Home بلاگ رائے ریاض حسین کی انقلابی خود نوشت ’’رائے نامہ‘‘

رائے ریاض حسین کی انقلابی خود نوشت ’’رائے نامہ‘‘

اندازِ بیاں/ اسد اللہ غالب

ایک کامیاب ترین شخصیت جب اپنی زندگی کی آخری بہاروں سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہے تو اس شخصیت کو ایک دم خیال آتا ہے کہ میں نے ساری زندگی کیا کیا کِیا۔ کیا کیا کامیابیاں یا ناکامیاں سمیٹیں۔ ان کے پاس بے شمار تلخ اور شیریں یادیں، حقائق اور عجیب و غریب داستانیں جمع ہو جاتی ہیں۔ بڑے لوگ اور بڑی قومیں ہمیشہ اپنا آج کل کے لیے قربان کر دیتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے کئی بڑے لوگوں نے اپنی داستانِ حیات اپنی زندگی میں ہی تحریر کی اور لوگوں اس سے بے حد لطف اندوز ہوئے۔ بلکہ آنے والی نسلوں نے اسے مشعل راہ بھی بنایا۔ وطن عزیز میں انقلابی بچوں کی ٹیم تیار کرنے والا کوئی ادارہ ابھی معرضِ وجود میں نہیں آیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ سسٹم ستر سالوں میں کوئی بھی شعبہ قابل ذکر اور بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکا اور یہ شعبے نہ تو کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ناکام ہوئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں ایک انقلابی لیڈرشپ پیدا کرنے کے لیے بہت بڑے ادارے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں کوئی مردِ عمل میدان میں آئے اور اپنے نام یا اپنے والدین کے نام ایک انسٹیٹیوٹ قائم کرے جس میں ہر یونیورسٹی میں اول، دوم، سوم آنے والے طلباء اور طالبات کی تربیت کے لیے سو فیصد سہولتیں مفت ہوں اور ان کو سبق دیا جائے کہ آپ نے دنیا کی قیادت اور پاکستان کی قیادت کس طرح کرنی ہے۔ رائے ریاض واقعی ایک عظیم انسان ہیں۔ انہوں نے ذرہ سے آفتاب کا سفر کیسے طے کیا۔ یہ آپ ان کی آٹوبائیو گرافی رائے عامہ پڑھ کر ہی اندازہ کر سکیں گے۔ رائے ریاض سرزمین جھنگ میں جنم لیا۔ بے سروسامانی میں اپنی والدہ کے زیر سایہ اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہے اور کرتے کرتے چار وزرائے اعظم کے پریس سیکرٹری تک جا پہنچے۔ یہ ملک کے چار اہم وزیراعظم وزارتِ عظمیٰ کے دوران کیا کیا کارنامے سرانجام دیتے ہیں۔ ملک کا قومی سرمایہ برباد کرتے ہیں یا ملک کے لیے استعمال کرتے ہیں یہ ایک راز ہے جو رائے عامہ میں آپ کو ملے گا۔ اس کتاب پر پاکستان کے بے بدل صحافی، دانشور، کالم نگار، ادیب ، تجزیہ نگار، محقق، مدبر، ایک اخبار کے چیف ایڈیٹر جناب برادرم مجیب الرحمن شامی صاحب کمال کا تبصرہ لکھا ہے اور آج کل پاکستان میں کوئی کتاب شامی صاحب کی رائے کے بغیر چھپتی نہیں۔ اگر چھپ بھی جائے تو وہ بکتی نہیں۔ شامی صاحب کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج کل پاکستان کے مقبول ترین ادیبوں کے امام بن گئے ہیں اور ان کے بولے ہوئے اور لکھے ہوئے الفاظ کا لوگ احترام کرتے ہیں کیونکہ شامی صاحب اپنا ایک جملہ بھی ضائع نہیں ہونے دیتے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’رائے ریاض حسین کا تعلق جھنگ کے ایک راجپوت زمیندار گھرانے سے ہے۔ انہوں نے ایک دیانتدار اور بااصول والد اور عبادت گزار اور سلیقہ شعار والدہ کے سائے میں پرورش پائی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے تنہا یہ ذمہ داری نبھائی۔ پانچوں بھائیوں کو ان کی آغوش نے کندن بنا دیا۔ رائے صاحب مقابلے کے امتحان کے ذریعے سرکاری ملازمت میں پہنچے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ دوسرے چار بھائیوں میں دو ڈاکٹر ہییں اور دو تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ انہیں پاکستان کے چار وزرائے اعظم کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ایوان اقتدار میں بیٹھ کر انہوں نے وہ کچھ دیکھا اور وہ کچھ سنا جو بہت کم لوگ دیکھ اور سن پاتے ہیں۔ بڑے بڑے سیاست دانوں اور افسروں سے بھی پالا پڑا۔ بیرون ملک اہم ذمہ داریوں پر فائز رہے۔ اب انہوں نے اپنے مشاہدے اور تجربے کو الفاظ دے دیے ہیں۔ ان کے کسی تاثر یا اس سے اخذ کردہ نتیجے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے بیان کردہ واقعات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے لگی لپٹی رکھے بغیر وہ کچھ بیان کر دیا ہے جو انہوں نے دیکھا، جو ان کی سمجھ میں آیا، یا جو دوسروں کو کہتے یا کرتے پایا۔ ان کے اس مجموعے میں مطبوعہ کالم ہیں لیکن بہت کچھ غیرمطبوعہ بھی ہے۔ یہ راز تو شاید پہلی مرتبہ فاش ہو رہا ہے کہ کیپٹن صفدر وزیراعظم نواز شریف کے دل میں اس طرح کیسے سمائے کہ ان کی عزیز از جان صاحبزادی کے رفیق حیات بن گئے۔ رائے صاحب کے ہاں دھماکے بھی ہیں اور ذائقے بھی، مجھے اُمید ہے ان کی یہ تصنیف پاکستانی سیاست اور اس کے مختلف کرداروں کو سمجھنے میں مدد دے گی اور ان کو بھی اس صف میں کھڑا کر دے گی۔ جس میں قدرت اللہ شہاب، مختار مسعود اور الطاف گوہر جیسے مینار کھڑے ہیں۔‘‘ آپ اندازہ کریں کہ شامی صاحب نے ہر وہ بات کہہ دی کہ جو ایک دانشور کرنے کے موڈ میں ہے یا وہ کرنا چاہتا ہے۔ جناب حامد میر لکھتے ہیں کہ ’’رائے ریاض حسین وہ اپنی پروفیشنل لائف میں صحافیوں کو ملتے جلتے رہے۔ ایک صحافی کی حیثیت سے میں نے بھی وزارت اطلاعات و نشریات کے بہت سے افسران کو بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ رائے ریاض حسین صاحب کی انفرادیت ان کی سادگی اور عاجزی رہی ہے۔ میں نے انہیں یس سر یس سر کرتے نہیں دیکھا۔ وہ وزیراعظم کے سامنے بڑے ادب کے ساتھ حق بات کہہ ڈالتے تھے۔‘‘ علامہ عبدالستار عاصم ایک کرشماتی شخصیت ہیں۔ وطن عزیز کی فکری تعمیر و ترقی کے لیے دن رات وقف کیے ہوئے ہیں۔ میرا دعویٰ ہے کہ علامہ عبدالستار عاصم جیسے ایک ہزار نوجوان ایک بیوروکریسی میں یا انتظامی امور میں عملی طور پر آ جائیں تو پاکستان کو دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نہ صرف کھڑا کر سکتے ہیں بلکہ دنیا کی قیادت بھی کر سکتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’رائے عامہ ایک ایسی کرشماتی کتاب ہے جو اقتدار کے ایوانوں کے سر بستہ رازوں سے بھری ہوئی ہے۔ کتاب تاریخ کے اوراق پلٹتے ہوئے کبھی بے رحم حقائق سامنے لاتی ہے اور کبھی دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات سے قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ کتاب کیا ہے ایک حیرت انگیز دلچسپ واقعات اور عجیب وغریب قسم کی داستانِ حیات بھی ہے اور داستانِ عزم بھی ہے اور داستانِ پاکستان بھی۔ اس کتاب میں آپ کو پتا چلے گا کہ ہنڈا کمپنی کا مالک سائیکل سے ہوائی جہاز تک کیسے پہنچا اور پاکستان کے قومی ہیرو اور کروڑوں دلوں کے ترجمان محسن پاکستان کو ہیرو سے زیرو کن کن قوتوں نے کیسے کیسے انداز سے کیا۔ یہ کتاب حقائق در حقائق راز در راز کی داستان ہے۔ یہ کتاب ہر پاکستانی کو پڑھنی چاہیے اپنی زندگی میں کامیاب ترین افسر، ایک محب وطن انسان اور ایک بے لوث پاکستانی زندگی کے کن کن مراحل سے گزر کر کامیاب ہوتا ہے۔ انسان ساری زندگی ذریعہ نجات کے لیے کوشش کرتا رہتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے کوئی ایسی نیکی ہو جائے جو اس کے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے۔ یہ کتاب بھی موجودہ حالات میں لوگوں کے لیے خوشخبری ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے ہر بڑے بک سٹال پر دستیاب ہے۔ نہ ملنے کی صورت میں 0300-0515101 سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...