Home بلاگ خزانہ خالی ہے ؟

خزانہ خالی ہے ؟

روداد خیال

صفدر علی خاں

قیام پاکستان کے وقت جب واقعی خزانہ خالی تھا اس وقت قائد اعظم محمد علی جناح نے معاشی پلاننگ اس سلیقے سے کی کہ حکومتی نظم ونسق چلانے کے لئے رقم کا بندوبست کرلیا ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لئے فوری طور پر رقم کا انتظام کرلیا گیا ان مشکل ترین حالات میں قائد اعظم نے ہجرت کرکے پاکستان آنے والوں کو اپنایا ،ان ابتدائی مراحل پر قائد اعظم محمد علی جناح اور انکے جید رفقاء نے کسی موقع پر مایوسی کا اظہار نہیں کیا،کسی نے بھی خزانہ خالی ہونے کا انکشاف نہیں کیا ،مالیاتی معاملات کو خوش اسلوبی سے آگے بڑھایا گیا ،ہر طرح کی پریشانی کا سدباب کرلیا گیا تمام بحرانوں کو خوش دلی سے ٹالنے کا اہتمام کرتے ہوئے نئے پاکستان کی بنیاد ترقی اور خوشحالی کے اصول پر رکھی گئی ،تاہم اسکے بعد سے اب تک مسلسل حکومتیں ایک دوسرے پر خزانہ خالی کرنے کا الزام لگاتی چلی آرہی ہیں
کئی دہائیوں سے تسلسل کے ساتھ ہر حکومت کی تبدیلی پر خزانہ خالی ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ،عوام کی خوشحالی کے دعوے کرنے والے پاکستان میں اقتدار ملنے کے بعد بدحالی کی اتھاہ گہرائیوں میں عوام کو پھینک دیتے ہیں ،ہوشربا مہنگائی سے جینا محال کیا جاتا ہے ،اس وقت گزشتہ سے پیوستہ حکومت کا نیا ایڈیشن عوام کے سامنے ہے،اور یہ تقریبآ چالیس برسوں سے اقتدار میں رہنے والا طبقہ ہے جس نے عوام کو خوشحالی کے نام پر غربت ،مہنگائی ،بے روزگاری،دہشتگردی اور جہالت کے تحفے دیکر لہو رلایاہے ، قبل ازیں 2018ء میں اقتدار کی لمبی اننگ کھیلنے والی سیاسی جماعتوں پر “باریاں”لینے کا الزام لگاکر نئے پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنانے کانعرہ لگاکر اقتدار حاصل کرنے والے تو اقتدار کے جنونی نکلے ،اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہ کرنے پر قطعاً کوئی شرمندگی کا کسی موڑ پر ہلکا پھلکا اظہار تک نہ کیا اور پونے چار سال اقتدار انجوائے کرنے پر بھی خزانہ خالی ہونے کا ہی رونا روتے رہے ،اقتدار سے چمٹے رہنے کا جنون الگ انکی تو آخری دم تک اقتدار سے چمٹے رہنے کے چلن نے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ خراب کرکے رکھ دی ،نئے حکمران بھی حسب روایت تحریک انصاف کی جانے والی حکومت کو خزانہ خالی کرجانے پر موردالزام ٹھہراتے ہوئے آئے اور تیل کی مسلسل ہوشربا قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کا کچومر نکال دیا اب وفاقی وزیر داخلہ انکشاف یہ کررہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے ہمیں ایک ارب ڈالر کی خاطر تگنی کا ناچ نچا دیا ،انکے اقبالی بیان کے باوجود تاحال پاکستان کے معاشی حالات کی بہتری کے آثار نہیں کیونکہ اربوں ڈالر کی ریل پیل سے عوام کو کوئی سروکار نہیں انہیں تو بجلی کے بل ،پٹرول ،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہونے سے ہی ریلیف ملے گا جو “ہنوز دور است “
عوام کو ہر آنے والی حکومت خزانہ خالی ہونے کی ہی خبر دیتی ہے تو اس میں عوام کا قصور کیا ہے ،عوام تو ٹیکسوں سے ہر بار تسلسل سے خزانہ بھرتے ہیں اپنے خون پیسنے کی کمائی نچھاور کردیتے ہیں ،ملک سنواروں قرض اتارو کے نام پر تو کبھی نئے ڈیم بنانے کی درخواست پر اضافی رقم خزانے میں جمع کرانے میں پیش پیش ہیں ،مسلسل اپنی قومی ذمے داریاں نبھاتے ہوئے ہر طرح کے سرکاری محصولات کی مد میں تعاون کرتے ہیں ،پھر بھی خزانہ خالی ہونے کی وجہ سمجھ سے بالا ہے ،دراصل عوام بھی اس پوری خرابی کے ذمے دار ہیں بظاہر اس جمہوری عمل میں حکمرانوں کا انتخاب عوام اپنی پسند اور ناپسند کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں ،جمہوریت کے اس چلن میں زیادہ تر لوگ اپنی صرف پسند پر ہی اکتفا کرتے ہیں ،الیکشن کے مرحلے پر امیدوار کی اہلیت یا صلاحیت کو بھی مدنظر نہیں رکھا جاتا یہ بات شاعر نے کچھ اس انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ع۔
کوئی گر پوچھے یہاں میری پسند

پھول اچھا ہے کلی اچھی نہیں

اس شعر کے حوالے سے دیکھا جائے تو بعض اوقات پسند وناپسند بلاجواز بھی ہوتی ہے !
کہ پھول میں ایسی کیا خاصیت ہے جو کلی سے بڑھ کر ہے اور کلی میں کیا برائی ہے جو وہ ناپسند کی گئی ۔اسی طرح حکومت کے چنائو میں اکثر اسی طرح کی پسند وناپسند کا عمل دخل ہوتا ہے ،اور پھر پسندیدہ محبوب شخص کے ہر ستم کو بھی برداشت کیا جاتا ہے ،گزشتہ سے پیوستہ کالم میں خاکسار نے حکمرانوں کے عوام کا مسلسل خون چوسنے کے عمل پر زاہد عباس سید کے اس شعر سے وضاحت کرنے کی کاوش کی تھی کہ ع۔

نہ اپنے جور سے وہ باز آرہا ہے ابھی
نہ ہم ہی اسکے ستم سہہ کے تنگ آتے ہیں

اس لئے یہ طرفہ تعلقات کا معاملہ ہے اردو زبان کے لحاظ سے لفظ “عوام” جمع اور مذکرہے

جبکہ “حکومت “واحد اور مونث ہے ،یعنی عوام عاشق ہیں اور “حکومت “محبوبہ ہوئی اس لئے محبوبہ کی ہرفرمائش پوری کرنا ان 22کروڑ عاشقوں نے وطیرہ بنالیا جس پر محبوبہ کے پاس اپنےخستہ حال عاشقوں سے رقم اینٹھنے کا معقول ترین بہانہ تو پھر یہ خزانہ خالی ہونا ہی ہے ،جو شائد حکومت کے بنائو سنگھار کی ہی نذر ہوجاتا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...