Home بلاگ سنگھر ہاوس سے پارلیمنٹ ہاوس تک

سنگھر ہاوس سے پارلیمنٹ ہاوس تک

تحریر: چوہدری عامر مقبول

                 گوجرخان کی پہنچان ہمیشہ شہیدوں اور غازیوں کے ناموں سے وابستہ رہی، یہ پاکستان کی واحد تحصیل ہے جس کے باسیوں کو دو نشان حیدر ملنے کا اعزاز حاصل ہے، علاقہ میں شاہد ہی ایسا کو ئی قبر ستان ہو گا، جس میں کسی شہید کی آرام گاہ نہ ہو یا کوئی ایسا گھر ہو جس میں غازی نہ ہو، سن 2007 عسکری قیادت کی کمان گوجرخان کے حصے میں آئی تو گوجرخان کی پہنچان میں مزید اضافہ ہو گیا گوجرخان کی فلک پوش پہاڑ لہلہاتے سر سبز و شادداب کھیت خوبصورت اور دلوں کو معطر کر دینی والی فضاؤں اور وفاؤں سے بھرپورمٹی اور اس مٹی کے خمیر سے جنم لینے والے با وفا اور باضمیر لوگوں کی اس خوبصورت دھرتی کی کوکھ سے جنم لینے والا ایک شخص جسے دنیا راجہ پرویز اشرف کے نام سے جانتی ہے نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز سنگھر ہاوس سے کیا، دیکھتے ہی دیکھتے اللہ پاک نے اس پر اس قدر نوازشات کیں اور کامیابیوں سے نوازا کہ ہر کوئی دیکھنے والا حیرت کدہ ہو کر رہ جاتا ہے، اگرچہ راجہ پرویز اشرف کے سیاسی سفر پر نظر ڈالی جائے توان کے سیاسی سفر کی ابتدا میں مشکلات بھی رہیں اور انہیں پے در پے ناکامیوں کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن انہوں نے کسی پرواہ کے بغیر اپنا سیاسی سفر جاری رکھا وہ اکثر کہا کر تے تھے کہ مجھے ہار سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی میرا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام کی خدمت کروں، مجھے اللہ پاک پر پور یقین ہے کہ وہ مجھے ایک دن اس مقام پر لے جا ئے گا جہاں دنیا رشک کرے گی، یوں جب راجہ پرویز اشرف کو پاکستان پیپلز پارٹی پارلمینٹرین کا سیکر ٹری جنرل کا اہم عہدہ سو پنا گیا تو وہ نہ صرف پارٹی بلکہ ملکی سطح پربھی اپنی پہنچان بنانے میں کامیاب ہوگئے، پارٹی میں بھی اپنی جگہ بنا لی اور وہ پارٹی کے سینئر رہنما شمار کیے جانے لگے، دوسری جانب گو جرخان کے عوام انہیں مایوس کر تی رہی، 1990,1993,1997, میں جب بھی الیکشن ہو ئے انہیں ہر دفعہ ناکامی ہوئی، لیکن  2002 کے الیکشن میں راجہ پرویز اشرف اپنے تمام مخالفین کو شکت دینے میں کامیاب ہو ئے اور پہلی بار وہ اسمبلی میں داخل ہوئے، راجہ پرویز اشرف کو دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا وہ اپوزیشن میں ہو نے کے باوجود وہ اپنے تئیں عوام کیلئے جو کچھ کر سکتے تھے کرتے رہے، اسی دوران راجہ پرویز اشرف کے کئی قر یبی ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر ق لیگ میں شامل ہو گئے اور اہم وزراتیں حاصل کر لیں انہوں نے  راجہ پرویز اشرف کو بھی کئی بار ق لیگ کا حصہ بننے اور اپنی مرضی کی وزرات لینے کی پیشکش کی، مگر انہوں نے متحر مہ بے نظیر بھٹو اور گوجرخان کے عوام سے غداری نہ کر نے کی قسم کھائی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے انھیں پارٹی میں عزت کی نگاہ دیکھا جانے لگا2002  کے الیکشن میں کامیابی ان کے سیاسی زندگی کا ٹر ننگ پوائنٹ تھا اور راجہ پرویز اشرف بھی اسی بر یک تھرو کے انتظار میں تھے اپوزیشن میں رہنے کے باوجود وہ اسمبلی میں گوجرخان کے حق کے لیے آواز بلند کر تے رہے جس کی وجہ سے انہیں حلقے کے عوام میں پزائی ملی اور عوام میں انکی مقبو لیت بر قر ار رہی، جس کیوجہ سے 2008  کے الیکشن میں بھی راجہ پرویز اشرف گوجر خان سے ایم این اے بننے میں کامیاب ہو گئے، مرکز میں پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہو ئی اور وہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی راجہ پرویز اشرف کو پارٹی کے لیے قر بانیوں کے صلے میں پہلی بار وفاقی کابینہ میں شامل کر کے پانی وبجلی کی وزرات کا قلمدان سو نپا گیا  اس دور میں پانی و بجلی کی وزرات کسی چیلنج سے کم نہ تھی ملک میں بیس بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہورہی تھی اور عوام کا پارہ ہائی تھا راجہ پرویز اشرف نے وزرات کا قلمدان سھبنالنے کے بعد لوڈشیڈنگ ختم کر نے کے دعوئے کئے لیکن لوڈشیدنگ ختم نہ ہو ئی جس کی وجہ سے انہیں شدید عوامی رد عمل کا سامنا بھی کرنا پڑا، عوام ملک بھرمیں بیس بیس گھنٹے کی لوڈشینڈنگ بر داشت کر رہی تھی لیکن راجہ پرویز اشرف کی وزرات کی وجہ سے گو جرخان کے عوام کو لو ڈشید نگ میں ریلیف دیا گیا اور محض چار گھنٹوں کی لو ڈشیدنگ ہو تی رہی جس سے پوری تحصیل کے عوام نے سکھ کا سانس لیا تحصیل بھر میں بجلی کے نئے منصوبوں کی جانب بھی خصوصی توجہ مرکوز رکھی گئی، کئی بڑے منصوبے مکمل کر وائے وزرات کے دوران تحصیل بھر میں بجلی کے نظام کواپ گریڈ کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے گوجرخان کے ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں کو پانی وبجلی کی ورزات میں نوکریاں دلوائی جس کی پاداش میں وہ آج بھی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں جس کا وہ بر ملا اظہار بھی کر تے ہیں کہ میں نے گوجرخان کے بچوں کو روزگار دیا اس کے لیے مجھے ہر سزا قبول ہے جبکہ گو جرخان میں پاسپورٹ آفس اور دولتالہ میں نادرہ آفس بھی ان کی وزرات کے دوران ہی مکمل ہو ئے ملک میں لوڈشیڈنگ میں کمی نہ ہو نے پر ان سے وزارتواپس لے کر انہیں مواصلات کی وزارت دے دی گئی، مخالفین یہی کہتے رہے کہ راجہ پرویز اشرف کو کھڈے لائن لگایا گیا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا سپریم کورٹ نے اس وقت کے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو سوئس بنک کو خط نہ لکھنے پر نااہل قرار دے کر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹا دیا پیپلز پارٹی کے جانب نئے وزیر اعظم کے لیے شہباب الدین قمر زمان قائرہ اور راجہ پرویز اشرف  کے نام دئیے گئے ِلیکن وزارت عظمی کا ہما مخدوم شہباب الدین اور قمر زمان قائرہ کے سر کو چھوتی ہوئی راجہ پرویز اشرف کے سر آن بیٹھا اس طرح وزارت عظمیٰ گوجر خان

کے حصے میں آنا کسی اعزاز سے کم نہ تھی، جس کے بعد تحصیل میں جیالوں کی خوشی دیدنی تھی راجہ پرویز اشرف نے وزرات عظمی کا قلمدان سبنھا لنے کے ساتھ ہی تحصیل گوجرخان کی تعمیروترقی کی طرف خصوصی توجہ دینی شروع کر دی وہ 9 ماہ وزیر اعظم رہے، لیکن گوجرخان کے میگا پرواجیکٹ کے لیے انہوں نے خزانے کی بوریاں کے منہ کھول دئیے، مختصر عرصے میں انہوں نے گوجرخان کے چپے چپے میں قدرتی گیس مہیا کی جو بلاشبہ ایک بڑا پراجیکٹ تھا جبکہ مندرہ چکوال اور سوہا وہ چکوال روڈ جیسے اربوں روپے کے بڑے منصوبوں پر کام شروع کر وا دیا اس کے علاوہ مختصر عرصے میں تحصیل بھر میں اربوں روپے کے ترقیاتی کام مکمل کروائے گئے 2018 میں راجہ پرویز اشرف ایک بار پھر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ساڑھے تین سال بعد حکومت کی تبدیلی پرقسمت کی دیوی ایک بار پھر ان پر مہربان ہو ئی اور سنگھر ہاوس سے سیاسی سفر شروع کرنے والے راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کا آئینی عہدہ اسپیکر حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جسکے بعد انہوں نے ایک بار پھر گو جرخان کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ دی بجلی گیس کے منصوبوں،دولتالہ میں ایس ایم ایس کی اپ گر یڈیشن جس سے گیس کی لوڈشیڈنگ کم پر یشر جیسے مسائل کی خاتمہ، گو جرخان کے تعلیمی اداروں کی اپ گر یڈیشن کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان سے خصوصی طور پر پنجاب یو نیورسٹی کے ذیلی کیمپس اور 200 بیڈ پر مشتمل ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال کے قیام کی منظوری بھی لی راجہ پرویز اشرف ملکی تاریخ کے واحد وزیر اعظم تھے جنہیں اپنے مدت پوری ہونے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ وہ ملک کے پہلے سابق وزیراعظم تھے جو اسپیکر قومی اسمبلی بھی منتخب ہو ئے اس حوالے سے وہ خوش قسمت ترین سیاستدان ہیں دنیا میں جن حکمر انوں نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے وہ نہ صرف ایک لیونگ لیجنڈ بن گئے بلکہ تاریخ کے صفحات میں بھی ان کا نام روشن ستاروں کی طرح جگمتا رہتا ہے بلاشبہ گوجرخان کے عوام کو راجہ پرویز اشرف کی صورت میں عوام دوست،محنتی اور عوامی فلاح کے منصوبوں میں دلچسپی رکھنے والا لیڈر ملاجو اقتدار میں آتے ہی گو جرخان کی تعمیر و ترقی کے لئے مصروف ہو جاتا ہے جو کہ علاقہ کے عوام کی خوش قسمتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...