Home بلاگ خواجہ فرید یونیورسٹی: روہی میں شجر سایہ دار

خواجہ فرید یونیورسٹی: روہی میں شجر سایہ دار

تحریر علامہ عبداالستار عاصم

خواجہ فرید یونیورسٹی

ایک بہتر، پر امن اور باشعور معاشرے کی تشکیل کیلئے علم کا حصول بنیادی شرط ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جو انسان کو ایک بہتر شہری بناتی ہے۔ ملازمت کا حصول آسان کرتی ہے، اچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتی ہے۔تعلیم ہمیں جانفشانی سے کام کرنے کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی و خوشحالی کی راہ پر بھی گامز ن کرتی ہے۔
کیونکہ قوموں کی تعمیر و ترقی کا انحصار تعلیمی کامیابی پر ہے تو ایسے میں سب سے اہم یہ ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کسی اچھے تعلیمی ادارے کا انتخاب کیا جائے۔ جہاں اساتذہ کرام تعلیم کے ساتھ ساتھ طالب علموں کی کردار سازی بھی کریں ۔ انہیں ایسی راہ پر گامزن کریں جو ان کے لئے ترقی کی منازل آسان کرے۔نت نئی ایجادات ، ٹیکنالوجی اور انسان کی تیز ترین ترقی نے ایسے تعلیمی اداروں کی طلب میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے جہاں طالب علموں کو زمانے کی ضروریات سے ہم آہنگ فنی تعلیم مہیا کی جاسکے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے بڑے شہروں میں تو کئی نامور جامعات ، کالجز اور فنی تعلیم دینے والے ادارے موجود ہیں ۔ اگرچہ کئی چھوٹے شہروں میں اس حوالے سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاہم جنوبی پنجاب کا آخری ضلع رحیم یار خان اس حوالے سے خوش قسمت رہا ہے کہ وہاں چند سال قبل ایک بین الاقوامی معیار کی انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیاہے۔
خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 2014 میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز ہوا تھا جب کہ موجودہ وزیر اعظم اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے 5 مئی 2018 کو رسمی طور پر افتتاح کیا تھا۔ 275 ایکڑ پر محیط اس یونیورسٹی کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ یہاں 7 سے 8ہزار طلباو طالبات داخلہ لیں گے اور علم کی پیاس کی بجھائیں گے۔ اس یونیورسٹی کی انفرادیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ تین صوبوں پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے سنگم پر واقع ہے اور اس کے اردگرد 200 کلومیٹر تک کوئی اور انجینئرنگ یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ اس یونیورسٹی میں داخلوں کے حوالے سے لگائے گئے اندازے غلط ثابت ہوئے اوریہاں مختصر عرصے میں داخلہ لینے والے طالب علموں کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
جامعہ کے ابتدائی چند سال مالی اور انتظامی طور پر مسائل میں گھرے رہے لیکن پھر ادارے کاک چارج ایک علم دوست اور مہربان شخصیت کے ہاتھ میں آیا جس نے2019 میں انگریزی کے ایک موقر جریدے کو دیئے گئے اپنے انٹر ویو میں اپنے ارادوں کا اظہار کیا۔ یہ شخصیت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر تھے جنہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی مدت میں ہی یونیورسٹی کو نہ صرف مالی خسارے سے نکال کر استحکام کی طرف لائیں گے بلکہ اپنے وسائل سے اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے ساتھ تمام شعبوں میں تیز رفتار ترقی بھی دکھائیں گے۔ ان کی قیادت میں یونیورسٹی میں تعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ خواجہ فرید یونیورسٹی قومی و بین الاقوامی رینکنگز میں نمایاں پوزیشنز سنبھالتی چلی گئی۔ مالی استحکام حاصل ہوا،سب سے زیادہ 24 این آر پی یوز جیتے گئے۔ اسٹیٹ آف دی آرٹ کلاس رومز، لیبز، ایگزیکٹو کلبز اور گیسٹ ہائوس جیسے شاندار شاہکار مکمل کئے گئے۔ غرض یہ کہ انہوں نے جو جو ارادے ظاہر کئے آج وہ محض ڈھائی سا ل میں مکمل ہو چکے ہیں۔
یونیورسٹی نے مالی استحکام حاصل کیا تو طالب علموں کیلئے بھی تعلیم کا حصول مزید آسان کردیا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کا ویژن ہے کہ کوئی بچہ پیسوں کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ ضرورت مند طالب علموں کے لئے سکالر شپس کی راہ آسان کی گئی۔ اس وقت جامعہ ایک ارب روپے سے زائد کے سکالر شپ بچوں میں تقسیم کر چکی ہے۔ یہ ایک خوشگوار اور انسان دوست اقدام ہے کہ جامعہ مںس زیر تعلم کوئی بھی یمے۔ بچہ ایسا نہںم جو ضرورت مند ہو اور اسے سکالر شپ نہ ملا ہو۔ سکالر شپ کلئےب کئی ملکی و غرٹ ملکی ڈونرز جامعہ کی صاف شفاف پالیسیز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فنڈز دے چکے ہں ۔ علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ مشکل معاشی حالات مںا خواجہ فرید یونو رسٹی آف انجنئرانگ اینڈ انفارمشنا ٹکنا لوجی کی جانب سے طالبات کلئے انجنئربگ پروگرامز مںی سو فصدر سکالر شپ کا اعلان کرنا ایک منفرد اور تعلم دوست اقدام ہے۔اس اقدام کا سہرا وائس چانسلرپروفسرآ ڈاکٹر سلماان طاہر کے سر جو نہ صرف قابل داد ہے بلکہ دیگر جامعات کے لئے مشعل راہ بھی ہے۔
اس فصلےک سے نہ صرف پسماندہ علاقے کی خواتنو انجنئرجنگ کے شعبے مںے نئی جہتںج متعارف کرانے کے قابل ہوں گی بلکہ ملکی ترقی کی رفتار کو بھی تزے تر کردیں گی۔ یونوکرسٹی سے موصولہ معلومات کے مطابق یہ سہولت ککلیکٹ انجنئرجنگ ، سول انجنئر نگ ، ایگریکلچر انجیئرنگ سمتو تمام پروگرامز مں، حصہ لنے والی ہونہار طالبات کو مسر ہوگی۔ اس احسن اقدام کو آگے بڑھانے کلئے اگر مخرٹ حضرات بھی مدران مںے آجائں تو یہ سلسلہ پورے ملک مںہ پھلن سکتا ہے۔
صرف یہی نہیں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے انجینئرنگ میں داخلہ لینے والے حفاظ کرام کیلئے بھی 100 فیصد سکالر شپ کا اعلان کررکھا ہے تاکہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو فنی تعلیم دے کر معاشرے کا ایک بہترین شہری بنایا جاسکے۔
خواجہ فرید یونیورسٹی تعلیم کے ساتھ تربیت کےلازمی اصول پر بھی عمل پیرا ہےیہی وجہ ہے کہ یونوررسٹی میں تعلیلر سرگرمواں کے ساتھ تربیبچ سیشنز کابھی باقاعدہ انعقاد کیا جاتا ہے۔ قحط کے دنوں مںی چولستان مںص آب فرید کمپ لگا کر روہی کے پریشان حال باسومں کو پانی کے کینٹیر اور دیگر ضروریات زندگی کی اشاچ پہنچائی گئں ۔ رمضان المبارک مںل افطار دسترخوان کا اہتمام کال گاھ جہاں پورا مہنہپ سکڑ وں افراد یومہا روزہ افطار کرتے رہے۔ ان اقدامات کا مقصد طالب علموں کو خدمت خلق کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
صوفی سنٹر کا قا م، تصوف کانفرنس، محافل نعت و قرآت ، مذہبی اجتماعات سے طلبہ کو دناں کے ساتھ دین کی سمجھ بوجھ بھی عطا کی جاتی ہے۔ یہ ایسے انسان دوست اقدامات ہیں جن کی بدولت توقع کی جاسکتی ہے کہ یہ تعلیم ادارہ روہی میں لگایا گیا ایک ایسا شجر سایہ دار ہے جس کی چھائوں سے آئندہ کئی نسلیں مستفید ہوں گی۔ اس کے علاوہ تعلیم کے حصول میں اساتذہ کی کاوشوں کے ساتھ والدین کی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ ماں کی گود تو بچے کی اولین درسگاہ قرار پائی ہے۔ اولاد کی تعلیمی کارکردگی میں والدین کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ لہذا اگر والدین بچے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کرتے رہیں تو وہ نہ صرف اپنی ذات میں بہترین انسان بنیں گے بلکہ ملک و قوم کیلئے سرمایہ ثابت ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...