Home بلاگ دلوں کو جیتنے والا مسیحا اور عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر...

دلوں کو جیتنے والا مسیحا اور عجوبہ ء روزگار معالج ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا طرز مسیحائی

منشاقاضی
حسب منشا

وہ قافلے کتنے خوش نصیب اور شفیق ہوتے ہیں جن کے امیر ملکوتی تخیل کے حامل ہوں جن کے میر کارواں سوز دروں کی دولت سے مالا مال ہوں اور ان کا وقار انسانوں کے اجتماعی ضمیروں میں خوش نظری اور احترام کا سزاوار ہو , آپ نے اگر ایسے لوگ نہیں دیکھے تو میں نے دیکھے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سےایسے عظیم انسان کو دیکھا ہے جن کی تعظیم کے لیئے لاہور کی تاریخی مسجد جس میں شاعر مشرق علامہ اقبال بھی فجر کی نماز ادا کرتے رہے ہیں , جامعہ آسٹریلیا مسجد کے خطیب اتحاد امت کے داعی مولانا عبد الرؤف ملک ممبر رسول پر جمعۃ المبارک کے موقع پر تقریر کر رہے تھے کہ دفعتأ آپ کی نگاہ اس عظیم المرتبت انسان کی آمد کی طرف اٹھ گئی آپ نے تمام نمازی حاضرین کو اس مسیحا صفت عظیم انسان کے لیئے ایستادہ کر دیا اور ہزاروں لوگ کھڑے ہو گئے تو کیا یہ توقیر , تعظیم اور احترام کسی دنیا دار نوکر شاہی کے کل پرزے سے ملاقات سے مل سکتا ہے , یہ شخصیت ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی تھی , جن کو دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے , زندگی میں آپ نے بس دلوں کو جیتنے کی ریاضت کی ہے اور یہی آپ کا مقصد حیات ہے , دنیا جیتنے والے تو اس دنیا سے دونوں ہاتھ خالی جاتے ہم ہر روز دیکھتے ہیں , سکندر اعظم فاتح ء عالم دنیا سے خالی ہاتھ گیا , صرف رحمن کے بندے ہیں جن میں چترال سے روز فاؤنڈیشن کے سربراہ جناب ھدایت اللہ , ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی اور جناب عبدالحمید بلند سماجی سائنسدان ہیں جنہوں نے رب کو جانے والے تمام راستوں کا انتخاب مخلوق خدا کے دل کی گزر گاہ سے گزر کر کیا ہے , , ڈاکٹر وقار احمد نیاز رحمن فاؤنڈیشن کے چئرمین کی حیثیت سے پاکستان میں اپنے 9 مراکز جنہیں ڈائیلنسز کے نام سے ہم جانتے ہیں گردوں کے مریضوں کا مفت علاج کرتے ہیں ایسا عجوبہ ء روزگار معالج آپ چراغ رخ زیبا لیکر ڈھونڈ کر لا دو تو میں آپ کی کاوش کو اللہ کی نوازش کہوں گا , چترال کے ایدھی ہدایت اللہ , منڈی بہاؤالدین کے ایدھی شاتک کے سربراہ جناب عبدالحمید بلند کی شفقت , احترام , تڑپ اور کردار کی بلندی کے اسیر ہو گئے ہیں ڈاکٹر وقار احمد نیاز سے آج لاہور کے مرکزی دفتر اور سنٹر میں دو عبقری شخصیات نے ملاقات کی اور مرکز کا دورہ کیا تو وہ ورطہ ء حیرت میں چلے گئے , جب انہیں معلوم ہوا کہ آپ جان کنی کے عالم میں پہنچے ہوئے جاں بلب مریضوں کو مکرر نوید زندگی اللہ تعالی کے کرم سے دیتے ہیں تو انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے , منطق و فلسفہ ماتم کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں , معزز مہمانوں نے مریضوں کے ہجوم میں بیٹھ کر مشاہدہ کیا کہ دنیا میں یہ واحد معالج ہیں جو گردوں کے مریضوں کے لیئے حوصلہ اور سہارا ہیں , مصطفی زیدی مرحوم ایک بہت عمدہ شاعر اور بیوروکریٹ ہو گزرے ہیں جن کا شہرہ آفاق یہ شعر کئی دوادین پر بھاری ہے ,

انہی پھتروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے سامنے کوئی کہکشاں نہہں ہے

جناب سید ظفر حسنین زیدی اپنا حافظہ کھو جانے اور یاداشت میں کمزوری کے عارضہ کو بھی خوش دلی اور زندہ دلی سے بتاتے ہیں اور وہ یہ نہیں چاہتے بقول غالب

یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

انہیں ماضی حسین ترین محسوس ہوتا ہے اس لیئے وہ چاہتے ہیں

یاد ماضی ثواب ہے یارب
نہ چھین مجھ سے حافظہ میرا

یہ بات تو برسبیل تذکرہ ہو رہی ہے , اصل بات تو یہ ہے کہ جناب دونوں عبقری شخصیات ڈاکٹر وقار احمد نیاز سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے رحمن فاؤنڈیشن کے لیئے اپنی خدمات پیش کر دیں اور ان شاءاللہ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے وہ نہ صرف ہاتھ مضبوط کریں گے بلکہ پاؤں بھی مضبوط کریں گے کیونکہ پاؤں کی مضبوطی کا تعلق ثبات قلب سے ہے. اللہ تعالی نے انسان کو درد دل کے لیئے اس لیئے پیدا کیا ہے کہ اس فانی دنیا میں اپنے کام سے اپنا نام لافانی بنا لیں , شاتک کے صدر جناب عبدالحمید بلند , روز فاؤنڈیشن کے سربراہ جناب ہدایت اللہ اور ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی سماجی سائنسدان جنہیں دنیا کی سات زبانوں پر عبور حاصل ہے , خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ہیں جنہوں نے مجھے جناب عاصم آفندی سے ملوایا تھا اور آج بھی ان کے ساتھ گزارے ہوئے خوشگوار لمحات دل کو اطمینان افروز وادی میں لے جاتے ہیں , ستمبر میں ہم سب روز کے مہمان ہوں گے اور روز فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا حسن آفتاب و مہتاب کو شرما دے گا , تعلیم , صحت اور ہنر پر یہ لوگ کام کرنے والے ملت کے محسن ہیں اور محسن دوسروں کے لیئے زندہ رہتا ہے , امریکہ میں مقیم جن کے ہزاروں مشتاق پاکستان میں ان کے زندہ ء جاوید کارناموں کی چمک دمک اپنے آئینہ ء ادراک پر رنگ و نور کی طرح فروزاں دیکھتے ہیں , ان کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں میری مراد جناب جاوید مشتاق سے ہے وہ اخوت یونیورسٹی کے لیئے خاموشی سے کار خیر کر رہے ہیں , وہ نام کی بجائے کام پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ یقین ہمیشہ صدیق پیدا کرتا ہے ہمارے ایک اور محسن ان کا ذکر نہ کروں تو یہ محسن کشی اور ناانصافی کے مترادف ہو گا اور وہ ہستی ہیں کسٹمز ہیلتھ کئیر سوسائٹی کے سرپرست اعلی جناب ڈاکٹر آصف محمود جاہ جنہوں نے تھر کو سر سبز و شاداب کر دیا اور اپنے احباب کے لیئے بھی وہ اپنے پہلو میں درد سے لبریز دل رکھتے ہیں , اگر سوسائِی کے جوانٹ سیکرٹری جناب اشفاق احمد کی مصروفیات میں جب کمی ہو گی تو وہ یاران کہن کے حالات سے بھی ضرور آگاہ کریں گے جنہیں مولانا عبدالرؤف ملک اپنی نیم شبی دعاؤں میں نہیں بھولتے , ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی مصروفیات کے بارے میں ڈاکٹر کیوان قدر خان ملی زئی آگاہ رکھتے ہیں , مولائے کریم ان تمام درد دل رکھنے والوں کے وجود کو سلامت رکھ , کوہ نور ٹی وی چینل کی اینکر پرسن محترمہ ڈاکٹر نبیہ خان سے بھی ملاقات ہو گئی جو ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی چارہ سازی کی اداؤں کو مسیحائی سے کم خیال نہیں کرتی ہیں , رمضان المبارک میں کوہ نور کی خصوصی نشریات میں نبیہ خان نے ہم سب کو وہ پذیرائی دی کہ اس کی یاد ہی مسرت انگیز ماحول تخلیق کر دیتی ہے , کیونکہ مسرت دائمی اور لذت عارضی ہوتی ہے , اور جب بھی ماضی کو پیچھے پلٹ کر دیکھتا ہوں تو خوشگوار یادوں سے قلب و روح مہک اٹھتا ہے , اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ

رات کی رانی کا جھونکا تھا یا کسی کی یاد تھی
دیر تک آنگن میرے احساس کا مہکا رہا

میری دعا ہے کہ

آپ سلامت رہیں ہزار برس
ہر برس کے دن ہوں پچاس ہزار

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...