Home بلاگ ” ترپ کا پتا“

” ترپ کا پتا“

تحریر خواجہ آفتاب حسن

پاکستان تحریک انصاف نے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن)کو شکست دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ بلاشبہ اس وقت پی ٹی آئی کا ووٹراورسپورٹر مکمل طور پر چارج ہے اوروہ انتخابی نتائج پر ” اثر انداز“ ہونے والوں کے خلاف اپنے چیئرمین کے بیانیے کا علم نہ صر ف پوری طاقت سے اٹھائے کھڑا ہے بل کہ اپنے ووٹ کا تحفظ بھی کررہا ہے۔ یقینا پارٹی ورکرز کے اسی جوش وجذبے کی وجہ سے ہی عمران خان فوری طورپر عام انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ شاید وہ جانتے ہیں کہ اپنے ووٹر ز اورسپورٹرز کو جذباتی تقریروں اورنفرت پرمبنی بیانیے کے ذریعے زیادہ دیر تک گمراہ نہیںکیا جاسکتا۔ اس ” گمراہی“ کو عرف عام میں ” چکر “ دینا یا ” بے وقوف“ بنانا کہا جاتا ہے ۔پی ٹی آئی کا ایک حلقہ اس کامیابی کو پنجاب میں اقتدار میں واپسی اورمرکز کے لیے ” لوہے کاچنا “ سمجھ رہے ہیں لیکن دوسری جانب بیس میں سے پندرہ نشستوں پر کامیابی کے باوجود عمران خان اس الیکشن کمیشن پر برہم ہیں کہ جس کی غیرجانبداری ضمنی الیکشن میں ثابت ہوچکی ہے ۔عمران خان اب بھی چیئرمین الیکشن کمیشن کو برا بھلا کہہ رہے ہیں اوران کی یہ خواہش ہے کہ سکندر سلطان راجا کو ہٹا دیا جائے ۔ عمران خان الیکشن کمشنر کے خلاف جس قسم کی زبان استعمال کرتے ہیں اوران لفظوں میں جو نفرت محسوس ہوتی ہے یقینااس کی وجہ کچھ اور ہے ۔اوریہ بات زبان زد عام ہے کہ اس کی وجہ فارن فنڈنگ کیس ہے، جس کا فیصلہ نہ صرف عمران خان بل کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست کی بساط لپیٹ سکتا ہے۔چیئر مین پی ٹی آئی اسی وجہ سے الیکشن کمشنر کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں اورچاہتے ہیں کہ راجا صاحب کل کا سورج الیکشن کمیشن میں اپنے آفس کے بجائے کہیں اوردیکھیں۔اس حوالے سے ” غیر جانبدار “ کیا سوچتے ہیں یہ تو ابھی واضح نہیں لیکن یہ بات تو طے ہے کہ ترپ کا پتا ہمیشہ انہی کے ہاتھ میں رہا ہے۔

”غیرجانبداروں “ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کی پھیلائی اپنے خلاف نفرت کو کم کرنے کے لیے ضمنی الیکشن کے نتائج پر آنکھیں بند رکھنا، ووٹ کے تقدس کو پائمال کرنے سے گریز کرنا اورسب سے بڑھ کر مسلم لیگ (ن) کا بغیرکسی حیل وحجت کے ان نتائج کو تسلیم کرلینااگرچہ اچنبھے کی بات ہے ۔لیکن عمران خان اس انہونی کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں۔ وہ یہ تو مانتے ہیں کہ ان کی پارٹی کی جانب سے زور دار انتخابی مہم اور17جولائی کوپی ٹی آئی کے ووٹرز کاحق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے نکلنا کامیابی کی بڑی وجہ ہے ۔ لیکن یہ نہیں مانتے کہ ضمنی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہوئی ، انہیں یقین ہے کہ دھاندلی ہوئی لیکن پی ٹی آئی نے اسے ناکام بنادیا۔ عمران خان بھی ” غیرجانبداروں “ کی طرح شاید یہ یقین کربیٹھے ہیں کہ ان کی پارٹی کے علاوہ پاکستان کا ہر سیاستدان مالی طور پربدعنوان ، اخلاقی طورپر کرپٹ ، ملک دشمن اوروہ ملک کے سب سے بڑے خیرخواہ ہیں ۔ پندرہ سیٹوںپرکامیابی اگرچہ اس بیانیے کا مکمل توڑ نہیں جو عمران خان اقتدار سے بے دخلی کے بعد زہر کی طرح پھیلا رہے ہیں اوریہ زہر کافی حد تک ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں سرایت بھی کرچکا ہے۔ہمارے دوست حسنین جمیل جو عمران خان کے پرستار ہیں اورلگ بھگ سال قبل اپنے پسندیدہ لیڈر کے پیدا کردہ حالات کی وجہ سے ہی شاید اب دیارغیر میں پناہ لیے ہوئے ہیں ، لکھتے ہیں ” عمران خان بیانیہ بنانے کے ماہر ہیں “۔ ہم حسنین جمیل کی اس بات سے سوفیصد متفق ہیں کیوں کہ عمران خان نے مشرف کی حمایت سے لے کر اس کی مخالفت اوربعد ازاں دوران اقتدار پاکستان کوریاست مدینہ بنانے جیسے نت نئے بیانیے گھڑے اورہر بیانیے کو اپنی دانست میں حتمی سمجھ کر پھیلایا ، یقینا یہ کام عمران خان ہی کرسکتے تھے ۔ ورنہ ملکوں کی سیاسی تاریخ میں بدلتے بیانیے والے ملک نے کبھی ترقی نہیں کی۔

 ایک زمانہ تھا جب سیاستدان کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ اپنے جذبات اورچہرے کے تاثرات کو قابو میں رکھتا ہے بھلے اپنے بدترین سیاسی مخالفین کے ساتھ بات ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔ یہ تو خان صاحب نے آکر سیاست کارخ اورسیاستدان کا تاثر ہی بدل دیا ۔ان کا چہرہ بڑے مجمع کو دیکھ کر جس طرح دمک رہا ہوتا ہے اور چہرے پر جو مسکراہٹ بکھری نظر آتی ہے وہ ان کے دل کا حال بیان کرتی ہے کہ وہ ” موگیمبو “ کی طرح کس قدر خوش ہیں ۔ سیاسی مخالفین کے لیے چوں کہ ان کے دل میں نہ تو کوئی احترام اورسیاسی رواداری ہے، نہ ہی زبان پر مناسب الفاظ ، اس لیے جو کچھ وہ بول رہے ہوتے ہیں ، ان کاچہر ہ ان کی دلی کیفیت کی ترجمانی کررہا ہوتا ہے ۔دماغ کی بات ہم نے اس لیے نہیں کی کیوں کہ عمران خان کے دماغ کے بارے میں کچھ کہنا ازخود اپنا دماغ خراب کرنے والی بات ہے، کیوں کہ ان کی دماغی حالت پل پل میں بدلتی ہے ۔ ایک لمحہ پہلے اپنی گفتگو میں جس بات کی حمایت کرتے ہیں اگلے ہی لمحے اسی کی مخالفت شروع کردیتے ہیں۔ ممکن ہے یہ بھی کوئی سیاسی ٹیکنیک ہو کہ مخالفین اسی میں الجھے رہیں کہ آخر وہ چاہتے کیا ہیں۔ لیکن یہ تو طے ہے کہ عمران خان کب کیا کریں گے یہ بہت واضح ہوتا ہے البتہ کب کہاں کوئی ’ ’یو ٹرن “ لے لیں یہ ان کے رفقاءبھی نہیں جانتے ۔ ہمیں تو لگتاہے یوٹرن کی یہ اصلاح انہوں نے فواد چودھری ، شیخ رشید اورشاہ محمود قریشی کودیکھ کر ہی استعمال کرنا شروع کی ہے۔کیوں کہ سیاسی قلا بازی کے جس قدر یہ تینوں ماہر ہیں کوئی اورسیاستدان نہیں ۔البتہ اس قلابازی کو یوٹرن کو نام اس لیے دیا گیا ہوگا کیوں کہ خان صاحب کے پیروکاروں کی بڑی تعداد اردو سے نابلد ہے ۔جہاں تک ترپ کے پتے کی بات ہے تو اس وقت یہ عمران خان کے ہاتھ میں ہے، اوروہ کم ازکم چودھری پرویز الہٰی تو نہیں ہوسکتے ۔ ہمارے خیال میں اس وقت ترپ کا پتا ، عمران خان کا پنجاب کااقتدار سنبھالنے اورمقررہ وقت پر عام انتخابات کروانے یاپھر فوری الیکشن کے لیے پنجاب اسمبلی توڑنے کے فیصلے کے درمیان ہی کہیں ہے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...