Home بلاگ اختلاف رائے اور اتفاق رائے

اختلاف رائے اور اتفاق رائے

تحریر؛شاہد ندیم احمد
پاکستان بہت سے مسائل کا سامنا کررہاہے ،ایک طرف بھارت اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک پاکستان کے خلاف عالمی سازشوں میں مصروف ہیںتو دوسری جانب سیاسی افراتفری اور انتشار ملک و ملت کو بے پناہ نقصان پہنچارہا ہے، اہل پاکستان نفرتوں کی دلدل میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ انہیں نفرتوں کے چنگل سے باہرنکالنا آسان کام نہیں رہا ہے، اہل پاکستان کو قومی اتحاد و یگانگت کی لڑی میں پرونا ہماری سیاسی و فکری قیادت کی اہم ترین ذمہ داری ہے، لیکن ہماری سیاسی قیادت قومی مفاد میں اتفاق رائے کو فروغ دینے کی بجائے صرف اختلافات رائے کو ہوا دینے میں لگے ہیں ،یہ سیاسی مخالفت کو ذاتی دشمنی قرار دے کر سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ بھی کررہے ہیں اس کی قیمت بالآخر ملک قوم کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔
یہ حقیقت سیاسی قیادت پر بار ہا عیاں ہو چکی ہے کہ مخالفت اور مخاصمت کی سیاست ملک و قوم کیلئے انتہائی مضر ہے اور اس سے کسی کو فائدہ ہونے کی بجائے نقصان ہی ہوا ہے ، اس کے باوجود اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھتے ہوئے غلطیاں دہرائی جارہی ہیں،،موجودہ حکمران سابقہ حکومت کو ساڑھے تین سال مشکلات سے دوچار کرنے میں مگن رہے اور اب انہیں اپوزیشن چلنے نہیں دیے رہی ہے ،حالانکہ حکومت کے مشکل میں گرفتار ہونے کا سیدھا مطلب عوام کا مشکلات کے بھنور میں دھکیلنا ہے،اس کے باوجود اپنے حصول اقتدار میں عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے ، ایک طرف حکومت عوام پر سارا بوجھ ڈال رہی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانے کی سر توڑ کوشش کررہی ہے ،اس محاذ آرائی اور انتشار کا ساراخمیازہ باہر حال ملک و عوام میں سے ہی کسی نے بھگتنا ہے۔
ہر دور اقتدار میںسیاسی قیادت زبانی کلامی عوام کی خیر خواہی کے دعوئیدار ضرور کرتے رہے ہیں ،لیکن کسی ایک نے بھی عملی طور پر عوام کے مسائل کے تدارک میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ، موجودہ حکمران بھی اقتدار میں ملک وعوام کو بحرانوں سے نجات دلانے کے دعوئوں کے ساتھ آئے تھے،لیکن سیاسی لے کر معاشی بحران تک کاکوئی ایک حل بھی تلاش نہیں کر سکے ہیں ، ،ہر حکمران خود کو نجات دہندہ اور اپوزیشن کو ملک کیلئے خطرہ قرار دیتا رہاہے ،لیکن اس کے پاس ملک وعوام کے مسائل کے تدارک کا کوئی پلان موجودنہیں ہے ،اس لیے حکومت چلا پارہے ہیں نہ ملکی مسائل کا کوئی حل کر تلاش کر پارہے ہیں ،ایک بار پھر ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے ڈنگ ٹپائو پروگرام چلایا جارہا ہے ،لیکن ایساکب تک چلے گا ، کب تک معاملات عدالتوں میں زیر بحث رہیں گے ؟کب تک اندرونی اور بیرونی مداخلت کی دعوت دی جاتی رہے گی اورکب تک منتخب حکومتیں قبل از وقت تحلیل ہوتی رہیں گی؟ہمارے بحرانوں کا حل کسی نے بتاناہے نہ اس مشکل حالات میں سے کسی نے نکا لنا ہے،ہمیں اپنے بحرانوں کا خود ہی حل تلاش کر کے ان میں سے نکلنا پڑے گا ۔
اس وقت ملک جس مشکل دور سے گزر رہا ہے، اس میں سیاسی اتحاد کی اشدضرورت ہے،لیکن حکومت اور اپوزیشن محاذ آرائی کم کرنے کی بجائے اختلافات بڑھارہے ہیں،بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں کے مابین ٹکراؤ کی لہر اب ریاستی اداروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لینے کی سمت بڑھ رہی ہے، اس روش کو نہ صرف روکنے کی ضرورت ہے ،بلکہ جمہوریت کسی سانحہ کا شکار ہو نے سے بچانے کی بھی ضرورت ہے، اس ملک کی ساری سیاسی جماعتیں اور شخصیات اس ملک سے ہی تعلق رکھتی ہیں اور ان کا وجود اسی وقت قائم رہ سکتا ہے کہ جب ملک اور نظام قائم رہے گا، لہٰذا سیاسی جماعتوں کو کچھ وقت کے لیے اپنے اختلافات بھلا کر صرف اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ملک کو کٹھن مرحلے سے کیسے نکالا جائے، سیاسی اور معاشی استحکام پیدا ہونے کے بعد سیاست دان اپنے ذاتی تعصبات کا اظہار جس صورت میں چاہیں کرلیں، لیکن فی الوقت مل کر ملک کی حالت سدھارنے پر توجہ دیں تو عوام کا بھی سیاسی نظام اور جمہوری اداروں پر اعتماس بحال ہو جائے گا،بصورت دیگر حالات جتنی تیزی کے ساتھ بگڑ رہے ہیں ،انہیں سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا ۔
اس وقت بدلتے حالات کا مقتدر حلقوں کو بھی بخوبی احساس ہے ، اس لیے سیاست کے اونٹ کو کسی کروٹ بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے،یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، اس میں زیادہ دن باقی نہیں رہے ہیں، تاہم سیاسی قیادت سے زیادہ عوام فکر مند ہیں، عوام کو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس ملک میں سیاست کے یہی ضابطے رائج ہیں اور ان سب کی ترجیحات میں سب کچھ آتا ہے، سوائے ملک و عوام کے، اس لیے دعا کرنی چاہئے کہ ملک میں امن و امان قائم رہے اور سارا معاملات بغیر کسی جنگ و جدل کے اتفاق رائے سے اپنے انجام کو پہنچ جائیں، ورنہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے تو ہماری سیاست تو اس سے کہیں آگے کی چیز ہے، اس میں اختلاف رائے رکھتے ہوئے سب کچھ سے زیادہ بھی ممکن ہو سکتا ہے،لیکن اس بار عوام اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...