Home بلاگ دورس منصوبندی اور کارکردگی کا حسن

دورس منصوبندی اور کارکردگی کا حسن

منشاقاضی
حسب منشا

انسانیت سے محبت کرنے والوں کی آنکھیں جتنی حسین ہوتی ہیں ان کو پوری دنیا حسین ترین دکھائی دیتی ہے اور وہ جس شہر میں بھی چلے جائیں لوگ ان کی راہ میں پلکیں بچھا دیتے ہیں , انسانیت سے پیار اور محبت کرنے والوں کو انسانیت کی خدمت کے صلے میں بڑی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے اور داد و تحسین بھی وصول کرنی پڑتی ہے , روٹری کلب آف لاہور گیریزن سے میری وابستگی کا یہ عالم ہے کہ اس کا ہر فرد فرد فرید اور محبت سے سرشار دل میں اترتا چلا جاتا ہے نفرت کرنے والوں کی بھی اس دنیا میں کمی نہیں ہے اور ان کی دنیا اتنی ہی تاریک تر ہوتی ہے , تین روزہ کانفرنس میں جن لوگوں سے ملنے اور ان کے فرمودات سننے کو ملے ان میں سابق گورنر شہزاد احمد کو سماج میں توازن رکھنے والا عظیم انسان پایا اور ان کی اخلاقی حکمت عملی کا میں نہ صرف قائل تو پہلے ہی تھا اس دفعہ تو آپ نے گھائل کر لیا , سابق ڈسٹرکٹ گورنر دیپک تلوار اور ان کی شریک زندگی محترمہ رجنی نے کانفرنس میں روٹری انٹرنیشنل کے صدر شیکھر مہتا کی نمائندگی کا حق ادا کر دیا , روٹری کلب لاہور گیریزن کے آنے والے صدر تنویر ارشد اور سیکرٹری محمد کاشف کی حسین شخصیت نے مستقبل کی دورس منصوبندی کی وہ رسم ایجاد کی کہ سب روٹیرینز کی توقعات کو پر لگ گئے اور ان کی قوت پرواز شاندار کامیاب اور مؤثر نتائج دے گی ان شاءاللہ , علامہ اقبال نے ایک دفعہ کہا تھا کہ دنیا نہ جانے مجھے کتنے لمبے چوڑے القابات سے یاد کرتی ہے , حکیم الامت , شاعر مشرق , شاعر اسلام لیکن جب مجھے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو میری والدہ محترمہ گھر کے آنگن سے دوڑتی ہوئی جب میری طرف پیش قدمی جرتی ہوئی کہتی ہے کہ میرا بالی آ گیا تو دنیا کے سارے القابات مجھے اپنی والدہ کے لفظ بالی کے مقابلے میں ہیچ دکھائی دیتے ہیں اور آج میں نے سابق گورنر شہزاد احمد کو سابق صدر محمد اقبال ملک کو بالی کہتے سنا تو مجھے علامہ اقبال کی والدہ کا بالی یاد آ گیا مجھے یقین ہے کہ محمد اقبال ملک (بالی) کو بھی یہ خطاب والدہ محترمہ نے عطا کیا ہو گا , یہ برسبیل تذکرہ بات چل نکلی تو بالی کا پس منظر بتانا پڑا , جناب شہزاد احمد نے بتایا کہ ملک صاحب نے شیخوپورہ میں اپنے گاؤں کجر اور گرد و نواح کے مضافات میں خدمت انسانی کی ایک ایسی شمع روشن کر رکھی ہے جس کی لو ہر گھر کو منور کر رہی ہے , کمیونٹی سروس کا عمدہ نظام ملک صاحب کے منصوبہ ساز ذہن کے بطن سے تخلیق ہوا ہے جس کی تقلید ہر گاؤں میں ہونی چاہئیے , محترمہ رابیل بٹ کی کمپیوٹر ڈیزائننگ کے حوالے سے روٹری کلب کے لیئیے گراں قدر ایثار , محنت اور تعاون کی خوبصورت رسم اور کارکردگی کا حسن بھی نمایاں اور گراں مایہ تھا , ایسی روٹیرینز کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے. رابیل بٹ پر برناڈشا کا وہ گراں مایہ قول جس پر رابیل عمل کر رہی ہے کہا تھا کہ تم اپنے بچوں کو اپنے عہد کی تعلیم نہ دو , کیونکہ یہ تمہارے زمانے کے لیئے پیدا نہیں کیئے گئے اور آج آئی ٹی پر مہارت کمپیوٹر ڈیزائننگ کی صورت میں گراں قدر معانت ہے , آج کے دس سال کے بچے کی دس انگلیوں پر پوری کائنات رقصاں ہے , شہزاد صاحب میرا ساٹھ اس کے آٹھ کو نہیں پہنچ سکتا اس لیئے جدید عہد کے ابلاغی ویپنز کی تربیت میں ایک باکمال جواں سال استاد میری دسترس میں ہے جو زیکاس سکول سسٹم کے مینجگ ڈائریکٹر فہد عباس ہیں , اس لیئے ,

میرا کمال میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگ
ایک باکمال نوجوان میری دسترس میں ہے

محترمہ مریم اعجاز نے بھی رابیل بٹ کی بڑی توصیف بیان کی ہے , میں اپنے استاد گرامی فہد عباس سے ملواؤں گا آپ بصیرت افروز حیرت میں چلے جائیں گے , سابق گورنر شہزاد احمد نے آنے والے ڈسٹرکٹ گورنر بیرسٹر عدنان روحیلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ

کوئی کرئے تو تیرا تذکرہ کرئے
وگرنہ کوئی ہم سے گفتگو نہ کرئے
روحیلہ صاحب کا روٹیرنیز کے اجتماعی ضمیروں میں احترام کی ایک اور بھی وجہ ہے کہ آپ کے والد گرامی بھی روٹری انٹرنیشنل کے سابق گورنر کے عہدہ ء جلیلہ پر متمکن رہ چکے ہیں اور ان کے فرزند دلبند سے روٹیرینز کو جو توقعات وابستہ ہیں وہ بڑی دورس منصوبہ بندی کی کتاب کا دیباچہ ہیں , سابق گورنر شہزاد احمد کا یقین آفتاب و مہتاب سے زیادہ روشن اس لیئے ہے کہ یقین ہمیشہ صدیق پیدا کرتا ہے اور شکوک و شبہات نے ہمیشہ ابو جہل پیدا کیئے ہیں , سابق صدر میجر انجم رانا کی رعنائی ء خیال کی آبشار نور میرے آئینہ ء ادراک پر رنگ و نور سے ماحول کو بھی مزین و روشن کرتی رہی اور محترمہ سلمہ ہاشمی سے ملاقات بھی ماں کی نیم شبی دعاؤں کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی تھی آپ نے اپنا ماں میگزین PDF پیش کیا تو اس کا سرسری مطالعہ کا حاصل یہ تھا کہ

جہاں جہاں ہے میری دشمنی اس کا سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام وہ ماں سے ہے
سابق صدر مجیب قیوم کی جادو اثر شخصیت نے بھی شہزاد احمد پر متاثر کن اثرات چھوڑے اس کے علاوہ خوبصورت عادتوں کے دلفریب عظیم انسان سابق صدر میاں صفدر حسین , روٹیرنین صابر نظامی کی طبع کی روانی بھی دریائے حیرت میں ڈال رہی تھی اور روٹیرین چوھدری ساجد حمید سابق گورنر روٹری انٹرنیشنل انتھونی رچرڈز کو پاکستان کی عبقری فکری دانشوروں میں ان کا شمار سر فہرست کیا جاتا ہے جنہوں نے انسانیت کا احترام اور دکھی لوگوں کی مسیحائی کی دلفریب رسم ایجاد کیں ہیں سلیقے اور قرینے کے لوگوں کے سینے میں دھڑکنے والے دل کی سرخ دھڑکنیں انسانیت کو سکون اور فنون لطیفہ کی ہر اصناف سے انصاف کی دھنیں ترتیب دیتی ہیں , ان سے مل کر دوگونہ مسرت کا احساس روح کو مسرور کر دیتا ہے , ہر سال اپنے عمل کے کھیت سے فصل اس لیئے اٹھاتے ہیں کہ انہوں نے زمین میں محنت کا بیج بھی ڈال رکھا ہوتا ہے , میں روٹری کلب آف لاھور گیریزن کی صدر محترمہ مریم اعجاز کی مسیحائی سے بہت متاثر ہوں جس کی زندگی سلیقے اور قرینے سے عبارت ہے , تین روزہ روٹری کلب کی کانفرنس میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا اور مجھے جو پذیرائی سابق گورنر روٹری کلب آف لاہور گیریزن فضیلت مآب جناب شہزاد احمد نے دی میں ان مسرت آلود لمحات کو تازیست فراموش نہیں کر سکتا , اسسٹنٹ گورنر عبدالحلیم صاحب کے والد گرامی کو دیکھا اور ان کے احترام میں ہم سب اس لیئے کھڑے ہو گئے تھے کہ وہ ایک عظیم استاد ہیں , جسم کے لیئے ہمیں ڈاکٹر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور دماغ کے لیئے استاد کی اور دنیا میں صرف ان لوگوں کو عزت و عظمت حاصل ہوئی جنہوں نے استاد کا احترام کیا اور اس احترام کو دیکھ کر میں ان تمام روٹیرینز کو سلوٹ کرتا ہوں , گورنر انٹرنیشنل روٹری کلب سیف اللہ چوھدری استاد کے احترام میں اور جناب شہزاد احمد پیش پیش تھے اور مجھے معلوم ہو گیا ان لوگوں کی کامیابی کا راز کیا ہے اور آج وہ راز طشت از بام ہو گیا کہ وہ سکندر اعظم کی طرح ارسطو کی عزت کرتے ہیں اور بقول بریکلے , میں بغیر سوچھے سمجھے ارسطو کو سکندر کہہ سکتا ہوں مگر ہزار بار سوچنے کے باوجود بھی سکندر کو ارسطو نہیں کہہ سکتا آج میں نے جو منظر استاد کے احترام میں روٹیرینز کا دیکھا ہے ان سب کی عَظمت کے سامنے میرے دیدہ و دل جھکتے ہیں , میجر انجم رانا صاحب سے ملاقات کا تذکرہ ہو چکا ہے وہ دیر تک ماں کی عظمت کے قصیدے سناتے رہے جس سے روحانی مسرت محسوس ہوئی , عام آدمی کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی کی محرکہ محترمہ مریم اعجاز صدر روٹری کلب آف لاہور گیریزن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے چوھدری سیف اللہ اعجاز ڈسٹرکٹ گورنر روٹری انٹرنیشنل ڈسٹرکٹ 3272 پاکستان کے دست مبارک سے تالیوں اور داد و تحسین کی بازگشت میں شیلڈ وصول کی تو مجھے محنت کی افادیت کے معانی سمجھ میں آئے ارسطو نے کہا تھا اپنے اعضا کو محنت و مشقت کا عادی بناؤ ہر چند کہ خدمت گار موجود ہوں , حوادث زمانہ سے اگر وہ نہ رہیں تو تم بے دست و پا رہ جاؤ گے میں نے ہمیشہ اس قافلے کے لوگوں کو انسانی خدمت کی شمع فروزاں کرنے میں مصروف پایا اور سابق گورنر جناب شہزاد احمد صاحب کے تجربات سے مریم اعجاز نے استفادہ کیا , شہزاد احمد نہ خود بیکار بیٹھتے ہیں اور نہ اپنے ساتھیوں کی زندگیوں میں مشکلات پیدا کرتے ہیں , مجھے مریم اعجاز نے بتایا کہ محترم شہزاد احمد سے ہی میں نے سب کچھ سیکھا ہے کہ جتنی محنت کرو گے اتنا صلہ پاؤ گے اس لیئے میں نے خود کو اہمیت دینے کی بجائے اپنے کام کو زیادہ اہمیت دی ہے , یہاں میری ملاقات محترمہ نوشابہ شہزاد سے مریم نے کرائی اور ان کی خدمات کے انبار لگا دیے , واقعی محترمہ نوشابہ شہزاد کی چارہ سازی کا منفرد انداز و اسلوب ہے اور وہ بھی خدمت خلق کو عبادت سمجھتی ہیں ہمارے ملک کی نامور شاعرہ جس کا شہرہ ء آفاق شعر تو میں نے حرز جاں بنا لیا ہے

ہم لوگ تیرے شہر میں خوشبو کی طرح ہیں
محسوس تو ہوتے ہیں دکھائی نہیں دیتے
میری مراد تسنیم کوثر سے ہے جو واقعی کسی کو دکھائی نہیں دی , اس کی شاعری کی پوری دنیا میں دھوم ہے اور ایک ہجوم ہمہ تن گوش رہتا ہے , آپ کا کلام مکہ میں بھی سنا جاتا ہے اور امریکہ میں بھی کیونکہ جدید عہد کے ابلاغی آلات نے حالات کو بدل کر رکھ دیا ہے , تسنیم کوثر کی خوبصورت شاعری نے میرے کانوں میں شہد و شیریں کی کشید سے زیادہ میٹھا رس گھولا ہے , پروین شاکر کے بعد دوسری بڑی مہک افزا شاعرہ ہیں , روٹیرینز لوگ کامیاب , بیدار اور ذہین ہیں اور ذہانت ایک نادر پودا ہے جو محنت کے بغیر نہیں اگتا , محترمہ مریم اعجاز اور نوشابہ شہزاد کی ذہنی ہم آہنگی مشکلات کو آسان کر دیتی ہے , میں نے کانفرنس کے اس اختتامی سیشن سے بھر پور لطف اٹھایا اور سارے مناظر اپنی آنکھ کی ڈبیا میں قید کر لیئے , یہ مسرت آلود لمحات فراموش نہیں کیئے جا سکتے کیونکہ لذت عارضی ہوتی ہے مسرت دائمی ہوتی ہے , روٹری کلب کی کانفرنس کے گفتگو طرازوں کے روشن کلمات مسرت پیدا کر رہے تھے اور لذت کام و دہہن پر مسرت جاوداں اور غالب تھی , میں جناب شہزاد احمد صاحب کا ہمیشہ ممنوں رہوں گا کہ آپ نے محترمہ مریم اعجاز کی استدعا پر رحمن فاؤنڈیشن کا دورہ کیا تھا اور آج بھی گردوں کی بیمایوں میں مبتلا بستر مرگ پر مریضوں کی آنکھیں امید کی کرن نہیں آفتاب کے طلوع ہونے کا انتظار کر رہی ہیں , میں ان کو یقین دلاتا ہوں جناب شہزاد احمد اور محترمہ مریم اعجاز ان کو ناامید نہیں کریں گے , کیونکہ بھرتری ہری نے کہا تھا سورج خود بخود پھول کھلا دیتا ہے چندرما آپ ہی آپ پانی برسا دیتا ہے اسی طرح نیک انسان بغیر کہے ہی خود بخود دوسروں کی بھلائی کے کام کرتا ہے , دوسرے سیشن میں اپنے مربی و محسن ڈاکٹر آصف محمود جاہ وفاقی ٹیکس محتسب کے خیالات سے اسفادہ نہ کر سکا جن کی توصیف و تعریف میں محترم جناب پرویز شیخ رطب السان تھے , بہر حال تین گھنٹے کی یہ صحبت سو سالہ ریاضت سے بہتر تھی اس لیئے ابھی تک اچھی سوسائٹی کا اثر زائل نہیں ہوا ,

صد سالہ دور چرخ تھا ساغر کا ایک دور
نکلے جو میکدے سے تو حالت بدل گئی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...