Home بلاگ حق کا انعام عقل سلیم

حق کا انعام عقل سلیم

منشاقاضی
حسب منشا

وہ قافلے , وہ کارواں , وہ جماعتیں , وہ ادارے , وہ تنظیمیں جن کے سربراہان کی دورس منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے بطن سے مثبت طرز و اسلوب جنم لیتا ہے , وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں , ان ہی جلیل القدر راہنماؤں میں انعام الحق سلیم کا بھی شمار ہوتا ہے , عوامی سوچ , فکری اپروچ , قلبی لگاؤ اور سماجی جذبات کی سرخ دھڑکن سے ترتیب پانے والی قیادت عوام کو ایک قوم بنانے کے لیئے گراں قدر قربانیاں دے رہی ہے , انعام الحق سلیم ایک حلیم , فہیم , شفیق اور رقیق القلب خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ہیں , ان پر ایک مفصل فیچر جو دس اقساط پر محیط ہے ایک سریل کی صورت میں شروع کیا جا رہا ہے , لوگوں کے غم اور خوشی میں موصوف کی شرکت اور سریع الحرکت کارکردگی کے عقب میں ہمالہ صفت کام خود بخود بولتا ہے , نام سے زیادہ کام پر اپنی توجہ مبذول رکھتے ہیں , ان لوگوں کو بھی مائل کرتے ہیں اور کام کی ترغیب دیتے ہیں جن کا ماٹو ہی عطا شاد کا یہ شعر ان کی ترجمانی کرتا ہے ,

کام کو چھوڑ کر نام کے پیچھے ہیں عطا
وہ شجر بوئے نہیں جس کے پھل مانگتے ہیں
انعام الحق سلیم کی حلیم طبیعت , اور شفیق مزاج کا حسین امتزاج خوشحال معاشرے کی تشکیل میں جزو اعظم کی حیثیت رکھتا ہے, طویل المدت تک مولانا عبدالستار ایدھی کے ساتھ دامن پھیلا کر مخیر لوگوں سے خیرات و صدقات جمع کیئے اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیئیے دسترخوانوں کا اہتمام کرتے رہے اس کے بعد آپ نے ڈاکٹر امجد ثاقب کا ثابت قدم ہوم ورک دیکھا تو اخوت کے چلتے پھرتے اشتہار بن گئے , اور اب میں ان کو ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی فاؤںڈیشن کے لیئے بھی کام کرتے دیکھ رہا ہوں آپ فلاحی کثیر المقاصد منصوبہ جات پر کام کرنے والے عظیم سماجی سائنسدان ہیں , خیبر سے کراچی تک , گلگت سے گوادر تک , سوات سے قلات تک ہر فنگشن میں آپ کو دیکھا جا سکتا ہے , اس حوالے سے ان کا کوئی جواب نہیں , شوکت خانم ہسپتال کے لیئے بھی آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں , پاکستانی عوام کو قوم میں بدلنے کے لیئے ایسے ہی راہنما کی ضرورت ہے , راہنما اور سیاسدان میں فرق یہ ہوتا سیاستدان آنے والے انتخابات کے بارے میں سوچتا ہے اور راہنما آنے والی نسلوں کی اصلوں کی فصلوں کو شاداب کرتا ہے , اس لیئے انعام الحق سلیم کی عقل سلیم دورس نتائج اور عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے , دکھی انسانیت کی فلاح اعر معاشرے کی اصلاح کے لیئے مخیر لوگوں کے سامنے دست سوال بھی دراز کرنا پڑے تو اس میں معمولی بھی تامل نہیں برتا جا سکتا , , انعام الحق سلیم کی کارکردگی کی بلندی کا یہ عالم ہے کہ اوج ثریا بھی شرمسار ہو جاتی ہے , بڑی شان استغنا کے ساتھ فنڈز کے لیئے دست سوال دراز کرتے ہیں کہ دینے والا عمر بھر آپ کا ممنون احسان رہتا ہے , اخوت کا مرکزی دفتر سے نیچے دوسرا دفتر 16 سال تک انعام الحق سلیم ہی گھر کے ڈرائنگ روم میں رہا اور صج اخوت ایک بین الاقوامی سظح پر چھوٹے کاروبار کے لیئے قرضہ دینے والی بہت بڑی فلاحی تنظیم ہے اور یہ بھی اعزاز اخوت فاؤنڈیشن کے چئیرمین کو جاتا ہے اور پوری دنیا میں نوبیل انعام کی نامزدگی سے پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور اب ایک اور فاؤنڈیشن جس کے صدر دنیا کے عجوبہ ء روزگار معالج ہیں جن کی جڑی بوٹیوں پر تحقیق اور گردوں کے مریضوں کے ڈائیلنسز روکنے کی مسیحائی کی تاثیر ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے دست شفا کا خاصہ ہے , آپ کے قرطاس اعزاز پر لاتعداد کامرانیوں کے سنگ میل ثبت ہیں , آپ کا طرز مسیحائی دنیا کے بڑے بڑے معالجین سے انوکھا ہے , انسانینت کے لیئے حق کا انعام اور وقار کی عقل سلیم کا امتزاج آپ دیکھیں کتنا حسین ہے , انعام الحق سلیم بے شمار محاسن کا مجموعہ ہیں آپ اس گئے گزرے دور میں اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی ہیں اور رحمن کے بندوں کے دکھ کم کرنے میں شبانہ روز مصروف عمل ہیں آپ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ قرون اولی کے مسلمانوں کے قافلے کے آخری راہی ہیں , آپ کو دیکھ کر اللہ کا انعام یاد آتا ہے , رحمن فاؤنڈیشن کے ساتھ دل و جان سے مصروف عمل ہیں , میں خود بھی ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی روحانی عادات کا اسیر ہوں اور جب آپ کی مصروفیت دیکھتا ہوں تو سید عطاءاللہ شاہ بخاری اس لیئے یاد آتے ہیں کہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ ان کی آدھی . زندگی جیل میں اور آدھی ریل میں گزری تھی , لیکن شاہ جی کا ریکارڈ ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے سفری حوالے سے تو توڑ دیا ہے , آپ آج لاہور , کل اسلام آباد سے پشاور , پشاور سے جہلم , جہلم سے سرائے عالم گیر , یہاں سے فیصل آباد , ملتان , سکھر سے کراچی یہاں سے جدہ , جدہ سے مکہ , مکہ سے مدینہ اعر مدینہ سے دوبئی , دوبئی سے شارجہ ابوظہبی اور یہاں سے یو کے اور برمنگنھم اور مانچسٹر سے واپس پاکستان لاہور گیارہ سال مسلسل کرونا سے پہلے یہی معمول تھا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...