Home بلاگ خادم پاکستان اور مہنگائی کا طوفان

خادم پاکستان اور مہنگائی کا طوفان

تحریر: اعجازعلی ساغر اسلام آباد

پاکستان میں اس وقت مہنگائی 27.82 فیصد کی بلند ترین شرح پر ہے جس کی وجہ سے عام آدمی تقریباً مر چکا ہے بس جان نکلنا باقی ہے امریکہ اور یورپ میں بالتریب 13 اور 8 فیصد مہنگائی نے گوروں کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے میں داد دیتا ھوں پاکستان قوم کو جو اس کے مقابلے میں ڈبل ٹرپل مہنگائی برداشت کررہی ہے یقیناً یہ اس قوم کا حوصلہ ہے اور شاید ناسمجھی بھی,کیوں اگر کوئی باشعور عوام ھوتی تو اب تک سڑکوں پر ھوتی۔
پچھلے دنوں سری لنکن حکومت نے ملک کو دیوالیہ ڈیکلیئر کیا تو لوگ سڑکوں پر آگئے اور حکومتی وزراء اور بیوروکریسی کی جان و مال کو نقصان پہنچانا شروع کردیا اور مہندا راجا پکسے اور ان کے خاندان کے گھر جلا دیے بیوقوف سری لنکن قوم کو تب ھوش آیا جب ملک دیوالیہ ھوگیا شاید اس قوم پر بھی پاکستانی قوم کا اثر تھا وہ بھی شیر آیا,جئے بھٹو اور عمران خان جیسوں کے چکروں میں آگئے تھے تبھی وہ ملک اس نہج پر پہنچ گیا۔
پاکستان میں ہوشربا مہنگائی نے یہاں کاروبار ٹھپ کردیے ہیں اب لوگوں کو روٹی پوری کرنے کے لالے پڑے ھوئے ہیں جو جہاں پر ہے وہیں پریشان ہے۔
دو اڑھائی مہینے پہلے پاکستان میں مہنگائی کی شرح تقریباً 13 فیصد تھی تب بھی لوگوں کی چیخیں نکل رہی تھیں کہ عمران خان نے بہت زیادہ مہنگائی کردی ہے اور عوام عمران خان سے چھٹکارے کی دعائیں مانگنے لگی کہتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی پہر قبولیت کا ھوتا ہے قوم کی رب نے دعا سن لی اور پی ڈی ایم کی شکل میں مسیحا بھیج کر رب نے عمران خان سے قوم کو نجات دلادی اور وزیراعظم کی کرسی اس شخصیت کے حصے میں آئی جس نے 25 سال اس کرسی کیلئے صبر کیا اور جدوجہد کی جی ہاں میاں محمد شہبازشریف جو پہلے خادم اعلیٰ پنجاب تھے اب وہ خادم پاکستان کر قوم کی خدمت کا جذبہ لیے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ گئے قوم (جو نا تجربہ کار تبدیلی سرکار کے ساڑھے تین سال برداشت کرچکی تھی) نے خادم پاکستان سے امیدیں باندھ لیں کہ وہ مہنگائی اور غربت کو دور کریں گے۔
یہی نعرہ عمران خان بھی لیکر آئے تھے مگر ساڑھے تین سال پوری کابینہ بد عنوانیوں,کرپشن اور اقرباء پروری میں گزار گئی عمران خان جو ماضی کے حکمرانوں کو چور اور ڈاکو کہتے تھے ان کے دور میں سرعام کرپشن کا بازار گرم رہا وزراء اور لیڈران کے دروازے عوام پر بند رہے میڈیا کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا اور تقریباً دس لاکھ میڈیا ورکر عمران خان کے دور میں بیروزگار ھوئے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کو ان کا غرور اور گھمنڈ لے ڈوبا جن کے ووٹوں سے وہ اسمبلی پہنچے تھے انہی پر تبدیلی سرکار نے دروازے بند کیے اور عوام ان سے بدظن ھوئی جس کا بعد میں عمران خان سمیت سب نے اعتراف بھی کیا کہ ہم سے بہت ساری غلطیاں ھوئیں جو نہیں ھونی چاہییں تھیں۔
پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے مخلوط حکومت بنائی جس میں دو مسلم لیگ ن,پیپلزپارٹی,ایم کیو ایم,جے یو آئی (ف) اور دوسری چھوٹی سیاسی جماعتیں تھیں ان تمام جماعتوں سے قوم کو یہ امید تھی کہ یہ عمران خان کی ناقص پالیسیوں کا خاتمہ کرکے عوام دوست پالیسی بنائیں گے جس سے عام آدمی کو ریلیف ملے گا لیکن اس حکومت نے بھی آہستہ آہستہ رنگ دکھانا شروع کردیا اور عوامی مسائل حل کرنے,مہنگائی کنٹرول کرنے اور غربت کم کرنے کی بجائے روائتی انداز اپناتے ھوئے اس مخلوط حکومت نے تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید کرنی شروع کردی اور عوامی مسائل کو پس پشت ڈال دیا,کابینہ کے تمام وزراء اور تمام اتحادی پارٹیوں نے صبح, دوپہر, شام پریس کانفرنسوں کے ذریعے تڑکے لگا کر قوم کو دلاسے دینا شروع کردیے اور دن بدن مہنگائی بڑھانے لگے۔عوام جس کا کورونا وباء کے دوران ہی کاروبار کی بندشوں کی وجہ سے بھرکس نکل چکا تھا اس پر مزید مہنگائی کا بوجھ ڈال دیا گیا اور آئی ایم ایف کو رام کرنے کیلئے اس حکومت نے محض دو ماہ میں 85 روپے پٹرول اور 115 روپے ڈیزل مہنگا کردیا اور بجلی کے فی یونٹ میں 12 سے 13 روپے اضافہ کیا گیا اس کے علاوہ آئل اور گھی کی قیمتیں 500 روپے سے 650 روپے کلو پر جا پہنچیں اسکے علاوہ سبزیاں,دالیں,گوشت,فروٹ عام آدمی کی پہنچ سے دور ھونے لگا جس کی وجہ سے غریب آدمی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑگئے۔
اس حکومت کے آتے ہی ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ شروع ھوگئی اور شہری علاقوں سے 8 سے 10 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 18 سے 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے سخت گرمی میں عوام کی چیخیں نکلوا دیں وہ لوگ جو عمران خان کو مہنگائی کی وجہ سے بد دعائیں دیتے تھے وہ ان کی واپسی کی دعائیں کرنے لگے کہ کم از کم اس کے ھوتے ھوئے ذرا سی بھی لوڈشیڈنگ نہیں ھوئی۔
ملک میں اس وقت ایک عجیب سی بے چینی ہے عوام مہنگائی اور غربت کی وجہ سے سڑکوں پر آنے کو تیار بیٹھی ہے وزیراعظم پاکستان اور ان کی کابینہ کو مشیران اور بیوروکریسی سب اچھا ہے یا سب اچھا ھوجائے گا کی رپورٹ دے رہی ہے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں عام آدمی کا جینا مشکل ھوچکا ہے غربت اور بیروزگاری کی وجہ سے اجتماعی خودکشیوں کا احتمال ہے اگر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا اور صرف زبانی کلامی ہی عوام کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی گئی تو اسکے نتائج بہت برے ھوں گے جو شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ھو ملک میں سول نافرمانی شروع ھوجائے گی اور تمام حکمرانوں کو لے ڈوبے گی۔
وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف ہنگامی بنیادوں پر مہنگائی کم کرنے کی کوشش کریں اور بیوروکریسی کو عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کریں۔
ملک بھر میں ڈی سیز اور اسسٹنٹ کمشنرز اپنے اپنے اضلاع میں سخت چیک اینڈ بیلنس رکھیں اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹا جائے۔ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے وزیراعظم پاکستان کرپشن کے خاتمے کیلئے سخت اقدامات کریں اور کرپشن کرنیوالے چھوٹے بڑے کو نشان عبرت بنائیں ھمیں اس کیلئے چین کو بطور رول ماڈل اپنانا ھوگا کیونکہ کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے۔
اس کے علاوہ حکومت اور اسکے اتحادیوں سے دستہ بستہ گزارش ہے کہ جو کام عمران خان کی کابینہ اور ان کے اتحادیوں نے کیا وہ آپ نہ کریں اور عوام پر اپنے دروازے بند کرنے کی بجائے کھلے رکھیں کیونکہ کسی بھی وقت الیکشن کا بگل بج سکتا ہےاور اگر عوام کیساتھ موجودہ حکومت کا رویہ یہی رہا اور مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو عوام کے پاس آپشن کھلے ھوں گے اور عمران خان کا بیانیہ بازی لے جائے گا۔

پاکستان انشاءﷲ جلد فیٹف کی گرے لسٹ سے نکل جائے گا حکومت وقت اور اسپیشلی وزیراعظم شہبازشریف اور آصف علی زرداری کو چاہیئے کہ بجائے لعن طعن کے وہ دو قدم آگے بڑھیں اور فیٹف کا کریڈٹ عمران خان کو دیدیں اور سیاسی مقدمات بنانے سے گریز کریں اس سے اس تناؤ زدہ ماحول میں کچھ بہتری کی امید پیدا ھوگی۔
اس وقت ملک میں اگلے الیکشن کی تیاریاں تقریباً شروع ھوچکی ہیں اور تمام حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں براہ راست عوام میں جاچکی ہیں وزیراعظم پاکستان شہبازشریف مہنگائی کے جن کو قابو اگر قابو کرجائیں تو اگلے الیکشن میں ان کیلئے راہ ہموار ھوجائے گی پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لانا ھوگی کیونکہ مہنگائی بڑھنے کی بڑی وجہ پٹرولیم مصنوعات ہیں جس سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ھوجاتا ہے۔
حکومت کے اتحادیوں کو بھی چاہیئے کہ وہ وزیراعظم میاں شہباز شریف پر عوامی مسائل کے حل اور مہنگائی کنٹرول کرنے کیلئے دباؤ بڑھائیں تاکہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی پیدا ھو۔
رب کریم اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ صلیٰ ﷲ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے میرے ملک و قوم کو ترقی دے اور انہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ فرمائے۔آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

دعا زہرا کی عمر 15سے 16سال کے درمیان ہے: میڈیکل بورڈ کی رپورٹ

کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ نے دعا زہرا کی عمرکے تعین سے متعلق رپورٹ جمع کرادی۔

کپتان سمیت قومی ہاکی کھلاڑیوں کا نوکریاں دینے کا مطالبہ

کامن ویلتھ گیمز کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم کا ٹریننگ کیمپ ان دنوں لاہور میں جاری ہے لیکن...

ملک بھر میں سندھ کورونا کیسز میں سب سے آگے

ملک بھر میں یومیہ رپورٹ ہونے والےکورونا کیسز میں سندھ سب سے آگے ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ...

رمیز راجا اور سابق کرکٹرز کی ملاقات کی اندرونی کہانی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین رمیز راجاکی کراچی میں سابق کرکٹرز کے ساتھ ملاقات کی دلچسپ اندرونی کہانی منظر عام...

عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو چیلنج کردیا

سابق وزیراعظم عمران خان نے اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔