Home بلاگ سولر سسٹم لازم ہو چکا ہے

سولر سسٹم لازم ہو چکا ہے

ڈیرے دار
سہیل بشیر منج
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں حکومت وقت کو چند گزارشات بھیجی تھیں اب تفصیل کے ساتھ بیجنا چاہتا ہوں میں اپنے تمام قارئین کرام کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے مجھے اپنے فیڈ بیک سے نوازا
آج کے کالم میں حکومت سے فیکٹ اینڈ فیگرز کے ساتھ بات کریں گے میں نے گزارش کی تھی کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی گرین انرجی کے تجربات کیے گئے ہیں کامیاب رہے ہیں گرین انرجی سے فائدہ حاصل کرنے والے ممالک میں آسٹریلیا
جرمنی، کینیڈا ،چین اور جاپان سرفہرست ہیں جنہوں نے بہت پہلے سولر ،ونڈ مل ، ایٹمی بجلی گھر اور کچرے سے بجلی بنا کر ملکی ضرورت کو پورا کیا ہے
پاکستان میں لوڈشیڈنگ اور بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافے کی وجہ سے سولر سسٹم کے استعمال کے رجحان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو کہ خوش آئند ہے میں یہ تو یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وزیراعظم نے میرا کالم پڑھ کر یا میری تجویز پر عمل کرکے سولر سسٹم کی قیمتوں میں سترہ فیصد کمی کا اعلان کیا ہے خیر جو بھی ہوا وزیراعظم کی طرف سے یہ اعلان بہت خوش آئند اور قا بل تعریف ہے لیکن میں محترم وزیراعظم کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ جو شا ید وہ پہلے بھی جانتے ہوں گے کہ مارکیٹ میں ابھی تک سولر سسٹم نئے پاکستان والی قیمتوں پر ہی مل رہے ہیں
اس پر تاجروں کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ امپورٹ بہت مہنگے داموں کی ہوئی ہے لہذا ہم اسے حکومت کی تہہ کردہ قیمتوں پر فروخت نہیں کر سکتے میں نے ایک تاجر سے کہا جناب جان کی امان پاؤں تو ایک سوال پوچھ سکتا ہوں اجازت ملنے پر میں نے گزارش کی کہ جو کنٹینر آ پ نے ابھی منگوایا ہے اگر اس کے بعد سولر کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے تو کیا آپ
اپنی امپورٹ کے حساب سے کم قیمت پر فروخت کریں گے انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اگر آپ کی چائے
کی پیالی ختم ہوگئی ہو تو آپ جا سکتے ہیں
پھر میری ملاقات میرے درینہ دوست جناب ہمایوں اسلم رانا صاحب سے ہوئی وہ سولر سسٹم امپورٹ اور انسٹالیشن میں بہت مہارت رکھتے ہیں میں نے ان سے ایک گھر کی اوسط ضرورت کے مطابق سوال کیا تو انہوں نے بڑے مدلل انداز میں میری رہنمائی فرمائی ہے جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں
ان کے مطابق اوسط گھر میں ایک وقت میں دو پنکھے(تین سو واٹ) ،ایک ایئرکولر
(دو سو پچاس )
واٹ، پانچ ایل ای ڈی بلب (ایک سو پچاس )واٹ ایک درمیانے سائز کا فریج (چار سو ) واٹ اور ایک ایل سی ڈی(پچاس ) واٹ اس لحاظ سے ایک گھر کا اوسط خرچہ بارہ سو واٹ بنتا ہے یعنی
ایک گھر کو چلانے کے لیے ایک ہزار واٹ کا
سولر سسٹم لگا لیا جائے تو کافی ہوگا
اگر اس میں کوئی سویا دو سو واٹ اوپر نیچے ہو جائے تو اسے مینج کیا جا سکتا ہے
اور اسے موجودہ قیمتوں کے حساب سے دیکھیں تو ایک ہزار واٹ کا انورٹر (تیس ہزار) ،پینل (پچھتر ہزار ) ،سٹینڈ (پانچ ہزار )، تار (پانچ ہزار) ڈی بی بکس(آ ٹھ ہزار)
بیٹری(چوبیس ہزار) مزدوری اور ٹرانسپورٹ(دس ہزار ) باقی اخراجات کے لیے تین ہزار روپے رکھ لیں جو کل ملا کر ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے بنتے ہیں
اب حکومت اگر واقعی انرجی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوشاں ہے تو انہیں چاہیے کہ سب سے پہلے مرحلے میں گھریلو صارفین، سکول، کالج یونیورسٹیاں، بی ایچ یو ہسپتال، یونین کونسل کے دفتر ،شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے دفتر دوکانیں،دن کے اوقات میں کام کرنے والے دفاتر، اور اداروں کو فلفور سولر انرجی پر منتقل کرنے کی جامع حکمت عملی تیار کریں ایک لاکھ ساٹھ ہزار فی گھر کے حساب سے انہیں قرض ادا کریں یا سولر سسٹم لگا دیں اور تین سالوں کی اقساط میں گھروں سے یہ رقم واپس لے لیں جو تقریبا
چار ہزار چار سو چو تالیس روپے
ماہانہ بنتے ہیں اگر حکومت ایسا کر جاتی ہے تو وزیراعظم اور عوام کو لوڈ شیڈنگ فری پاکستان میں خوش آمدید
دوسرے مر حلے میں وہ تمام فیکٹریاں جو کم بجلی استعمال کرتی ہیں اور انہیں بھی سولر انرجی پر
منتقل کردیا جائے حکومت کے لیے یہ کوئی بڑا کام نہیں لیکن اگر ایسا ہوجائے تو یقین کر لیں کہ پاکستان کے کروڑوں ڈالر زرمبادلہ ماہانہ بچا سکتے ہیں جو بجلی کے کارخانوں کو چلانے کے لیے تیل امپورٹ کی مد میں خرچ ہوتے ہیں اس کے ساتھ
یہ بہت ضروری ہے کہ کہ جو فیکٹریاں مقامی سطح پر سولر پینل تیار کر رہی ہیں انھیں مزید سہولتیں دی جائیں
پاکستان میں تیار ہونے والے سولر پینل کی کوالٹی میں بھی بہت حد تک بہتری ہو چکی ہے ان فیکٹریوں کو چو بیس گھنٹے کام کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے مال تیاری کا آرڈر دیا جائے تاکہ جلد از جلد ملک کی زیادہ تر بجلی کی ضرورت کو سورج کی روشنی سیے پورا کرنے کی راہ ہموار کی جائے
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مافیا جنہوں نے بجلی کے کارخانے لگا رکھے ہیں وہ حکومت کو یہ کارنامہ سرانجام دینے دیں گے جس کا جواب ہے ہاں کیوں کہ اب آپ کے وزیراعظم شہباز شریف ہیں جنہوں نے ہمیشہ مافیاز کو آڑے ہاتھوں لیا ہے تاریخ گواہ ہے کہ شہباز شریف آج تک مافیاز کے ہاتھوں کٹھ پتلی نہیں بنے
مسلم لیگ کی حکومت کا یہ خاصا رہا ہے کہ انہوں نے ہردور میں مافیاز کو یوں کچلا ہے کہ انہوں نے صدیوں تک سر نہیں اٹھایا اور انہیں وطن عزیز کی خاطر پھر سے ایسا ہی کرنا ہوگا اور یقینا یہ ایسا ہی کریں گے قوم کو یقین رکھنا ہوگا کہ سال 2013
میں جب مسلم لیگ برسراقتدار آئی تھی تو اس وقت بھی ملکی حالات بہت گھمبیر تھے بہت سے مسائل کا سامنا تھا انہوں نے تب بھی ملک کو مصیبتوں اور اندھیروں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کیا تھا اور اب بھی یہ ایسا ہی کریں گے انہیں کرنا پڑے گا کیونکہ تبدیلی سرکار نے جس محنت اور لگن کے ساتھ ملک کو برباد کیا ہے اس کا ازالہ کرنے میں وقت لگے گا میں اپنے ہم وطنوں سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی بھی مایوس نہیں ہونا انشاء اللہ بہت جلد یہ مصیبتیں اور
مشکلات کا ٹل جائیں گی اور پاکستان پھر سے پوری آب و تاب سے دنیا کے نقشے پر چمکے گا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

ماہ زوالحجہ عبادات و فضیلت

تحریر رخسانہ اسد حج اسلام کا پانچواں رکن ہے حکم خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کیلے...

ڈائمنڈ جوبلی اور صوبائی محتسب

تحریر؛ روہیل اکبرمبارک ہو ہم اپنی آزادی کے 75 سال مکمل کر نے والے ہیں گذرے ہوئے ان سالوں کی ڈائمنڈ...

چھٹا رکن

تحریر؛ پروفیسر محمد عبداللہ بھٹیجب بھی کوئی اہل حق خدائے بزرگ و برتر کے کرم اورخاص اشارے کے تحت جہالت کفر...

چور نگری

تحریر؛ ناصر نقوی جب ایماندار، فرض شناس اور محنتی کو اس کی محنت و مشقت کا صلہ...

کراچی میں تیز بارش کب سے ہوگی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی

کراچی: محکمہ موسمیات نے شہر میں 2 جولائی سے تیز بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چیف...