Home بلاگ دل کے امراض کی شرح میں روز بروز اضافہ تشویش ناک امر...

دل کے امراض کی شرح میں روز بروز اضافہ تشویش ناک امر ہے‘ سادہ طرز زندگی اپنا کرامراض قلب سے بچا جا سکتا ہے ‘ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی دل کے مریضوں کیلئے امید کا مرکز‘حکومتی ہدایات کی روشنی میں پی آئی سی میں مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں‘

ایم ایس ڈاکٹر فاروق احمد

(تحریر: چوہدری امتیاز احمد)

صحت انسان کے لیے دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر ہے‘ یوں تو انسانی جسم کا ہر عضو اہمیت کا حامل ہے اور اس کا درست انداز میں اپنے افعال انجام دینا نہایت ضروری ہے تاہم دل وہ عضو ہے جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے‘غیرمتعدی امراض سے ہونے والی اموات میں سے تقریباً آدھی دل کی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں لہٰذا اس کی وجوہات اور احتیاط سے دنیا بھر کے عوام کو روشناس کرانے کیلئے ہر سال 29 ستمبر کو ”عالمی یوم قلب“ منایا جاتا ہے۔امراض قلب قیمتی انسانی جان کیلئے کس قدر جان لیوا ہیں اس کا اندازہ اس امرسے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں اس کی وجہ سے یومیہ 50 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں۔ پاکستان میں یہ تعداد 555 اموات یومیہ ہے‘ امراض قلب پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر سال دنیا میں ایک کروڑ 77 لاکھ افراد دل کی بیماریوں کے باعث جہان فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں 31 فیصد اموات کی وجہ دل کی بیماریاں ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ شرح 80 فیصد ہے۔ ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں 8 کھرب 63 ارب ڈالر کی خطیر رقم ہر سال دل سے متعلقہ بیماریوں پر خرچ ہوتی ہے جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 2030ءتک دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات ایک کروڑ 77 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ30 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہیں۔

دل کی بیماریوں اور اس سے ہونے والے جانی نقصان کی بڑی وجہ عام افراد کا ابتدائی علامات کو نظر انداز کرنا ہے جس کا سبب ان علامات کے بارے میں لا علمی ہے۔اور دوسری اہم وجہ دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد اس کا مناسب علاج معالجہ کی سہولیات کا نہ ہونا ہے۔پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ( پی آئی سی)لاہوردل کے امراض میں مبتلا مریضوں کی واحد علاج گاہ ہے جہاں ملک بھر سے دل کے امراض میں مبتلا مریض آکر اپنا علاج کرواتے ہیں‘صوبائی دارلحکومت لاہورکے سنگم میں واقع پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پنجاب میں دل کا پہلا انسٹی ٹیوٹ ہے۔10نو مبر 1984کولیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی خان (مرحوم) نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی“کا سنگ بنیاد رکھا،15اکتوبر1988کو اس کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔اکتوبر، 1990 کو پہلی دل کی سرجری کی گئی۔دل کے بہترین تربیت یافتہ 1850 ڈاکٹرز ‘ نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف اور547 بستروں پر مشتمل اس انسٹی ٹیوٹ میں دل کی بیماریوں کی تمام اقسام کیلئے بہترین دیکھ بھال اورعلاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔پی آئی سی کی طرف سے فراہم کردہ علاج غریب اور مستحق مریضوں کے لیے مکمل طور پر مفت ہے۔یہاں ماہر امراض قلب اور سرجنوں کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ٹیم ہے جو 24گھنٹے مریضوں کے علاج معالجہ پر مامور رہتی ہے۔انہی تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ٹیم میں ایک جانی پہچانی شخصیت ڈاکٹر فاروق احمدکی ہے جو کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ڈاکٹرفاروق احمدبطور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ‘پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی اپنی خدمات بطریق احسن سر انجام دے رہے ہیں۔ڈاکٹر فاروق احمد نے ایم بی بی ایس کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے کیا اور پنجاب بھر کے مختلف ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں حکومت پنجاب نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کو بطور ایم ایس پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی تعینات کیا۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پی آئی سی ڈاکٹر فاروق احمد نے ایک خصوصی ملاقات کے دوران بتایا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی عوام تیزی سے اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں‘ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 40 سال سے کم عمر افراد میں دل کے امراض کی شرح یورپی ممالک کی نسبت 10 گنا زیادہ ہے‘ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں 40 سے 45 برس کی عمر کے لوگوں میں دل کا عارضہ لاحق ہوتا ہے۔ دو دہائی قبل دل کے امراض امیر لوگوں میں تصور کئے جاتے تھے مگر اب سفید پوش اور غریب مریض بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں جس جس کی بڑی وجہ بڑھتی ہوئی تمباکو نوشی، بازاری کھانوں کا زیادہ استعمال اور ورزش سے گریز ہے۔

ایم ایس ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ صوبہ بھر میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی واحد سرکاری انسٹی ٹیوٹ ہے جو دل کے امراض کے علاج معالجہ کی بہتری علاج گاہ تصور کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں ایمرجنسی میں روزانہ کی بنیاد پر 1000سے 1200 مریض آتے ہیں جبکہ او پی ڈی میں 2500 مریض آتے ہیں۔ جن میں 100-150مریضوں کا ایڈمیشن کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہسپتال میں 100فیصد میڈیسن فری ہے جبکہ کارڈک آپریشن کی سرجری کا سامان مہیا کیا جاتا ہے۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اگلے 3 ماہ میں نئی ایمرجنسی کے لئے مزید بیڈز لگائے جائیں گے اس طرح ایمرجنسی میں بیڈز کی تعداد 200 کر دی گئی ہے۔ انجیو گرافی کی جدید نئی مشینیں بھی آچکی ہیں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کارڈیک ایم آر آئی اور سٹی انجیو کی مشینیں بھی کام کر رہی ہیں۔ ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو فوری طور پر ایمرجنسی میں سٹنٹ ڈالنے کی سہولت موجود ہے (پی آئی سی) میں فیلو شپ پروگرام کے تحت کارڈیک سی پی کے ذریعے دل کی دھڑکن کا علاج‘ قاعدہ دھڑکن کو کنٹرول کرنے کا علاج کیا جاتا ہے پی آئی سی پاکستان کی تاریخ کا وہ ادارہ ہوگا جہاں ہارٹ ٹرانسپلانٹ پر کام ہورہا ہے۔اس سے پہلے ہارٹ ٹرانسپلانٹ کی سرجری صرف بیرون ممالک میں ہی ہوتی تھی اب ہارٹ ٹرانسپلانٹ سرجری پاکستان میں بھی ہوا کرے گی۔ دل کے مریضوں کے لئے الیکٹرونک ہارٹ‘ ڈیوائس بھی لگائی جارہی ہیں پاکستانی عوام کے لئے خوشخبری کی بات ہے جو پی آئی سی واحد دل کے مریضوں کے لئے 500 بیڈز کا ہسپتال ہے ایمرجنسی کے 200بیڈز کے اضافہ کے ساتھ بیڈز کی تعداد 600 ہو گئی ہے۔

ڈاکٹر فاروق احمد نے بتایا کہ پنجاب حکومت سیکرٹری صحت پنجاب علی جان خان کی خصوصی کاوشوں سے ہسپتال میں صحت کارڈ سہولیات مریضوں کو فراہم کی جا رہی ہیں پنجاب کارڈیالوجی میں ہسپتال کے اندرونی اور بیرونی بلڈنگ کی دوبارہ رینوویشن کی گئی اور مریضوں کو تمام سہولیات دوبارہ ویسے ہی جیسے تھی فراہم کر دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں پارکنگ کے بڑھتے ہوئے مسائل کو دیکھتے ہوئے ایک جدید پارکنگ پلازہ کی پرپوزل محکمہ صحت کو بھجوا دی گئی ہیں اور جلد ہی اس پر کام شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال کے ساتھ قریب واقع گندے نالہ کی وجہ سے مریضوں اور لواحقین کو بدبو اور سانس کے مسائل کا سامنا جس کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے اس نالہ کو کورکرنے 70فیصد کام کر دیا گیا ہے اور آئندہ چند روز میں باقی کام بھی مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری صحت پنجاب علی جان خان کی ہدایت پر ہسپتال کو ماڈل آف دی آرٹ بنا دیا جائے گا۔ جہاں مریضوں کو جدید سہولتیں میسر ہو نگی اور ان کے لواحقین بھی مستفید ہوں گے۔ انہوں نے بتایا اس وقت ہسپتال میں 7انجیو گرافی مشینیں کام کر رہی ہیں، جبکہ 2سٹی انجیو گرافی مشین بھی مکمل طور پر فعال ہیں۔ اس کے علاوہ 7ایکومشینیں ہیں جو کہ روزانہ کی بنیاد پر 100کے قریب مریضوں کی ایکو کرتی ہیں۔ 80-100کے قریب مریضوں کی انجیو گرافی روزانہ ہوتی ہے جبکہ 35-50 مریضوں کی انجیو پلاسٹی یقینی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو جلد از جلد بائی پاس آپریشن کا ٹائم فریم کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کیلئے ایک ماسٹر پلان بھی بنایا جارہا ہے۔

ڈاکٹر فاروق احمدنے بتایا کہ 40کروڑ روپے کے نئے انسٹرومنٹ کی پرچیز کے لئے PC1منظور ہو چکا ہے۔ اور جلد ہی ٹینڈر جاری کر دیا جائے گا۔ جس سے دل کے مریضوں کو مزید جدید مشینوں کے ذریعے سہولتیں دستیاب ہو ں گی۔ انہوں نے بتایا کہ مریضوں کے لئے گزشتہ کئی ماہ سے بس سروس شروع کی گئی ہے جو مریضوں کو ہسپتال تک پہنچانے اور واپس گھر تک چھوڑتی ہے جس کا مقصد گھر بیٹھے مریضوں کی مرض کی پرائمری تحقیق کی جاتی ہے۔ جس سے انجیو پلاسٹی میں آسانی ہوتی ہے۔ مریضوں کے لئے پرائمری انجیو پلاسٹی کا نیا پلان شروع کیا گیا ہے جس میں مریضوں کو ایمرجنسی اسٹنٹ ڈال دیا جاتاہے تا کہ مریض کی جان بچائی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے انجیو گرافی 8گھنٹے روزانہ ہوا کرتی تھی اب 12 گھنٹے کر دی گئی اور انشاءاللہ آئندہ چند دنوں میں مریضوں کے بڑھتے رش کی وجہ سے 24گھنٹے انجیو گرافی سروس شروع کر دی جائے گی‘جس میں انجیو گرافی کی 7 مشینیں کام کررہی ہے اور مزید مشینیں بھی نسب کردی جائیں گی کارڈیک سی پی کی نئی مشینیں بھی تنصیب کی جائیں گی اس کے علاوہ ہسپتال میں داخل مریضوں کے لواحقین کے آرام اور بیٹھنے کے لئے مزید نئے ویٹنگ رومز بنائے گئے ہیں جہاں لواحقین کو تمام سہولیات دستیاب ہیں۔

ایم ایس پی آئی سی ڈاکٹر فاروق احمدنے کہا کہ ہسپتال میں کل 9 آپریشن تھیٹرز ہیں جن میں روزانہ اوپن ہارٹ سرجری کے 15 آپریشن ہوتے ہیں کیونکہ اوپن ہارٹ سرجری کے آپریشن بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور ایک آپریشن پر 6 گھنٹے سے زائد کا وقت لگتا ہے چھوٹے بچے جو دل کے مریض ہوتے ہیں چھوٹے بچوں کی ہارٹ سرجری کو بھی روزانہ کی بنیاد پر شروع کردیا گیا ہے۔ جس کے لئے پروفیسرز‘ ایسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسرز بھی دن رات محنت کررہے ہیں پی آئی سی میں وینٹی لیٹرز یعنی مصنوعی سانس کے لئے 60 وینٹی لیٹرز مشینیں کام کررہی ہیں ایمرجنسی میں وینٹی لیٹرزکی تعداد میں مزید اضافہ کر دیا گیاہے۔ جو کارڈیک سرجری کے دوران استعمال ہوتی ہیں۔

دل کی بیماری کے عارضہ کی علامات کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق احمد نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیاءکے ممالک میں دل کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو خطرناک صورتحال اختیار کر گیا ہے۔ دل کی بیماری کی واضح علامات میں پیروں میں سوجن، چکر آنا، شدید ذہنی دباو ¿، سر میں اکثر درد رہنا، سونے کے دوران دل کا تیزی سے دھڑکنا اور چلنے پھرنے کے دوران جوڑوں میں تکلیف اور آرام کرنے پر اس کا ٹھیک ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کے دل میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے۔ امراض قلب کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے اس کے علاوہ ذہنی دباو ¿، موٹاپا، غیرمتوازن خوراک، شوگر، بلند فشار خون، غیر متحرک طرز زندگی، بسیار خوری اور ورزش نہ کرنا دل کی بیماریوں کی بڑی وجوہات ہیں۔ خوراک میں گوشت کا بڑھا ہوا استعمال بھی دل کے امراض کا باعث بن رہا ہے۔

دل کے امراض سے بچاﺅ کے لیے احتیاطی تدابیرکا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق احمد نے کہا کہ ’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘ پر عمل کرتے ہوئے بازاری کھانوں اور تیزابی مشروبات سے پرہیز کریں‘ فاسٹ فوڈ سے مکمل طور پر اجتناب کرنا چاہیے‘ غذا کو سادہ بنائیں‘ اس میں سبزیوں‘ پھلوں اور قدرتی مشروبات کی مقدار بڑھائیں‘ تمباکو نوشی سے پرہیز کریں،امراض قلب سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ تو باقاعدگی سے ہلکی پھلکی ورزش کرنا اور فعال زندگی گزارنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق 1980ءسے ہر سال 29 ستمبر کو دنیا بھر میں ”عالمی یوم قلب“ منایا جاتا ہے‘ دل کی بیماریوں سے بچنے کا بہترین حل احتیاط ہے اس حوالے سے سکول‘ کالجز اور تعلیمی اداروں میں سیمینار منعقد ہونے چاہئیں اور میڈیا بھی اس کی تشہیر میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرے۔ آگاہی پروگرام منعقد ہونے چاہئیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں پر توجہ دینی چاہیے کیونکہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے سکولوں میں کم سے کم دو پیریڈ بچوں کے کھیل کود کے لئے مختص ہوں بچوں کی باقاعدہ سکریننگ کی جائے اگر کسی بچے کا وزن زیادہ ہوجائے تو اس کا فوری طور پر میڈیکل ٹیسٹ اور علاج کروالیا جائے خاص طور پر شوگر کے مریضوں کو بیکری کی چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دل کی صحت انسان کے اپنے ہاتھوں میں ہوتی ہے‘ طرز زندگی میں تبدیلی امراض قلب کی امکانی بیماریوں میں کمی اور دل کو بگڑنے سے روک سکتی ہے‘ تبدیلی سے مراد یہ کہ تمباکو نوشی سے کنارہ کشی، صحت بخش خوراک یعنی چکنائی سے مکمل پرہیز، پھل، سبزیوں، دالوں، مچھلی اور مرغی کا استعمال، گوشت سے دوری، تلی ہوئی، بیکری کی مزیدار چیزوں سے پرہیزکے ساتھ ساتھ جو دوا ڈاکٹر نے تجویز کی اس کا باقاعدہ استعمال اور ڈاکٹر سے رابطہ میں رہنے سے اس بیماری پرقابو پایا جا سکتا ہے۔

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی فارمیسی میں دوائیوںکی چوری کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ایم ایس پی آئی سی ڈاکٹر فاروق احمد نے کہا کہ سیکرٹری صحت پنجاب علی جان خان کی ہدایت پر سابق ایم ایس ڈاکٹر تحسین نے فارمیسی سے سٹنٹ‘ بیٹری ودیگر اور میڈیسن کی چوری کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی ‘ تحقیقات مکمل ہونے پر ایم ایس تحسین نے 3ملازمین کو معطل کر دیا تھا تاہم فارمیسی سے سامان کی چوری کی دوبارہ تحقیقات کرائی گئیں ہیں جس میں سامان غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے ‘اس حوالے سے مزید تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی نئی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے‘ جس کی رپورٹ آنے کے بعد ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انتظامی امور کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فاروق احمد نے کہاکہ سیکرٹری صحت علی جان خان کی ہدایات کے مطابق ہسپتال میں مریضوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں ‘اور تمام عملہ کو اس حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کردی گئیں ہیں کہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں اور اپنی ڈیوٹی کو عبادت سمجھ کر سرانجام دیں ‘کوتاہی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی‘انہوں نے کہا کہ کرپٹ افراد کی میری ٹیم میں کوئی جگہ نہیں ہے ‘کرپشن میں ملوث افراد کے ساتھ زیر وٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی‘کسی بھی مریض یا اس کے لواحقین کو عملہ کے ساتھ کوئی شکایت ہو تو وہ براہ راست مجھے یا کمپلینٹ سیل میں اپنی شکایت درج کروا سکتا ہے‘جہاں روزانہ کی بنیاد پر شکایات کا ازالہ کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو مزیدبہتری کی طرف لے کر جائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...