Home بلاگ ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر سے مکالمہ"۔۔۔۔ایک علمی اور تاریخی دستاویز!

ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر سے مکالمہ”۔۔۔۔ایک علمی اور تاریخی دستاویز!

” ساجد حسین ملک


مجھے پہلے جناب علامہ عبدالستار عاصم کا شکریہ ادا کرنا ہے کہ وہ اپنے اشاعتی ادارے قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل لاہور کے زیر اہتمام طبع کردہ کتب گاہے گاہے بھیجواتے رہتے ہیں۔ یہ ان کی کرم فرمائی ہے کہ وہ میرے بارے میں یہ گمان رکھتے ہیں کہ مجھے کتابوں کے مطالعہ کا شوق ہے۔ میں ان کی قدر افزائی پر ان کا ممنون ہوں، تاہم میں سمجھتا ہوں کہ کتابوں کے مطالعے کے لیے جس لگن ، توجہ ، محنت ، ایک خاص حد تک جسمانی توانائیوں اور زیر مطالعہ کتاب یا کتابوں کے مندرجات اور نفس مضمون کو سمجھنے ، پرکھنے اور اپنے اندر سمونے اور اس کے ساتھ وقت کی بہ افراط دستیابی کی ضرورت ہوتی ہے ، بلاشبہ میں اپنے اندر اس کی کمی اور فقدان پاتا ہوں۔ سچی بات ہے اس تمہید کا مقصد اپنی خود نمائی یا کسر نفسی نہیں بلکہ حقیقت حال کا اظہار ہے ۔ اس صورت میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ میڈیا اسٹڈیز کے سینر استاد پروفیسر ڈاکٹر وقار ملک کی دقیع ، وسیع المفہوم اور زندگی کے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی جامع تصنیف “ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر سے مکالمہ” کے بارے میں کچھ لکھنا واقعی ایک مشکل امر ہے۔
“ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر سے مکالمہ”ایک ایسی تصنیف ہے جسے قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کے سرورق پر چھپا ہوا کتاب کا عنوان “ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر سے مکالمہ۔۔۔۔زندگی کے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ایک علمی اور تاریخی دستاویز”یقیناخاصا طویل ہے۔ اس میں مکالمہ کا لفظ جلی حروف میں چھپا ہوا ہے جس سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ کتاب کا عنوان صرف “مکالمہ” بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم کتاب کاجو عنوان سرورق پر دیا گیا ہے طویل ہونے کے باوجود بڑا جامع اور پرمنعی ہے کہ اس میں ڈاکٹر وقار ملک کے ممتاز قانون دان ایس ایم ظفر سے کم و بیش 25برسوں کے طویل عرصے کے دوران کیے جانے والے مکالموں کا انتخاب شامل کیا گیا ہے۔ جو اس سے قبل روزنامہ “الااخبار”، ہفت روزہ “حرمت”، ہفت روزہ “زندگی”اور روزنامہ “پاکستان” جیسے موقر اخبارات اور جرائد میں چھپ چکے ہیں۔ یہ مکالمے /کالم وسیع الفہوم ، متنوع اور جامع موضوعات اور دور حاضر کے معاملات و مسائل اور حالات و واقعات کو اپنے اندر اس طرح سمیٹے ہوئے ہیںکہ ان کے بارے میں سرورق پر”زندگی کے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ایک علمی اور تاریخی دستاویز “جیسی تعارفی سطر تحریر کرنا ہر لحاظ سے موضوع ، مناسب اوربر محل لگتا ہے۔ کتاب کے مصنف پروفیسر ڈاکٹر وقار ملک کی اس کاوش کی تحسین کی جانی چاہیے کہ انھوں نے جناب ایس ایم ظفر سے ربع صدی پر پھیلے طویل عرصے کے دوران کے کیے جانے والے مکالموں کو بڑی عرق ریزی ، جانفشانی اور محنت کے ساتھ مختلف موضوعات کے تحت تقسیم کرکے کتاب میں شامل کیا ہے۔
کتاب کے بارے میں مزید لکھنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ جناب ایس ایم ظفر کے بارے میں ذہن کے نہاخانے میں موجود کچھ یادوں اور باتوں کوتازہ کروں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایس ایم ظفر (سید محمد ظفر ) کا نام میں نے پہلے پہل پچھلی صدی کے 60 کے عشرے کے وسط کے برسوں (غالباً 1965) میں سنا تھا۔ جب انھوں نے اس وقت کے فوجی حکمران جنرل (بعد میں فیلڈ مارشل) ایوب خان کی کابینہ میں نسبتاً ایک کم عمر وزیر کی حیثیت سے بطور وفاقی وزیر قانون منصب سنبھالا تھا۔ یہ حسن اتفاق تھا یا اس کی کچھ اور وجہ تھی کہ ان سے قبل لاہور سے ہی تعلق رکھنے والے نوجوان قانون دان شیخ خورشید احمد وفاقی وزیر قانون کے منصب پر فائز تھے۔ ان کا انتقال ہوا تو اس منصب کی پیش کش جناب ایس ایم ظفر کو کی گئی جنھوں نے اسے قبول کر لیا۔یہاں اس بات کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ ان سے قبل لاہور سے ہی تعلق رکھنے والے نامور قانون دان شیخ منظور قادر مرحوم بھی صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر قانون کے منصب پر فائز رہے تھے۔ صدر ایوب خان نے 1958میں اپنے نافذ کردہ مارشل لاء کے نتیجے میں 1956کے آئین کو منسوخ کیا تو ملک کے لیے ایک نئے آئین کی تیاری ان کے لیے ایک مجبوری تھی۔چنانچہ ایک نیا آئین تیار کیا گیا جو جون 1962میں نافذ ہوا ا سے 1962کے آئین کا نام دیا گیا جس کی تیاری میں شیخ منظور قادر نے بطور وزیر قانون اہم حصہ لیا۔ شیخ منظور قادر وفاقی وزیر قانون کے عہدے سے فارغ ہوئے یا فارغ کیے گئے تو انہیں مغربی پاکستان ہائی کورٹ (اس وقت تک متحدہ پاکستان قائم تھا جو دو صوبوں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان پر مشتمل ہوا کرتا تھا) کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔
ایس ایم ظفر کا ذکر کریں تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ ستمبر 1965کی پاک بھارت جنگ کا معاملہ جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لایا گیا آیا تو اس وقت جناب ذوالفقار علی بھٹو اگر چہ صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر خارجہ تھے لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے ان کی بجائے وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر کو بھیجا گیا (اس بات کا ذکر اس کتاب میں بھی موجود ہے)۔ جناب ایس ایم ظفر نے پاکستانی وفد کی بڑی کامیابی اور محارت سے قیادت کی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر پاکستان کی طرف سے دستخط بھی کیے۔
ایس ایم ظفر کے بارے میں ذہن کے نہاخانے میں جھانکوں تو کئی اور باتیں بھی یاد آتی ہیں۔ ان کی وجہ شہرت ایک ممتاز اور نامور قانون دان کی تو تھی ہی اس کے ساتھ اپنے دور کی نامور گلوکارہ محترمہ ملکہ پکراج کا داماد ہونا بھی ان کی شہرت کا سبب گردانہ جا سکتا ہے ۔ اسی طرح ملک پکراج کی دوسری صاحبزادی اور اپنے دور کی نامور گلوکارہ محترمہ طاہرہ سیدبھی رشتے میں ایس ایم ظفر کی خواہر نسبتی بنتی ہیں۔ یہ رشتہ داری بھی کسی نہ کسی حدتک ایس ایم ظفر کے لیے شہرت کا ذریعہ سمجھی جا سکتی ہے۔ خیر رشتہ داری یا وجہ شہرت کے یہ پہلو کتنے اہم یا غیر اہم ہیں ان سے ہٹ کر جناب ایس ایم ظفر کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ ایک نامور اور ممتاز قانون دان ہونے کے ساتھ ایک سنجیدہ خو دانشور ، ایک سچے ، مخلص اور محب وطن پاکستانی اور ایک نمایاں سیاسی ، سماجی اور علمی شخصیت کے طور پر قومی زندگی میں معروف چلے آرہے ہیں تو کچھ ایسا غلط نہیں ہوگا۔ وہ مرحوم پیر پگاڑہ کی مسلم لیگ میں نائب صدر کے عہدے پر فائز رہے تو صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں چوہدری شجاعت حسین کی سربراہی میں قائم مسلم لیگ ق کے مرکزی قائدین میں بھی شامل رہے ہیں۔ اس دوران انہیں سینیٹ آف پاکستان میں بطور سینیٹر نمائندگی کا موقع بھی ملارہا۔
جناب ایس ایم ظفر کی شخصیت کے یہ سارے پہلو ، ان کے یہ سارے مناصب اور ان کی یہ ساری حیثیتیں ان کے لیے وجہ افتخار سمجھی جا سکتی ہیں لیکن ان کی ایک سچے ، مخلص اور دردمند پاکستانی کی حیثیت ، ایک نمایاں اور ممتاز قانون دان کا مقام اور ایک صاحب الرائے اور صاحب بصیرت دانشور ہونا ان کی تمام حیثیتوں اور ان کی شہرت کے اسباب پر حاوی گردانہ جا سکتا ہے۔ جناب ایس ایم ظفر کی ہمہ پہلو اور متنوع شخصیت کے بارے میں کچھ اور باتیں بھی لکھی جا سکتی ہیں لیکن واپس کتاب کی طرف آتے ہیں۔ جیسے شروع میں کہا گیا ہے کہ مصنف نے ایس ایم ظفر سے اپنی گفتگووں اور مکالمات پر مشتمل اپنے کالموں کو جو مختلف اخبارات و جرائد میں چھپتے رہے ہیں اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ان میں سے بعض کے آخر میں اگرچہ اخبار یا جریدے کا نام اور تاریخ اشاعت بھی لکھی گئی ہے لیکن یہ کالم یا مکالمے تاریخی ترتیب سے کتاب میں شامل نہیں کیے گئے ہیں بلکہ مختلف موضوعات اور عنوانات کے تحت ان کو تقسیم کیا گیا ہے۔ ان عنوانات میں حالات زندگی ، تصور پاکستان ، انسانی حقوق / حقوق نسواں ، عدلیہ ، جمہوریت ، مذہب، سائنسی امور ، مسئلہ کشمیر / پاک بھارت تعلقات ، مسئلہ فلسطین /اسرائیل ، بین الاقوامی امور ، اہم قومی مسائل ، دہشت گردی ، کالاباغ ڈیم، ذرائع ابلاغ ،طنز و مزاح، تفریح اور متفرق وغیرہ عنوانات شامل ہیں۔ ان عنوانات کی کل تعداد 17بنتی ہے تو ان کے تحت یا ان کی ذیل میں آنے والے مکالموں یا کالموں کی تعداد 159ہے۔ بلاشبہ یہ انتخاب جہاں انتہائی چشم کشا ہے وہاں پڑھنے والوں کے علم و آگاہی میں اضافے کا سبب ہی نہیں بنتا ہے بلکہ ان کے لیے سوچ ، سمجھ ، شعور اور دانش و بصیرت کے نئے زاویے بھی وا کرتا ہے۔ اس سے پڑھنے والوں کا اسلام اور اسلام کی تعلیمات سے لگائو ، پاکستان اور نظریہ پاکستان سے محبت ، ملی قومی اور تاریخی روایات و اقدار کی پاسداری اور باہمی روابط میں مثبت رویوں کے اظہار کو فروغ دینے کی جہاںحوصلہ افزائی ہوتی ہے وہاں پڑھنے والوں پر ان کالموں کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی امید بھی کی جا سکتی ہے۔
ممتا ز قانون دان ایس ایم ظفر سے مکالمہ کے عنوان سے 672صفحات اور 8صفحات پرپھیلی نادر تصاویر پر مشتمل یہ کتاب اپنے ظاہری حسن، خوب صورت گیٹ اپ ، پرکشش سرورق ، مضبوط جلد اور غلطیوں سے مبرا چھپائی کے لیے بلاشبہ تحسین کی مستحق ہے۔ اس کے لیے اشاعتی ادارے قلم فاونڈیشن انٹرنیشنل والٹن روڈ لاہور اور اس کے مہتمم علامہ عبدالستار عاصم کی جتنی بھی تعریف و توصیف کی جائے کم ہوگی ۔ کہ وہ ایک ایسی تصنیف سامنے لائے ہیں جس میں بیک وقت علم و معلومات کا خزینہ تاریخ کا مطالعہ ،تہذیب کا شعور اور حالات و واقعات کی منظر کشی نظر آتی ہے۔آخر میں مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ میں اس زخیم کتاب کا پوری طرح مطالعہ نہیں کر سکاہوں لیکن جتنا بھی مطالعہ کیا ہے کہ اس نے میرے دل کے تاروں کو جھنجوڑا ہی نہیں ہے بلکہ میرے علم و آگاہی میں اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس کتاب کے حوالے سے محترمہ بشریٰ رحمان مرحومہ نے جو تبصرہ کیا ہے اور جس کا ایک اقتباس کتاب کے بیک ٹائٹل پر چھپا ہوا ہے بلاشبہ پڑھنے کے لائق ہے ۔اس میں انھوں نے محترم ایس ایم ظفر کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ کتاب کے مصنف ڈاکٹر وقار ملک کی بھی کھلے الفاظ میں تعریف کی ہے کہ وہ اس طرح کی ایک قابل قدر تصنیف سامنے لے کر آئے ہیں۔ ساجد حسین ملک0333-5572321 12-07-2022

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...