Home بلاگ کتاب دوست وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلمان طاہر

کتاب دوست وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلمان طاہر

علامہ عبدالستار عاصم/جہانِ قائد

شدید گرمی کے موسم میں صبح چار بجے میں آفس سے چل پڑا اور راستے میں ملتے ملاتے رات کو تقریباً بارہ بجے ہم پنجاب کے آخری ضلع رحیم یار خان میں خواجہ فرید یونیورسٹی کے وی سی جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد سلمان طاہر کی خصوصی دعوت پر یونیورسٹی کا وزٹ کیا تو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پورے احترام کے ساتھ گارڈ آف آنر پیش کیا اور پرتکلف دعوت پہ دعوت چلتی رہی۔ یونیورسٹی کیا ہے کہ ایک حیرت کا جہاں ہے۔ وی سی صاحب نے جنوبی پنجاب میں واقعی تعلیمی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ایسے محنتی اعلیٰ وژن رکھنے والے وی سی صاحبان پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں تعینات ہونے چاہئیں۔ یونیورسٹی کو اپنے پائوں پر کھڑا کر دیا۔ سچی بات یہی ہے کہ ایسی یونیورسٹیز اور ایسے محنتی بلکہ مثالی وی سی صاحبان ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یونیورسٹیز کے لیے قومی بچت کا کم از کم پانچ فیصد بجٹ تو ہونا چاہیے تاکہ ہمارے طلباء و طالبات عالمی سطح کے طلباء و طالبات کا مقابلہ کر سکیں۔ جناب وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب جناب حمزہ شہباز شریف تعلیم پر کافی توجہ دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے حالیہ بجٹ میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی ہے اور پنجاب میں علم دوست بیوروکریسی نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ کمیشنر بہاولپور ڈویژن جناب راجہ جہانگیر صاحب علم دوست شخصیت ہیں۔ علم پرور رہنما ہیں۔ ان میں کئی خوبیاں قدرت اللہ شہاب والی بھی موجود ہیں۔ وہ اہل علم، اہل کتاب اور اہل قلم کی نہ صرف عزت کرتے ہیں بلکہ اپنے دل میں احترام بھی رکھتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اپنے حالیہ بجٹ میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی رحیم یار خان کیلئے 80کروڑ روپے مختص کئے ہیں جن سے یونیورسٹی میں کیمیکل اور ایگری کلچر انجینئرنگ بلاک کا قیام عمل میں لایا جائےگا۔ بجٹ تقریر کے دوران صوبائی وزیر اویس لغاری کا کہنا تھا کہ 2022-23 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 80 کروڑ روپے کی لاگت سے کیمیکل اینڈ ایگری کلچر انجینئرنگ بلاک کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ بجٹ میں خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترقیاتی پروگرامز کی فنڈنگ مختص کرنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف، پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز فنانس ڈیپارٹمنٹ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی وزیر اویس لغاری کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے ترقیاتی پروگرامز کو شامل کرنا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا اس سے نہ صرف یونیورسٹی کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے بلکہ جنوبی پنجاب کے طلبہ و طالبات کو بہتر اور معیاری تعلیم کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا پنجاب حکومت کے اس علم دوست فیصلے کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔ قارئین کرام خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کا لگایا ہوا وہ پودا ہے جو روز بروز شجر سایہ دار کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ اگر اس کی تاریخ کی بات کریں تو گزشتہ دہائی میں صوبہ پنجاب میں 14 نئی یونیورسٹیز کا آغاز کیا گیا ۔ ان میں سے چند ایک نئی تعمیر ہوئیں اور کچھ ایسی بھی تھیں جہاں کسی بڑے کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ ان یونیورسٹیز کے مسائل پرانی یونیورسٹیز سے بالکل مختلف تھے۔ ان میں سے کسی کے بھی سروس statutes نہیں تھے۔ کہیں فنڈز کی عدم دستیابی سے فیس زیادہ تھی تو کہیں دور دراز علاقہ ہونے کی وجہ سے تحربہ کار فیکلٹی اور سٹاف دستیاب نہیں تھے۔رہی سہی کسر کرونا وباء نے پوری کر دی۔ الغرض مسائل ہی مسائل تھے۔ ان نئی یونیورسٹیز میں بہت کم ایسی ہیں جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود ترقی کی اور معاشی استحکام حاصل کیا اور اس وقت یہ ہی یونیورسٹیز ایک بہترین ماڈل کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں سے ایک قابل ذکر مثال خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجیئنرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے جو کہ جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں واقع ہے۔ تقریبا اڑھائی سال قبل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے جامعہ کا بطور وائس چانسلر چارج سنبھالا تو یونیورسٹی میں مسائل کا انبار تھا تاہم گزشتہ اڑھائی سالوں میں یونیورسٹی نے نہ صرف تیز رفتار ترقی کی بلکہ یونیورسٹی کوجامع اور مربوط پالیسیز پرعملدرآمد کی بدولت معاشی استحکام بھی حاصل ہوا۔ خواجہ فرید یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد 8ہزار سے بڑھ کر 16ہزارکا ہندسہ عبور کرچکی ہے،ترقیاتی کام کی رواں سال جون میں تکمیل کے بعد یہ تعداد 25ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے۔۔تیس سے زائد نئے بی ایس، ایم ایس اینڈ پی ایچ ڈی پروگرامز شروع کئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی اوپن کورس ویئر متعارف کروایا گیا جس پر سٹوڈنٹس کے لئے تمام کورسز سے متعلق لرننگ میٹیریل اور ریکارڈڈ لیکچرز موجود ہیں۔ تدریس کو مزید موثر بنانے کے لئے فارن یونیورسٹیز کے پروفیسرز کے لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔یونیورسٹی میں پی سی ون فیز ٹو کے تحت آٹھ اور یونیورسٹی کے اپنے فنڈز سے بارہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کا آغاز کیا گیا۔ سروس statutes منظور ہوئے۔انٹرنیشنل گرین میٹرک رینکنگ 2021 کے مطابق پاکستان کی انجنئیرنگ و پبلک سیکٹر یونیورسٹیز میں پہلے نمبر پر رہی۔ انٹرنیشنل ٹائم ہائر ایجوکیشن رینکنگ میں یونیورسٹی کا شمار دنیا کی تین سو سے چار سو بہترین یونیورسٹیوں میں ہوا۔ جب کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن امپیکٹ رینکنگ 2022 کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی نے کوالٹی ایجوکیشن کی کیٹگری میں انجینئرنگ یونیورسٹیز میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے جب کہ ملک بھر میں 10ویں اوردنیا بھر کی200 سے 300 بہترین جامعات کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن امپیکٹ رینکنگ 2022 کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی نے افورڈ ایبل اینڈ کلین انرجی کی کیٹگری میں ملک کی انجینئرنگ یونیورسٹیز میں پہلی، ملک بھر کی تمام جامعات میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ اسی طرح اس کیٹگری میں عالمی سطح پردنیا کی 101سے 200 بہترین یونیورسٹیز میں شامل ہوگئی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پر کام کے حوالے سے بھی ٹائمز ہائر ایجوکیشن امپیکٹ رینکگ میں خواجہ فرید یونیورسٹی نے ملک بھر کی انجینئرنگ یونیورسٹیز میں پہلے، دیگر تمام یونیورسٹیز میں چوتھے نمبر پر جگہ بنائی ہے۔ اسی طرح عالمی سطح پر خواجہ فرید یونیورسٹی کا شمار 201 سے 300 بہترین جامعات میں ہوا۔ اس یونیورسٹی میں پانچ ہزار سے زائد طلباء و طالبات وی سی صاحب کی شب و روز محنت کے بعد اسکالرشپ میں کے ساتھ پڑھ رہے ہیں اور اس یونیورسٹی میں کوئی بھی طالب علم کسی قسم کی سگریٹ نوشی یا دیگر چیزوں سے پاک ہیں۔ بلکہ یونیورسٹی کو سگریٹ نوشی سے پاک یونیورسٹی بھی کہا جا سکتا ہے اور دیگر تعلیمی ادارے بھی اس یونیورسٹی کی پیروی کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...