Home بلاگ کون دعاؤں میں یاد رکھتا ہے

کون دعاؤں میں یاد رکھتا ہے

منشاقاضی
حسب منشا

میں نے تاریخ میں جن عظیم انسانوں کے حالات زندحی کا مطالعہ کیا ہے وہ مصائب و آلام کی گود میں پلتے ہیں , بیابانوں میں آبلہ پائی کرتے ہیں اور صحراؤں میں اپنے ہاتھوں سے باغبانی کی بنیا رکھ دیتے ہیں اور ان کی کامیابی مؤثر ترین محرک عمل ہے , اگر ایک محرر چنگی کا بیٹا جدید ترکیہ کا باپ بن سکتا ہے اگر ایک کسان کا بچہ مصر کو آزاد کرا کے تاریخ میں کہکشاں کی طرح جگمگا سکتا ہے , چمڑے کے تاجر کا بیٹا جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیئیے دنیا میں ایک الگ وطن حاصل کر سکتا ہے اور پاکستان کا معمار اعظم بن سکتا ہے تو آج کا نوجوان ترقی اور عظمت کے بام بلند پر کیوں نہیں پہنچ سکتا , اصل چیز محنت ہے اور اللہ تعالی کسی کی محنت ضائع نہیں ہونے دیتا , مولانا حالی نے اسی مفہوم کو منظوم کیا ہے ,

نہ بو نصر تھا نوع میں تم سے بالا
نہ تھا بو علی کچھ جہاں سے نرالا
طبیعت کو بچپن سے محنت میں ڈالا
ہوئے اس لیئیے صاحب قدر والا
اگر فکر کسب ہنر تم کو بھی ہو
تمہیں پھر ابو نصر اور بو علی ہو

آدمی تعلیم سے نہیں تربیت سے انسان بنتا ہے آج اس گئے گزرے دور میں ائر کموڈور اذکار رفتہ خالد چشتی ستارہ ء امتیاز (ملٹری ) ستارہ بصالت جیسے عظیم انسان کا وجود غنیمت ہے , جن کی فکری رعنائیوں کے چراغ روشن ہیں اور دوسروں کو بھی روشنی تقسیم کرتے ہیں , گذشتہ روز سی ٹی این کے چئرمین اور سی ٹی این کے بورڈ کے ممبران کی جانب سے ایک خوبصورت شام کا اہتمام کیا گیا جس میں بین الاقوامی شہرت یافتہ خطیب بے بدل ائر کموڈور خالد چشتی نے خطاب کیا اور سامعین کے چودہ طبق روشن کر دئیے اور ابھی تک جن احباب نے آپ کو سنا ہے وہ اس سحر آفریں ماحول سے باہر نہیں آ رہے ہیں , چشتی صاحب کا روئے سخن جوانوں کی طرف تھا , ہال میں عبقری , عسکری , فکری اور دیدہ ور شخصیات موجود تھیں جو ہمہ تن گوش تھیں , نقیبہ ء مجلس محترمہ آمنہ خان کا وجدان جاگ رہا تھا موصوفہ نے وقت مقررہ پر مائیک اور ڈائس سنبھال لیا اور تلاوت قرآن کریم کے بعد قومی ترانے کے احترام میں سب کھڑے ہو گئے , مس آمنہ خان کا طرز بیان اور انداز و اسلوب میں پنہاں حفظہ مراتب کے جذبات ہویدا تھے کیونکہ آپ کے سامنے عسکری دانشور , عبقری لوگ تشریف فرما تھے , اور یہ وہ شخصیات تشریف فرما تھیں جن کا ایک ایک لمحہ گرانمایہ تھا اور وہ مسعود علی خان کے خیرمقدمی کلمات کے لیئے ہمہ تن گوش تھے , مسعود علی خان کے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں مہمانوں کی تعظیم کی قندیلیں فروزاں تھیں , آپ نے دل کی گہرائیوں سے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے آج کے بین الاقوامی شہرت یافتہ سپیکر کو دعوت خطاب دیا , سامعین کی عقبی نشستوں سے ایک تیز گام شخصیت ڈائس پر نمودار ہوئی اور اس نے اپنے جدید عہد کے ابلاغی ویپنز سنبھالتے ہوئے زبان غیر سے شرح آرزو کی گفتگو کی جستجو کی اور باتوں باتوں میں ترغیب کے فن کو نکتہ ء کمال تک پہنچا دیا , چشتی صاحب کی گفتگو میں فلسفیانہ گہرائی نہیں تھی بلکہ ایک ارداہ , ایک عزم بالجزم جھلکتا تھا جذبات سے لبریز ایک ایسی گفتگو کی جستجو مجھے تو مدتوں سے تھی جو دلائل کی زبان رکھتی ہو اور آج میرا وہ خواب محترم خان معظم نے شرمندہ ء تعبیر کر کے دکھا دیا , چشتی صاحب کی گفتگو چار شخصیات کی عملی زندگیوں کا احاطہ کیئے ہوئے تھی , بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح , باکسر محمد علی , تنزانیہ کا تیزگام دوڑ میں زخموں کی تاب لا کر مکرر دوڑ میں شامل ہونے والے کے ارداہ و مرضی کے نتائج سے آگاہ کیا , اسی طرح آپ نے پون گںھنٹے کی گفتگو میں حیرت انگیز کیفیت پیدا کر دی , اور فصاحت و بلاغت کو آپ نے دلائل و براہین سے نظر آتش کر دیا , ایسے بصیرت افروز لیکچر کا آغاز ہو گیا ہے اور مسعود علی خان کی پیشکش میں جوانوں کا دلکش اور تابناک مستقبل کا چہرہ دیکھا جا سکتا ہے , مثبت سوچ کے بطن سے پیدا ہونے والا رویہ کامیابی کی کلید ہے How to develop a winning ATTITUDE ائر کموڈور خالد چشتی نے حق ادا کر دیا اور ایک پیغام نوجوانوں کو دیا کہ تم بلندی کی طرف سفر کرتے وقت گھبرایا نہ کرو کیونکہ تمہارا پیراشوٹ باندھنے والا تمہارا خیر خواہ ہے جس کی دروس نگاہ تمہارا تعاقب کرتی ہے ہے , طوفانوں میں ہی زندگی کی کشمکش ہوتی ہے زندگی جاگ کر اعر عمر سو کر گزر جاتی ہے اور آج جاگنے والی زندگی کی حقیقت جاننے کے لیئے کسی ایسے ہی جاننے والے کی صحبت کی نظر سے فیض مل سکتا ہے , مسعود علی خان کی دعوت پر کتنی جلیل القدر ہستیوں سے ملنے کا اعزاز حاصل ہوا , یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں مختار مسعود نے کہا تھا کہ یہ لوگ آبشار کی مانند ہوتے ہیں جو بلندیوں سے یہ کہتی ہوئی زمین پر آ رہی ہوتی ہے اور یہ بھی کہہ رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ لوگ میری سطح تک بلند نہیں ہو سکتے تو میں خود ہی نیچے اتر کر تمہاری کشت ویراں کو سیراب کرتی ہوں , اظہار تشکر اور سپاس تشکر کا اعزاز بین الاقوامی شہرت یافتہ کارٹونسٹ جناب جاوید اقبال نے حاصل کی , آپ نے عبقری اور عسکری شخصیات کی آمد کو سی ٹی این ہال کے لیئے نیک شگون قرار دیا اور میزبان خاص مسعود علی خان نے مہمانوں کی خوشبو کی طرح پذیرائی کی , ائر کموڈور خالد چشتی کے لیئے
الہی آفتاب چشتیاں رخشندہ باد

کون دعاؤں میں یاد رکھتا ہے
میں ڈوبتا ہوں تو سمندر اچھال دیتا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...