Home بلاگ دوسروں کے وعدے نبھانے کی نئی مثال

دوسروں کے وعدے نبھانے کی نئی مثال

روداد خیال

صفدر علی خاں

پاکستان میں عوام کی خوشحالی کے نعرے لگا کر اقتدار تک رسائی پانے والوں کی کمی نہیں ،لیکن اقتدار ملنے پر گزشتہ سے پیوستہ سے لیکر ماضی کی تمام حکومتوں نے عوام سے کئے جانے والے وعدوں کونبھانے کی بجائے انہیں مشکل میں ڈالنے کا چلن اختیار کیئے رکھا ،حالات کی ساری خرابیوں پر اپنے مخالفین کو ذمے دار قرار دینے کی روایت بھی تسلسل سے قائم رکھی جارہی ہے ،ہاں البتہ کسی نے عوام پر کم اور کسی نے کچھ زیادہ بوجھ ڈالا اس حوالے سے کچھ تفریق کی جاسکتی ہے مگر حقیقی ریلیف کے اور وعدے اور منصوبے کبھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکے۔ابھی حال ہی میں معاشی حالات کی بہتری کے لیے ہونے والے سخت فیصلوں پر اب تک عوام سہمے ہوئے تھے کہ ان پر تنخواہوں کی مدمیں نئے ٹیکس نے انہیں ہلاکر رکھ دیا ،دوسری طرف وزیرخزانہ غریب عوام کو نئے سپر ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی بات کررہے ہیں خود وزیراعظم بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کے دائرے کو صرف امیروں تک محدود رکھنے کا اعلان کرچکے ہیں ان سب کے باوجود عوام کی گھبراہٹ کا سبب کیوں ہے اس حوالے سے ماضی میں بولے جانے والے عمران حکومت کے عوام سے جھوٹ ہیں،سابق حکمران ہرآن یوٹرن لیتے رہے ،عوام کی عام اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھانے کے ہراقدام کو غریب دوست اور عام لوگوں کے ریلیف کاسبب قرار دیتے رہے ، جو ہر نئے ٹیکس کو صرف اشرافیہ تک محدود رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے غریبوں کا خون تک نچوڑنے کا اہتمام کرتے رہے ،اس تناظر میں اب نئی حکومت بھی عالمی مالیاتی اداروں کی سابق شرائط کو مکمل کرنے کیلئے سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہیں ،لیکن فوری طور پر ان سے عام آدمی کو مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے ۔ماہرین ان سخت فیصلوں کے مثبت اثرات کے جلد مرتب ہونے کی نوید سنارہے ہیں جبکہ دوسری طرف کل کی حکومت اور آج کی اپوزیشن شہباز شریف کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہی ہے ۔عوام کے ہمدرد بن کر ان سیاستدانوں کے رویوں پر غور کرتا ہوں تو سخت فیصلے کرنے کے حوالے سے سب کا اقتدار ملنے پر ایک سا رویہ اختیار کرنے کا چلن دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہوں ،احمد فراز بھی شائد اسی چلن کا ذکر کررہے ہیں ،۔

رفتہ رفتہ یہی زنداں میں بدل جاتے ہیں
اب کسی شہر کی بنیاد نہ ڈالی جائے

نئے شہربسانے کا عزم لیکر آنے والے حکمران ہمارے پرانے شہروں کے مکینوں سے بھی زندہ رہنے کا حق چھننے کی ڈگر اختیار کیوں کرتے ہیں ؟ ،عوام کے حقیقی ریلیف کی بہترین صورت کیوں نظر نہیں آتی ؟،قوم سے کئے جانے والے وعدوں کو فراموش کیوں کیا جارہا ہے ؟حکمران عوام دوست بجٹ لانے میں ہمیشہ ناکام کیوں رہتے ہیں ؟قوم پھر بھی انکے وعدوں پر آسانی سے اعتبار کیوں کرلیتی ہے ؟ان سب سوالات کو کھنگالنے بیٹھ جائوں تو دامن وقت میں گنجائش باقی نہ رہے لیکن مجھے اس بات کا اندازہ ضرور ہے کہ عوام اپنا بناکر محبت سے ظلم کرنے والے اپنوں کی ہر تاویل قبول کرلیتے ہیں ،وطن بچانے کے نام پر محب وطن عوام ہر مشکل کا سامنا اور مقابلہ صبر کے ساتھ کرنے لگتے ہیں ،عوام کو ہر امتحان میں سرخرو ہونے کا شرف حاصل ہے ،ایٹمی طاقت کے حصول کا مرحلہ آتا ہے تو عالمی پابندیوں اور” معاشی جبر” کا سامنا عوام کرتے ہیں ،قرض اتار کر ملک سنوارنے کی مہم کو عوام کامیابی سے ہمکنارکراتے ہیں ،پاکستان کی ساکھ کا مرحلہ درپیش ہو تو عوام عالمی برادری کے تمام مروجہ اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے مالیاتی مشکلات کا سامنا ڈٹ کر کرتے ہیں ،عوام کو پاکستان کا وقار سب سے عزیز ہے جس کے لئے وہ ہر قربانی دینے کیلئے تیار رہتے ہیں مگر ہر عیدقربان پر ریلیف کے منتظر عوام کو قربانی کے بکرے بنانے والا حکومتوں کا یہ چلن اب ختم ہونا چاہئے ،عام آدمی کے لئے ریلیف کی حقیقی صورت نکالنے کا اہتمام ناگزیر ہوگیا ہے ،شہباز شریف کی حکومت کی طرف سے کئی نئے ٹیکسوں کےساتھ عوام دوست اقدامات بھی کئے گئے ہیں،اسی طرح عمران حکومت نے بھی تو آئی ایم ایف کے اشارے پر عوام کا کچومر نکال کر رکھدیاتھا اب وہ کس منہ سے انہی فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں انکے یوٹرن طشت ازبام ہیں، پہلے پہل تو وہ آئی ایم ایف سے قرض لینے پر خودکشی کوترجیح دیتے رہے اور پھر اپنے اس موقف سے اس طرح یوٹرن لئے کہ پھر عوام کی بربادی والی ہر شرط مان کر قرض لینے کا معاہدہ کرلیاگیا ۔عمران خان کی طرف سے اب جولائی میں بڑے احتجاجی جلسے کا اعلان کرتے ہوئے پوری قوم کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے،دوسری طرف وفاقی حکومت کے ترجمان کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے کڑی شرائط پر قرض لینے کا معاہدہ عمران حکومت نے کیا اسے اگر ادھورا چھوڑتے ہیں تو دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ مشکل حالات میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے نام خارج کرانےکے عمل کو بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔قوم کے سامنے دونوں کے موقف پیش کئے جاچکے ہیں ،شہباز حکومت کے پاس اتنے بڑے فیصلے کرنے کے سوا کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا ،وہ بتدریج معاشی حالات بہتر بنانے کا عزم تو ظاہر کررہے ہیں مگر کوئی میکنزم بھی تو بتائیں ،ایک وجہ سے انہیں مزید وقت دیا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے تقریباً چارسال میں کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا تو اسکے مقابلے میں شہباز حکومت کے پاس تو اقتدار کے چند ماہ باقی ہیں ان حالات میں وہ ملک کی معیشت کو استحکام دینے کے لیے پاکستان کو درست ٹریک پر لاتے ہیں تو پھر انکی یہ سب سے بڑی کامیابی ہوگی تاہم موجودہ حالات میں تو ن لیگ کی مخلوط حکومت بھی پی ٹی آئی کی سابق حکومت کا تسلسل دکھائی دیتی ہے ۔ادھر ماہرین نے نواز شریف کی حکومت کا عمران خان کے دور حکومت میں مہنگائی کے حوالے سے موازنہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ نواز دور میں مہنگائی ،کرپشن کم، عمران حکومت میں قیمتیں زیادہ ، کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹے، نواز شریف نے قومی ترقی کی شرح 6.1 فیصد پر پہنچائی، عمران خان نے پہلے اسے منفی میں پہنچایا، اور پھر منفی 4 فیصد سے بھی تجاوز کرگئی ،تاہم ماضی میں عمران حکومت کا نواز شریف کے ادوار سے تقابلی جائزہ پیش کرنے کی بجائے موجودہ شہباز حکومت کی کارکردگی کو بہتر بناکر اسکا تمام سابق حکومتوں سے موازنہ ضروری ہے ،اگر حکومت آئی ایم ایف سے سابق حکومت کے وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے مشکل فیصلے کرسکتی ہے تو پھر عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے عمران حکومت کے تمام بڑے بڑے وعدوں پر عمل کرکے نئی مثال قائم بھی کی جاسکتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...