Home بلاگ وقت کی بے قدری سے بچیں

وقت کی بے قدری سے بچیں

 خواجہ آفتاب حسن

 معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں ہرمعیشت کو مشکلات کا سامنا ہے ، پاکستان اکیلا نہیں جو اس صور ت حالات سے دوچار ہے ۔ اس لیے آئی ایم ایف سے معاہدے میں تاخیر کے نتائج ملک کے لیے اچھے نہیں ہوںگے۔ دوسری جانب ہماری تمام سیاسی قیادت آئی ایم ایف سے نجات کے زبانی جمع خرچ کے علاوہ بلند وبانگ دعوے بھی کرتی رہتی ہے، لیکن عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف جس غلامی سے نجات کے ” تصور “ کو اقبال ؒ کے تصور پاکستان جیسا ثابت کرنے کے لیے بنی گالہ سے نکلے بغیر ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، ا س کو ماننے والوں کی بڑی تعداد کپتان کی ہر کال پر سڑکوں پردکھائی دیتی ہے لیکن کیا بڑے مقاصد محض پندرہ بیس منٹ نعرے بازی سے حاصل کیے جاسکتے ہیں؟۔ ویسے تو ہمیں ان معاشی تجزیہ نگاروں کی حب الوطنی پر کوئی شک نہیں اورہم ہوتے بھی کون ہیں ان پر شک کرنے والے۔ لیکن ہمیں آئی ایم ایف کو ناگزیر قرار دینے والا ہر بندہ نہ جانے کیوں سابق نگران وزیراعظم معین قریشی اور مکمل وزیراعظم شوکت عزیز جیسا لگتا ہے اوروہ یاد آجاتے ہیں۔ دونوں موصوف پاکستان کو معاشی بحران سے نکالتے نکالتے غلامی کے نئے طوق پہنا کریہ جاوہ جا۔ ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ تاریخ ملک وقوم سے غداری کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ لیکن یہاں صورت حالات تو قطعی مختلف دکھائی دیتی ہے ۔ ملک کو دوٹکڑے کرنے والے کو قومی جھنڈے میں سپردخاک کیا گیا۔ غدار قرار دیے جانے والے ایک صاحب لندن میں اوردوسرے دبئی میں اپنی اپنی باقی ماندہ زندگی گزار رہے ہیں اورآسائشوں کے اعتبار سے غربت کی لکیر کے نیچے بسنے والے کروڑوں پاکستانیوں سے بہت بہتر گزار رہے ہیں۔ انہیں تاریخ نے ملک وقوم سے غداری کی ابھی تک کوئی سزا دی اورنہ ہی کبھی کسی حکومت او ربرسراقتدار پارٹی نے ان سے حساب مانگا ۔ اورتو اور اپنے سیاسی مخالفین کو امپورٹڈ اورملک دشمن کہنے والے عمران خان کا بھی آج تک ان کی طرف نہ جانے دھیان کیوں نہیں گیا ؟؟۔

 ملک میں توانائی بحران نے جس طرح سراٹھارکھا ہے اوراس بحران میں کمی کے لیے حکومتی اقدامات اوراحکامات کو تاجر برادری کی جانب سے جس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑاوہ اپنی جگہ تاہم ریاست کی رٹ کے آگے سب کو جھکنا پڑا۔ اور سندھ کے بعد اب پنجاب میں بھی مارکیٹوں کورات 9بجے، ریستورانٹس وہوٹلوں کو رات ساڑھے گیارہ بجے بند کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد شروع ہوگیا ہے۔ ماضی میں بھی توانائی بحران کے باعث مارکیٹوں کے اوقات میں کمی کی گئی تھی اور اس پر بھی تاجر برادری نے خاصی مزاحمت کی تھی۔ حکومت چیختی رہی اوراب بھی چیخ رہی ہے کہ ساری دنیا میں مارکیٹیں رات آٹھ بجے بند کردی جاتی ہیں ۔ لیکن ہمیں اس سے کیا، ہم تو یہ بھی نہیں مانتے کہ دنیا بھر میں عالمی وبا کووڈ 19نے معیشتوں کو نقصان پہنچایا اوراس کے نتیجے میں منہگائی پیدا ہوئی۔ رہی سہی کسر حالیہ جاری یوکرائن، روس جنگ نے پوری کردی۔ ہم تو بس یہ بات جانتے ہیں کہ پاکستان میں جو بھی مسئلہ ہے وہ کرپشن کی وجہ سے ہے اورکرپشن بھی وہ جو صاحبان اقتدار کرتے ہیں۔ جو کرپشن ایک عام پاکستانی ہر لمحے کرتا ہے نہ تو عمران خان نے اپنے فالوورز کا دھیان اس جانب جانے دیا اورنہ ہی سماجی لحاظ سے ہمیں یہ احساس ہوا کہ اگر ایک دکاندارکم تولتا، غیر معیاری اشیاءبیچتا ہے، ناجائز منافع خوری اورزخیرہ اندوزی کرتا ہے۔ تجاوزات کی آڑ میں کاروبار کو پھیلاتا اوربجلی، گیس وٹیکس چوری کرتا ہے۔ ایک عام شہری اپنے ناجائز کام کے لیے سرکاری افسران کورشوت دیتا اورپھر خود ہی کرپشن کا رونا روتا ہے، اس سے بڑی خود فریبی کیا ہوسکتی ہے ۔ صبح دس بجے دکان کھولنے ، رات آ ٹھ بجے بند کرنے سے آخر نقصان کیاہوگا۔ لیکن ہمارے کاروباری حضرات کا یہ طے کرلینا کہ گاہک 12بجے کے بعد ہی گھر سے نکلتا ہے ،ا س سوچ پر توبس ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

 ہمارے مسائل اس قدر زیادہ ہیں اورچوں کہ ان کے حل کے لیے حکومتی وانتظامی سطح پر ہمیشہ غیر ذمہ دارانہ رویے کا سامنارہا شاید اس لیے ہم عمومی طور پر سرکاری احکامات اورحکومتی فیصلوں کو عام شہری کے ساتھ زیادتی تصور کرتے ہیں۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ ہمیں بہ حیثیت قوم وقت کی قدر نہیں ، جتنا ٹائم ہم غیر ضروری اورمنفی سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں اس سے کہیں کم کو اگر ہم مثبت کاموں میں استعمال کرنا شروع کردیں تو یقینا اس سے نہ صرف ہمارے مسائل میں کمی آئے گی بل کہ حکومتوں کے ساتھ ” کچھ نہ کرنے “ کا گلہ بھی جاتا رہے گا۔ ہمیں یاد ہے دوسال قبل کووڈ کے دوران جب کاروباری مراکز کے اوقات صبح دس بجے سے شام چھے بجے تک کیے گئے تو ایم ایم عالم روڈ جیسی کاروباری شاہراہ پر بھی دن کے اوقات میں چہل پہل نظرآتی تھی ۔ اوراس عالمی وبا میں دکاندار حضرات کے لیے اتنا ہی بہت تھا کہ کاروبار شروع توہوا۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم جب تک دیوار کے ساتھ نہ لگ جائیں اپنی بے جا ڈھٹائی نہیں چھوڑتے۔ لاک ڈاﺅن نے بھی کاروباری طبقے کو دیوار سے لگا دیا تھا اس لیے مارکیٹوں کے اوقات کار کے حوالے اسے اپنی بے جا ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑنا پڑی۔ اب بھی اگر وہ درپیش توانائی بحران کو سمجھیں تو اس سے قبل کہ بجلی کی بڑھتی لوڈ شیڈنگ ان کے اربوں کے کاروبار کو زمین بوس کردے اورانہیں ایک مرتبہ پھر دیوار سے لگنا پڑجائے، انہیں وقت کی قدر کرنا سیکھ لینی چاہیے ۔ کیوں کہ وقت کی بے قدری کا بدلہ خود وقت لیتا ہے اوروقت سے زیادہ کوئی بے رحم نہیں ہوتا۔ وقت جب آنکھیں پھیرتا ہے تو آنکھیں بچھانے والے آنکھیں دکھاتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو ذرا پیچھے ،بس دو اڑھائی ماہ پہلے کا سیاسی منظر نامہ یاد کریں۔ دوان اقتدار سلیکٹڈ کے طعنے سہنے والے اورایک ہی پیج پر ہونے کے دعویدار کا صفحہ کس طرح نہ صرف پھاڑ ا گیا بل کہ پرزے پرزے کردیا گیا!!!!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...