Home بلاگ پاک سر زمین کا نظام

پاک سر زمین کا نظام

زاد راہ ۔۔سیدعلی رضا نقوی

پاکستان کے نظام کی خرابیوں کو ہم سب اکثر آشکار کرتے ہیں یعنی غلط پارکنگ سے لے کر معاشرتی اقدار کو پامال کرتے ہوئے قوانین کی وائلیشن کرنے تک ہر شعبہ کی خرابی ہمیں ازبر ہے مگر ہم ان خرابیوں کے حل یعنی (سلوشن ) کی نشاندہی نہیں کرتے ،یورپ میں ملاوٹ نہ کرنے کے چلن کی تعریفیں کرتے ہم تھکتے نہیں مگر اسکے برعکس اپنی زندگی کو اس حوالے سے مثال بنانے کی کوشش تک نہیں کرتے ،معاشرتی برائیوں کے اس دائرے سے ہم کیوں نہیں نکل پائے، 75سال سے ہم قطار کی پابندی کرنے کا ہنر تک نہیں سیکھ سکے ،ٹریفک نظام کی وائلیشن کو تو ہم نے اپنا طرہ امتیاز بنالیا ہے ۔اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی شرم نہیں ہونی چاہئے کہ معاشرتی خرابیوں کے ہم سب ذمے دار ہیں ،انفرادی طور پر ہم نے جن خرابیوں کو سہواً غلطیوں کا نام دے کر اجتماعی بہتری کی جو توقع وابستہ کررکھی ہے وہ کار فضول ہے کیونکہ علامہ اقبال اس حوالے سے یہ بات کلیئر کرگئے ہیں ،ع

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہرفرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

ہر ایک فرد قوم کی تعمیر میں اپنا بنیادی کردار نبھارہا ہوتا ہے ،دنیا میں جہاں بھی قوموں کے عروج وزوال کی تاریخ کہانی لکھتی ہے تو اسکے افراد کی مجموعی سوچ اور انفرادی عمل ہی ان اقوام کی ترقی وتنزلی کی بنیادفراہم کرتا ہے ،
ملک کسی جغرافیائی یا ارضیاتی وجود کی سیاسی تقسیم کو کہا جاتا ہے۔ عموماً، ایک خودمختار علاقہ۔ یہ اِصطلاح ریاستی اقوام یا حکومت و قوم کے ساتھ تقریباً مربوط ہے۔عام زندگی میں یہ لفظ کبھی کبھار قوم اور ریاست دونوں کے لیے اِستعمال کیا جاتا ہے۔ ہاں البتہ، تعریفوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ملک کا انسانی شخصیت اور پہچان پر گہرا اثر ہوتا ہے، ملک نظام کا مجموعہ بھی ہوتا ہے جس پر ایک قوم کی بنیاد ہوتی ہے۔ کسی ملک کی معیشت کے پیش نظر اس ملک میں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کن مدوں اور زمروں کے خرچ کو ترجیح دی جائے۔ مثال کے طور پر ہر ملک کی اپنی دفاعی ضرورتیں ہوتی ہیں، جو فوج کی تنظیم اور اسلٰحہ کی خرید و فروخت، بری، بحری اور فضائی حدود کے تحفظ پر مبنی ہے۔ دوسری جانب اسی ملک میں تعلیم ایک اہم حصہ ہے ۔ یہ بنیادی اسکولزکی تعلیم سے لے کر جامعاتی سطح پر عائد ہوتی ہے ۔ کچھ ممالک جیسے کہ جرمنی میں تعلیم مفت ہے۔ نا صرف یہ فائدہ ملک کے شہریوں کے لیے ہے، بلکہ غیر ملکی باشندے بھی وہاں ان سہولتوں سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ عوامی صحت بھی کافی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے لیے ہر قسم کے امراض کی تشخیص، ان کے علاج اور ممکنہ آپریشن اور دیکھ بھال کا خرچ در کار ہوتا ہے۔ کئی ممالک جیسے کہ کینیڈا میں صحت کی تمام سہولیات ریاست کی ذمے داری ہوتی ہے، عوام کو اس تعلق سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ اسی طرح سے عوامی مقامات کا انتظام جیسے کہ سڑکیں، ہائی ویز ، عجائب گھر اور قومی یاد گار وغیرہ حکومت کی ذمے داری ہوتی ہے۔ ملک کی صورت حال اور فوری اور دیر پا ضرورتوں کے پیش نظر حکومتوں کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ طے کریں کہ قومی مفاد میں اس چیز پر زیادہ توجہ دیں، کس پر توجہ کم کریں اور کن معاملات یا اخراجات کو ذیلی زمروں یا مؤخر خرچ کے زمروں میں شامل کریں۔
اس تناظر میں اگر پاکستان کے موجودہ حالات پر غور کریں تو یہاں بے شمار وسائل کے باوجود ہر طرح سے بحرانوں نے اسے جکڑ رکھا ہے مالیاتی نظم و نسق کے بگاڑ کی حالت یہ ہے کہ عالمی تنہائی کے قریب پہنچ چکا ،دنیا کی نظر میں پاکستان کو مستحکم کرنے کے لئے مربوط عالمی نظام کے مروجہ اصولوں کی پیروی کرنا ناگزیرہے ۔اہف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے خارج ہوکر پاکستان کے دیوالیہ پن کی صورت حال سے نکلنے کی امید ہے جس کے لئے اب تک فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی تمام شرائط پر عملدرآمد ہونے کے باوجود ہم گرے لسٹ سے نہیں نکلے ۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ پاکستان نے اپنے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں جس کے بعد فیٹف کی ٹیم مستقبل میں پاکستان کا دورہ کرتے ہوئے اس بات کا تعین کرے گی کہ پاکستان نے سفارشات پر عمل کیا ہے یا نہیں۔اسی طرح پاکستان آئی ایم ایف کے لئے ملک میں مہنگائی کا ہوشربا طوفان برپا کردینے کے باوجود اسکے قرض کی سہولت سے محروم ہے ،پاکستان میں ریکوڈیک کی صورت خزانے موجود ہیں ،ملک بھر سے نت نئے گیس اور تیل کے نئے ذخائر دریافت ہورہے ہیں ،ملک کا بے مثال نہری نظام اور سونا اگاتی زرخیز زمینیں خوراک کے حصول میں خود کفالت کا باب روشن کررہی ہیں ،نئے بڑے ڈیمز نہ بناسکنے پر پانی کا بحران الگ مسئلہ ہے تاہم ان سب وسائل کے باوجود ہماری بدانتظامی نے ہمارے حالات اس نہج پر پہنچائے ہیں اس میں کسی بیرونی سازش کا کوئی عمل دخل نہیں بلکہ ہماری اپنی لاپروائی،غفلت اور بدانتظامی کا “کمال “ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو 75سال بعد بھی ہم ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت بھگدڑکا شکار ہیں ،زندگی کو اپنے اور دوسروں کے احترام کی صورت آسان بنانے کا ہنر اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی سیکھ لیں جو بلاامتیاز رنگ ونسل معاشرے کے ہر فرد کی عزت وآبرو کو مقدم رکھنے کیساتھ کمزوروں سے محبت کا درس دیتے ہیں،اگر ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات اور اپنے عمل کا موازنہ کریں تو ہمارے سر شرم سے جھک جائیں گے ،اس تضاد کو ختم کرنے کی خاطر اسوہ حسنہ سے رہنمائی لے کر ہم اپنے انفرادی چلن کو درست کرلیں تو ہجوم سے قوم بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی ،اخرت کے ساتھ ہم اس دنیا میں بھی سرخرو ہونگے اور پاک سرزمین کا نظام اس وطن کے سب بحرانوں کو ٹالنے کا سبب بنے گا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...