطلاق سیاست پربھی ہوتا ہے۔ اہلیت ہو لیکن عصبیت نہ ہوتو اقتدار نہیں ملتا تھا۔ عصبیت ہو، لیکن اہلیت نہ ہوتو اقتدار مل سکتا تھا لیکن اسے استحکام نہیں تھا۔ امام زین العابدینؓ سیاست کے آدمی نہیں تھے۔ کربلا کے سانحے کے بعد انہوں نے سیاست میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ سیاست کا عَلم سیدنا حسینؓ کے غیر فاطمی بھائی، محمد بن حنفیہ نے تھام لیا۔ یوں اہلِ بیت کی سیاسی قیادت بنو فاطمہ سے علویوں کے پاس چلی گئی اور ساتھ ہی ان کی عصبیت بھی۔ ان کے بعد ان کا بیٹا ابوہاشم عبداللہ علمبردار بنا۔ جب انہیں مرض الموت نے آلیا تو ان کے پاس حضرت عبداللہ ابن عباسؓ کے پوتے محمد بن علی کے سوا کوئی نہ تھا۔ ابو ہاشم نے ان کواپنا جانشین بنادیا۔ یوں بنو ہاشم کی عصبیت بنو عباس کو منتقل ہوگئی۔نو عباس کی حکومت قائم ہوگئی تو محبانِ اہلِ بیت نے ایک بار پھر کوشش کہ یہ اقتدار انہیں مل جائے کہ بنو عباس کااقتدر جس عصبیت پر قائم ہے، اس کے اصل وارث وہی ہیں۔ کوئی اس کو سمجھنا چاہے تو اس خط و کتاب کو دیکھ لے جو عباسی حکمران ابوجعفر منصور اور بنو فاطمہ کے فرزند نفس زکیہ کے مابین ہوئی۔ اس تاریخ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عصبیت اقتدار کی بنیاد رکھتی ہے مگر یہ صلاحیت ہے جواسے پُرشکوہ عمارت میں بدل دیتی ہے۔
عصبیت اچھی یا بری نہیں ہوتی۔ یہ ایک سماجی و سیاسی عمل کاظہور ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک معاشرے میں کسی فردکو تاریخی یا سماجی عوامل کے نتیجے میں ایک عمومی اعتماد حاصل ہوجاتا ہے۔ عوام کی اکثریت جب اسے معتبر مان لیتی ہے توسیادت و حکومت اسے منتقل ہوجاتی ہے۔ اس سے سماجی استحکام پیدا ہوتا ہے۔ اقتداراگر ان اہلِ سیاست کودے د یا جائے جنہیں عوامی تائید میسر نہ ہو یا جنہیں کیاریوں میں اگایا گیا ہوتو پھرحکمرانوں اور عوام کے مابین اعتبار کا وہ رشتہ قائم نہیں رہ سکتا جو سیاسی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔
یہی وہ حقیقت تھی جسے رسالت مآبﷺ نے بیان فرمایا کہ عربوں کے امام و راہنما قریش میں سے ہوں گے۔ آپﷺ کا یہ ارشادگرامی ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں قولِ فیصل قرار پایا اورمہاجرین وانصار سیدنا ابوبکرؓ کی قیادت پر متفق ہوگئے۔ تاریخ نے اس فرمانِ رسولﷺ کی حکمت پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔ آپﷺ نے دراصل کوئی دینی حکم نہیں دیا تھا بلکہ ایک بدیہی سماجی حقیقت کی طرف متوجہ کیا تھا.
برصغیر میں جب تحریکِ خلافت برپا ہوئی تو یہ بحث چل نکلی کہ عثمانیوں کا حقِ اقتدار شرعی طورپر ثابت ہے یا نہیں۔ اس روایت کی بنیادپر ایک رائے یہ تھی کہ عثمانی یہ حق نہیں رکھتے۔ اس کے برخلاف مولانا ابوالکلام آزاد نے عثمانیوں کے حق میں رائے دی اورتائید میں اپنا دینی استدلال پیش کیا۔ بعد میں مولانا مودودی نے بھی اس پرقلم اٹھایا۔ اس بحث کاحاصل یہ تھاکہ نبیﷺ نے کوئی دینی حکم نہیں دیا تھا۔ یہ سیاسی حکمت کا بیان تھا یاپھر آنے والے دنوں کی خبر تھی۔
ایک معاشرے میں سیاسی استحکام اسی وقت آسکتا ہے جب اقتدار ان ہاتھوں میں ہوجنہیں اکثریت کا اعتماد یا ابن خلدون کے الفاظ میں عصبیت حاصل ہو۔ اب یہ عصبیت لازم نہیں کہ ہمیشہ باقی رہے۔ یہ ایک سے دوسرے قبیلے یاگروہ کو منتقل ہوسکتی ہے۔ ریاست کواستحکام کیلئے ایک مرکزِ وحدت کی ضرورت ہوتی ہے اوربادشاہ دراصل اسی ضرورت کوپورا کرتا تھا، یا یوں کہیے کہ قومی عصبیت کی علامت تھا۔
دورِ جدید میں قبیلے نہیں رہے۔ ان کی جگہ سیاسی جماعتوں نے لے لی۔ اب جس جماعت کو عوام کی اکثریت یا دوسرے الفاظ میں عصبیت حاصل ہوجائے، اقتدار اسے منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہی جمہوریت ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ سیاسی و سماجی استحکام اسی وقت میسر آسکتا ہے جب عوام یا اکثریت کا اہلِ اقتدار کے ساتھ اعتبار کا رشتہ قائم ہو۔ سیاسی جماعتوں میں بھی اسی اصول پر قیادت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو منتقل ہوتی ہے۔ عصبیت کا ایک خاندان میں رہنا فطری ہے تاہم ہمیشہ کی طرح یہ عصبیت اس وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب اس کا امانتدار، عوام کی نظر میں اس کو سنبھالنے کی اہلیت بھی رکھتا ہو۔ گویایہ فیصلہ عوام کرتے ہیں کہ کون قیادت کا اہل ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...