Home بلاگ سر سبز و شاداب شہر

سر سبز و شاداب شہر

منشاقاضی
حسب منشا

شہروں کی آبادی بڑھ جانے سے مسائل بڑھ جاتے ہیں , وہ لوگ کتنے خوش نصیب ہیں جو نئی بستیاں بناتے ہیں اور اہل دل اسے آباد کرتے ہیں , آج ہر آدمی پریشان ہے , آبادی کے بڑھتے ہوئے طوفان کے بطن سے خوبصورت خواب شرمدہ ء تعبیر ہو رہے ہیں ,

آرام سے کون ہے اس جہان خراب میں
گل سینہ چاک اور ڈبا ہے اضطراب میں

اس کیفیت اور حالت میں کہیں سے کوئی باد صبا کا خوشگوار جھونکا محسوس ہوتا ہے تو حیرت ہوتی ہے , جواں سال فہد عباس کی راہنمائی مسیحائی سے کم نہیں ہے , جس نے گلف گرین سٹی کا تصور و خیال ایسی شخصیت کو دیا جس نے اسے پیکر محسوس میں ڈھال دیا , جناب علی الصبا بستی ہاتھوں سے تعمیر کر رہے ہیں اور فہد عباس اس بستی کو دلوں سے آباد کر رہے ہیں , آج ہم نے جناب علی الصبا کی کارکردگی کا حسن اپنی آنکھوں سے دیکھا , ایک پرشکوہ تقریب کا اہتمام کسی منصوبہ ساز ذہن کی تخلیق تھی , جس میں پوری بستی آباد دکھائی دے رہی تھی اس پرشکوہ تقریب کی میزبانی جواں سال فہد عباس کے سپرد تھی جس نے سلیقے اور قرینے سے بے ساختہ آغاز کیا اور انتہائی چابکدستی سے اختتام کر کے سامعین کو ورطہ ء حیرت میں ڈبو دیا , مجھے حق گوئی اور بیباکی کے ایک ایسے پیکر متحرک کی اداؤں نے اپنا گرویدہ کر لیا جنہوں نے بستیاں بنانے والوں کی توقیر میں اضافہ کیا ہے انہوںے ایمانداری , دیانت اور گاہک کو اعتبار اعتماد کی دولت دی ہے میری مراد جناب ظفر عباس لک سے ہے وہ بہترین مشیر اور دلگیر خلوص اور بے شمار محاسن کا مجموعہ ہیں , جناب علی الصبا کی قیادت میں یہ قافلہ ء نو بہار اپنی منزل مراد تک پہنچ کر دم لے گا اور دنیا جان لے گی کہ گھروں کو آباد دلوں سے کیا جاتا ہے اور انہیں تعمیر ہاتھوں سے کیا جاتا ہے , اسی لیئے فہد عباس بار بار حدیث پاک کا حوالہ دے رہے تھے کہ ہاتھ سے کام کرنے والا اللہ کا دوست ہے اور میں اللہ کے ان دوستوں کو سلام کرتا ہوں جو معاشرے میں آبادی کا توازن قائم کرنے کے لیئے نئی بستیاں بنا رہے ہیں جہاں جدید عہد کی سہولت اور ضرورت کے اسباب کے ساتھ ساتھ جدید طرز بود باش کا ماحول موجود ہو گا , کشمیر , افغنستان اور پاکستان کی موسیقی کی عالمگیر زبان نے سامعین کے اجسام و ابدان میں ایک لرزش خفی پید کر دی تھی , اور محسوس ہو رہا تھا یہ بستی بنانے والے اہل دل لوگ ہیں کیونکہ محبتوں کی جگہ گھر ہوتا ہے اور باہر رہتے ہوئے بھی دل گھر میں رہتا ہے , جس طرح ہمارے ایک مہمان جناب سید ظفر حسنین زیدی اور جناب سید اعجاز مصطفی زیدی گھر سے فون آنے کی عجہ سے دبے پاؤں بزم خیال سے نکل گئے اور بہت معذرت خواہ تھے کہ وہ ایک دورس نگاہ جوں سال فہد عباس کی استدعا پر تشریف لائے تھے ان کی کمی جناب عبدالوحید چغتائی نے کی جن کا مشاہدہ و مطالعہ بہت زیادہ ہے , محترمہ ڈاکٹر زرقا نسیم غالب اپنا منصوبہ دل سے دل تک چھوڑ کر تشریف فرما تھیں اور میں سمجھتا ہوں زرقا غالب کی موجودگی اس شہر شاداب کی رنگینی ء بہار کو فزوں تر کرنے میں آسودگی کی نوید اور کامیابی کی کلید ہے , آپ کے سعادت مند فرزند انجینئر احمد نسیم کے دست ہنر سے بہت سارے منصوبے کامرانی تک پہنچے ہیں اور اب بھی وہ ایک بہت بڑے منصوبے پر کام کر رہے ہیں , آپ بہت نفیس ترین اور خوبصورت عادتوں کے دلفریب جواں سال فرزند ملت ہیں بلکہ فہد عباس کے اخلاص سے متاثر ہوئے ہیں , جناب عبدالوحید چغتائی صاحب کی قیادت میں اور فہد عباس کی راہننائی میں اس شہر سر سبز شاداب کا خصوصی دورہ ترتیب پا گیا ہے لذت کام و دہن کے ساتھ موسیقار کے دل کی سرخ دھڑکنوں سے ترتیب پائی گئی انسان کی عالمگیر زبان سے بھی لطف اندوز کیا گیا , واقعی کسی نے سچ ہی تو کہا تھا سوسائٹی کا اثر بیشک ایک بہت بڑا اتالیق ہے , ہیلتھ سوسائٹی ہو , ایجوکیشن سوسائٹی ہو یا بیشک ہاؤسنگ سوسائٹی ہی کیون نہ ہو تہذیب , تمندن , اور مثالی معاشرے کی غماز ہوتی , اس پرشکوہ تقریب میں پنجاب کی ثقافت کا پیکر متحرک گورایہ صاحب کی صورت میں پورے پنجاب کا چلتا پھرتا اشتہار تھا , فہد عباس کی استدعا پر تقریب میں عبقری , عسکری , فکری , فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور صنعتکار , ججز اور برقی ذرائع ابلاغ کے ماہرین نے شرکت کی , فیشن ڈیزائننگ کالج کی پرنسیپل محترمہ تنزیلا چوھدری نے بھی سبز و شاداب شہر کے محاسن کو خراج تحسین پیش کیا , اس موقع پر جن شخصیات کو یادگاری شیلڈیں دی گئیں ان میں جناب ظفر عباس لک , جناب عبدالوحید چغتائی , محترمہ زرقا نسیم غالب , جناب گورایہ اور گرین سٹی کے منصوبہ ساز ذہنوں کی خوبصورت تخلیق کو سراہتے ہوئے ان کی خدمات کے اعتراف میں یادگاری شیلڈیں بدست چیف ایگزیکٹو فضیلت مآب جناب علی الصبا کے دست مبارک سے دیں گئی , سید اعجاز مصطفی زیدی اور سید ظفر حسنین زیدی کے نام سٹیج سے بار بار پکارے گئے جنہیں یادگار شیلڈ دینی تھی ان کی مجبوری یہ تھی گھر سے فون آ گیا تھا اور ظفر صاحب نے ڈاکٹر سے وقت لے رکھا تھا اب وہ بھی فہد عباس کے ہمراہ نقیبہ آباد فیروز پور روڈ کا دورہ کریں گے , تین مرلہ اور پانچ مرلہ گھروں کی بکنگ بھی کروائی جائے گی , سفید پوش لوگوں کے لیئے آسان اقساط پر پلاٹ کا حصول ممکن بنا کر جناب علی الصبا نے تجارت کی تجارت اور عبادت کی عبادت کی خوبصورت رسم ایجاد کی ہے میں آپ کے اس منصوبہ کی کامرانی کے لیئے رفتار کن کی دعا دیتا ہوں ,

حنا بند عروس لالہ ہے خون جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے , معمار جہاں تو ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...