Home بلاگ انسانی برادری سیاسی دیواریں مسمار کرئے

انسانی برادری سیاسی دیواریں مسمار کرئے

کالم نگار: ظفر اقبال ظفر
بے لگام مہنگائی کی وجہ صرف یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں میں تقسیم عوام نے اپنی اپنی پسند کے ظالم منتخب کیے ہوئے ہیں ظالم پسند اور ظلم نا پسند کرنے والی عوام کی حیثیت ٹیکس دیکر مہنگائی برداشت کرنے کے سوا کچھ نہیں جن کی محب وطنی ملکی سطح پر نافد ناانصافی کے خاتمے کی بھی طاقت نہیں رکھتی ہرسرکاری ادارے کی توہین کی سزا ہے مگر کسی ادارے میں توہین پاکستانیت پر سزانہیں۔قرضوں کے اترنے تک بیوروکریسی میں مراعات کی بندش لاگو کی جائے اور تنخواہ نچلی سطح کے ملازمین کے برابر کی جائیں تاکہ عام غریب پاکستانی کے ساتھ ساتھ سارے معاشرے کو آسان زندگی میسر ہو۔ عوامی مسائل کے حل پر بننے والی حکومتیں بہتری کا غلاف چڑھا کر مزید عوام کے حالات زندگی دشوار بنارہی ہیں یہ زہنی اپاہج سیاستدانوں کا ٹولا ملکی اثاثوں کی آمدن سے عوامی زندگیاں آسان نہیں بنا سکتا سچ تو یہ ہے کہ قرضوں کا بوجھ مسلط کرنے والے سیاست دانوں سے باضمیر انسانوں کا ایمان اُٹھ چکا ہے۔عجیب سیاسی درندگی پر مبنی چال چلی جا چکی ہے عوامی وسائل لوٹنے والوں کے احتساب کا شور مچا کر اقتدار کی شیروانی پہننے والے عوام کو ننگا کرنے پر تلے ہیں سیاسی لڑائیوں میں عوام سے زندگی گزارنے کے حقوق بھی چھینے جا رہے ہیں۔ملکی پیسا اپنی نسلوں کا مستقبل بنانے والے اثاثوں پر ہضم کرنا معمولی معدے والے سیاستدانوں کے بس کا روگ نہیں یہ تقریروں میں عوامی خیر خواہی کا لیبل لگا کر بڑے بڑے لوگوں کے اقوال بیان کرتے ہیں اور ان کا اقتدارشروع اور ختم ہوتے ہی ان کی جعلی شرافت کا لبادہ اُتر جاتا ہے پھر عوام اپنے لٹے ہوئے وسائل کے احتجاج کے لیے اگر سٹرکوں پر نکل بھی آئے تو انہیں زنجیروں میں جکڑ کر تھانوں جیلوں میں قید کر دیا جاتا ہے عدالتی اخراجات و تکلیفوں کی صورت عوامی حقوق کا دفاع وہ سبق بن جاتا ہے جو سب سے پہلے محب وطنی کا قتل کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سیاستدان محب وطنی سے باہر نکل کر سودے کرتے ہیں ایسے ایسے لوگ جن کا محب وطنی سے تو دور کی بات اس وطن سے بھی کوئی رشتہ نہیں ہوتا انہیں اہم منصبوں پر فائز کر دیا جاتا ہے یعنی عوامی جہالت کے سامنے خود غرض سیاست نے راہنمائی کا پیشہ اختیار کیا ہوا ہے خوشامدی لوگ نوکر شاہی میں مخلوق خدا کو بھی غلط راستے پر ڈال رہے ہیں اقتدار کی حوس کے اس وسیع و غریض قبرستان میں صرف اسلامی تصور و نظریہ ہی ایسا دیکھائی دیتا ہے جو انتظامی قوت اور پاکیزہ رُوح کی بدولت ہر دور میں جاندار ہونے کا اعلان کرتا ہے۔اقتدار سے نکالے گئے سیاسی لیڈرجب مصائب کے جبڑوں میں آتے ہیں تو ان کے عقائد اورایمان کی ہڈیاں ایسے ٹوٹتی ہیں کہ وہ ہوش کے عالم میں نہیں رہتے مگر یہ عوام کس معیار پر آ گئی ہے کہ اپنی اپنی پسند کے ظالموں کے زندگی تنگ کرنے والے فیصلوں کو تسلیم کرکے قصور وار کسی اور کو ٹھہرا کر آپس میں ایک دوسرے کو کوستی رہتی ہے یہ لوگ سیاست کی دیواریں مسمار کرکے انسانی برادری بن کر جینے کو ترجیع کیوں نہیں دیتے یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ اقتدار کی حوس کے لوگوں کو تو اپنی قبروں کی چاردیواری کرنے سے فرصت نہیں ملتی یہ عوام کے گھروں میں سکون کہاں سے پیدا کریں گے۔اس سے بڑا مذاق پاکستان اور عوام سے کیا ہوگا کہ اقتدارکے حصول کے لیے عوامی ہمدردی کا شور مچایا جاتا ہے بربادی کی نشاندہی کرتے ہوئے سنگین نقصانات کا عکس دیکھاتے ہوئے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر پچھلوں پر تنقید اور اپنوں کی مدعاسرائی کرتے ہوئے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے بانجھ عورت پلاسٹک کے گڈے گڈیوں کو کپڑے پہنا کر خوش ہوتی ہیں جو لوگ انسانیت کے رشتے پر کسی کی مدد نہیں کرتے وہ سیاسی گمراہی پھیلانے میں بنا تنخواہ کے کام کرتے ہیں نظریات کے تصادم نے اخلاقیات کو ایسا کچلا ہے کہ سیاسی مخالف ایک دوسرے کو گالیاں دینا اورلینا عوامی مسائل کا حل سمجھتے ہوئے اپنے ٹیکس کے نوٹ اور شہریت کے ووٹ پر عیاشی کرنے والوں کی غلامی پر فخر محسوس کرتے ہیں یہ کثیر تعداد میں ذات آدم جو مفاداتی سیاست میں حوس اقتدار میں اوپر سے نیچے تک دست و گربیاں ہے ان کے دل دماغ کمزور انسانوں کی ترجمانی میں ناکارہ کیوں ہے۔جس جماعت کا اقتدار چھن جاتا ہے اس کے سیاسی بت پرستوں کو پاک فوج پر تنقید کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ جو ملک کا دفاع کرنے والوں سے بغض رکھے گا وہ وطن سے وفاداری میں ناکام شخص ہوگاپاک فوج کی صفوں میں اس یقین کو پھیلا دیا گیا ہے کہ جو ملک کا محافظ نہیں وہ خود بھی محفوظ نہیں۔پاک فوج کی وردی پر سیاسی گند کے چھینٹے بتاتے ہیں کہ وہ آئینی چاردیواری میں رہنے کی تکلیف پا رہی ہے ورنہ وہ اپنا تقدس اور محب وطنی میں چھپے مفاداتی اقتدار کے حوس ذدہ دماغ دھونے میں بھی مہارت رکھتی ہے پاک فوج کے بڑوں کو اپنا مل بیٹھ کر عوامی اثاثے وسائل کا حق تمام پاکستانیوں کے بلند معیار زندگی پر کردار ادا کرنا ہوگایہ وقت محب وطنی کی طرح محب عوام ہونے کا تقاضا کر رہا ہے جب ملک پر جنگ مسلط ہوتی ہے تو عوام پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے اس وقت غریب پاکستانیوں کی پاک فوج سے محبت مطالبہ کررہی ہے کہ پاک فوج عوامی وسائل لوٹتی سیاسی جنگ میں مرتی پاکستانیت کو بچا لے عوام کے حالات ہی پاکستان کی تصویر ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ہر اسکریچ کارڈ پر 5 روپے اضافی وصولی، کمپنی کا مؤقف سامنے آگیا

پاکستان میں آپریٹ کرنے والی ایک غیر ملکی موبائل کمپنی نے اخراجات میں اضافے کو جواز بنا کر صارفین سے ہر...

فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے آنے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے

مکہ مکرمہ : فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب جانے والے 5 پاکستانی عازمین انتقال کرگئے۔

ملک میں سونا مزید سستا ہوگیا

ملک میں آج ایک تولہ سونے کی قیمت میں 350 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ سندھ صرافہ...

اسحاق ڈار کو نیا پاسپورٹ مل گیا، پاکستان واپسی کی تیاریاں بھی مکمل: ذرائع

ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیا پاکستانی پاسپورٹ مل گیا۔ قابل...

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائر

انگلینڈ کے ورلڈکپ وننگ کپتان اوئن مورگن نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔ انگلینڈ نے مورگن کی...