Home بلاگ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ

صوفی محمد عظمت اللہ شاہ

مصطفی آباد للیانی سے خصوصی تحریر محمد عمران سلفی

صوفی محمد عظمت اللہ شاہ

حضرت خواجہ خواجگان صوفی محمد عظمت اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز کا چھیواں سالانہ عرس 25 ‘26 ‘27 ذوالحجہ کو آستانہ عالیہ نقیب آباد شریف قصور شروع ہوگا، عرس کی تین روزہ تقریبات کی صدارت سجادگان در گاہ نقیب الاولیاءنقیب ثانی حضرت صوفی محمد نقیب الرحمن شاہ و عظمت ثانی حضرت صوفی محمد اسد اللہ شاہ کریں گے، عرس میں دنیا بھر سے مریدین، خلفائے عزائم و زائرین کی بڑی تعداد شرکت کرے گی، عرس کی تین روزہ تقریبات کے موقع پر درودود و سلام، محفل سماع، ختم خواجگان و محفل رنگ دیگر تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا، حضرت خواجہ خواجگان صوفی محمد عظمت اللہ شاہ کی تعلیمات کا اثر تھا کہ بے شمار غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے‘ مریدین آپؒ کے ہاتھ پر بیعت لینے کے بعد اپنے آپ کو انسان سمجھنے لگے اور انہیں اس دنیا میں آنے کے مقاصد سے آگاہی ملی،
حضرت فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ نے آستانہ عالیہ نقیب آباد شریف کا اپنی زندگی میں ہی حضرت خواجہ خواجگان صوفی محمد عظمت اللہ شاہ کو اپنا سجادہ نشین مقرر کر دیا تھا، حضرت خواجہ خواجگان صوفی محمد عظمت اللہ شاہ کی دی ہوئی تعلیم کا سلسلہ تاقیامت جاری و ساری ہے،
قبلہ عالم بابا حضور حضرت خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ نقیبی قدس سرہ ¾ العزیزیکم نومبر 1945ءبٹل شریف ضلع مانسہرہ میںپیدا ہوئے آپؒ کا بچپن بٹل شریف میں گزرا قرآن پاک اور ابتدائی تعلیم بٹل شریف میں ہی اپنے والد گرامی قبلہ بابا حضور خواجہ خواجگاں حضرت فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز کی سرپرستی میں حاصل کی۔ مڈل اورہائی تعلیم کوئٹہ (بلوچستان) میں حاصل کی۔اسلامیہ کالج قصور سے بی اے کرنے کے بعد پی ایم اے کاکول ایبٹ آباد پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ آپ نے بے شمار فوجی کورسزمیں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ 1965ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگوں میںحصہ لیا۔ آپؒ پاک فوج میں کرنل کے عہدے تک پہنچنے کہ آپؒ کے والد گرامی و پیر و مرشد قبلہ عالم حضورخواجہ خواجگاں حضرت فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز کے حکم پر ریٹائرمنٹ لینی پڑی‘ دوران ڈیوٹی آپؒ اللہ ربّ العزت اور اپنے پیر و مرشد قبلہ عالم کے احکامات کی بجاآوری فرماتے ہوئے اللہ کی مخلوق کی اصلاح اور خدمت میں ہمیشہ مصروف رہے اور ساتھ ساتھ گلستان نقیب کی تربیت اصلاح اور قبلہ عالم کی تعلیمات کو سختی سے عملی جامع پہنانے میں مصروف عمل رہے۔
جتنی تعلیم اور محبت زندگی میں قبلہ بابا جی حضرت خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز نے قبلہ عالم باباحضور قدس سرہ ¾ العزیز سے حاصل کی تھی اتنی کسی اور نے کی نہ ہی اس کی جستجو کی۔ اپنی سجادہ نشینی کا اعلان ہونے کا آپ نے ذرا بھر بھی غرور و تکبر نہ کیا بلکہ آپ ہمیشہ اس سوچ میں ڈوبے رہتے کہ ”میں ناتوان ہوں‘کمزور ہوں‘ اتنے بڑے ”نقیبی مشن اور نظام“ کوکیسے چلا ¶ں گا؟
فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد قبلہ سجادہ نشین صاحب نے صبح و شام بلکہ ہر وقت قبلہ بابا حضور کی بارگاہ اقدس میں حاضری کو وظیفہ بنا لیا۔ قبلہ بابا حضور کہیں بھی باہر جاتے توقبلہ سجادہ نشین کو ساتھ لے جاتے، اکثر رات گئے تک اکٹھے بیٹھنا اور اصلاحی تعمیری گفتگو کرنا‘ روز مرہ کا معمول بن گیا۔
آپنے ہمیشہ فرمایا میرے بابا حضورؒ کی تعلیم پر عمل کرو گے تو آخرت سنورے گی‘ دنیا آباد ہو گی‘ نظم و ضبط‘ ادب ملے گا اور آج دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی ”حق نقیب یا نقیب“ کی صدا بلند ہو رہی ہے وہ صرف اور صرف آپ قدس سرہ ¾ العزیز کے افکار کا نتیجہ ہے۔
 بابا حضور حضرت خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ نقیبی قدس سرہ ¾ العزیز گلستان نقیب کی آبیاری اور تربیت میں ایسے مصروف ہوئے کہ کبھی اپنے آرام اور کھانے کا خیال نہ رکھا۔ جس وجہ سے آپ جسمانی کئی عارضوں میں مبتلا ہوتے گئے۔ آپؒ نے ہر لمحہ گلستان نقیب کے پھولوں کو سجایا‘ ہر کلی آپؒ کے ہاتھ کے لمس کو محسوس کرتی ہے۔ پھولوں کی فکر میں آپ قدس سرہ ¾ العزیز نے کبھی اپنی صحت کا خیال نہ رکھا‘ ڈاکٹروں نے آپؒ کو سفر سے منع کیا‘ کھانے کا پرہیز بتایا لیکن اللہ کی رضا اور سلسلہ عالیہ نقیبیہ کے لئے آپ ہمیشہ سفر میں ہی رہے اور جو کھانے میں آ گیا تناول فرما لیا، 2015ءاور 2016ءدو سالوں میں آپ قدس سرہ ¾ العزیزکئی مرتبہ لاہور کے مختلف ہسپتالوں میں داخل رہے،25اگست 2016ءکو روحانی دورہ اور علاج کے لئے انگلینڈ تشریف لے گئے جہاں آپؒ کی صحت انتہائی تیزی سے خراب ہوئی اور آپؒ 25 ستمبر 2016 کی صبح صادق ایک ماہ ہسپتال میں رہنے کے بعد لاکھوں آنکھوں کو اشکبار چھوڑ کر وصال فرما گئے۔ آپؒ کے جسد خاکی کو انگلینڈ سے پاکستان 29 ستمبر2016ءکو لاہور ائرپورٹ پر لایا گیا تو ہزاروں مریدین و عقیدتمندان آپؒ کے استقبال کے لئے ائرپورٹ پر موجود تھے۔ 29 ستمبر کو بعد از صلوةٰ ظہر آستانہ عالیہ نقیب آباد شریف مفتی پیر محمد ارشاد علی قادری اشرفی کی امامت میں صلوةٰ جنازہ ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے صوفیائے کرام‘ علمائے کرام‘ شیوخ عظام‘ دینی‘ سماجی و سیاسی شخصیات آپؒ کے لاکھوں مریدین‘ عقیدتمندوں نے شرکت کی۔
حضور سیدنا حضرت خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز نے اپنی حیات میں اپنے دونوں بیٹوں حضور نقیب ثانی حضرت صوفی محمد نقیب الرحمن شاہ اور حضور عظمت ثانی حضرت صوفی محمد اسد اللہ شاہ کی سجادہ نشینی کا اعلان فرما دیا تھا۔ اس وقت دونوں سجادگان نقیبی مشن کو پوری محنت اور جانفشانی سے آ گے بڑھا رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ ہدایت کی تعلیم و تربیت کے لئے ہر وقت مصروف عمل ہیں۔
علماءسے پیار اور اُن کا احترام کرنا قبلہ بابا حضور قدس سرہ ¾ العزیز کے درس کا پہلا سبق ہوا کرتا تھا۔ قبلہ بابا حضور کی تعلیم قرآن و حدیث اور سنتِ رسول ﷺ پر مبنی ہے اور تاقیامت رہے گی۔
آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کائنات کی تخلیق فرمائی تو یہ تخلیق اس نے اپنی پہچان کے لئے فرمائی۔ آپ عموماً اس بات پر بہت زور دیتے ہیں کہ کبھی فرقوں کے چکر میں نہ پڑنا کہ فلاں شیعہ ہے‘ فلاں سنی ہے اور فلاں دیوبندی ہے بلکہ یہ فرمایا کہ اچھا انسان بننے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ ”ہم نے انسان کو انتہائی خوبصورتی سے تخلیق فرمایا ہے“ لہذا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔آپ تمام سلاسل کے بزرگوں کا خود بھی احترام کرتے تھے اور مریدین کے لئے بھی حکم تھا کہ ”دوسرے بزرگوں کا احترام کرو“ آپ یہ تنبیہ فرمایا کرتے تھے ”ہمیں اس وقت عملی درویشی کا نمونہ دینا ہے“
سلسلہ عالیہ نقیبیہ کو عروج بام آپ قدس سرہ ¾ العزیز سے ملا۔ 1995ءسے قبلہ عالم حضورخواجہ خواجگاں حضرت فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز کے وصال کے بعد آپ قدس سرہ ¾ العزیزنے دن رات اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی اصلاح کے لئے کام کیا جس سے سلسلہ عالیہ نقیبیہ کے بے مثال گلستان میں ایسے ایسے معرفت کے پھول کھلے جو تاقیامت خوشبو دیتے رہیں گے۔
آپؒ نے ہر لمحہ اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی خوشنودی کے لئے اپنے قریب و دور رہنے والوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے آسان راستے سمجھائے۔ آپؒ نے اپنے پیر و مرشد حضرت خواجہ خواجگان فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہؒ کی تعلیمات کو ہر لمحہ آگے پھیلایا اور اللہ کی مخلوق کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ آپؒ نے ہمیشہ عقیدتمندوں اور مریدین کی اصلاح کی اور حکم فرماتے کہ ہر لمحہ اللہ کی نعمتوں پر غور کرو اور شکر ادا کرو‘ اپنے دنیا میں آنے کے مقصد کو جاننے کی کوشش کرو۔حضرت خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز اپنے مریدین کو نہی عن الی المنکر اور شریعت و طریقت کی تعلیمات دیتے ہوئے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے قرآن پاک کو سمجھنا ہے وہ پہلے صاحب قرآن (حضور سرور کائنات حضرت محمد مصطفی) کی حیات طیبہ کا مطالعہ کرے۔ کیونکہ قرآن پاک اقرا سے لے کر دین مکمل ہونے تک لفظ بالفظ آیت و آیت سرکار دوعالم پر نازل ہوا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کو اپنی ذات پر لاگو کر کے عملی نمونہ پیش کیا اور پھر دوسروں کو اس کی تعلیمات دی۔ اس لئے اپنے بچوں کو قرآن پاک کے ساتھ سیرت النبی کی تعلیم بھی پڑھا ¶‘ آپؒ نے معاشرے میں رہنے کے تمام آداب و قانون سکھائے جن میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں شامل ہیں یہاں تک کہ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک سکھایا۔
آپ ادب پر بہت زیادہ زور دیا کرتے ہوئے اور اکثر آپ فرماتے تھے۔”ہمارے دین کی بنیاد ادب پر ہے بلکہ تمام کائنات کی بنیاد ادب پر ہے۔ جنہوں نے ادب کیا حکم مانا وہ آج بھی فرشتے ہیں جس نے آدم کا احترام نہ کیا اس کا نام عزازیل سے ابلیس ہو گیا۔ ابلیس نے اللہ کی بے ادبی نہیں کی تھی بلکہ اس نے آدم کی تحریم نہیں کی تھی۔ اُس کو آدم کی مار پڑی۔ آپ لوگ چلتے پھرتے بلکہ اٹھتے بیٹھتے الگ نظر آ ¶۔ ایک باادب قوم کے فرد بنو تمہارے اعمال سے ظاہر ہو کہ تم ایک باادب قوم ہو“۔ آپؒ نے فرمایا ہمارے رستے میں بہت بڑے بڑے خزانے پڑے ہوئے ہیں‘ باادب وہ ہوتا ہے جو قوانین کا پابند ہے“۔ اللہ اور اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے نظام پر عمل کرو۔ یہ مت سوچو کہ میں بہت بڑی چیز ہوں۔
 آپؒ ہمیشہ یہ فرمایا کرتے تھے کہ ”میرے سامنے میرے پیر کی تعلیم ہے۔ جو کچھ بھی میں نے پایا یا کسی نے پایا وہ پیر کی درگاہ سے پایا ہے‘ کامل ولی اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات ہی پھیلاتا ہے‘ ہمیشہ اللہ کی خوبیاں بیان کرتا ہے“ پیر کی بارگاہ سے ملی ہوئی دولت اللہ ہی کی جانب سے عطا ہوتی ہے۔ ہماری صلوٰة، ہماری معراج‘ حضور کے قدموں تک رسائی ہے۔ جو لوگ صلوٰة قائم نہیں کرتے وہ حضور کے قدموں سے دور ہیں۔ یہ معراج کا راستہ ہے۔ صلوٰة میں اتنی مشکلات آتی ہیں کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ پانچ وقت کی صلوٰةکو عام مسلمانوںنے ایک رسم سمجھ لیا ہے۔ صلوٰة قریب کرتی ہے۔(ترجمہ: مرجاو ¿ مرنے سے پہلے) طبعی موت سے پہلے ایک موت ہے۔ وہ حاصل کرنی ہے۔ طبعی موت سے پہلے اس انسان کو ایک مشین سے گذرنا ہے، یعنی ”کل نفس ذائقة الموت“ ترجمہ: تمام نفسوں نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اس میں خصلتیں ہیں۔ انہیں الگ الگ کرنا ہے۔ نفسِ امارہ، نفسِ لوامہ، نفسِ ملعمہ، نفسِ مطمعنہ۔
حضرت خواجہ صوفی محمد عظمت اللہ شاہ قدس سرہ ¾ العزیز نے فرمایا عشقِ محمد سنتِ الہٰی ہے۔ لہٰذا صلوٰة کا منکر یا صلوٰة ادا نہ کرنے والا کیا ہوگا؟ ہمارے پیر و پیشوا کا حکم ہے کہ صلوٰة قائم کریں۔ نماز پڑھنا نہیں بلکہ حکم ہے کہ ترجمہ: صلٰوة قائم کریں۔ صلوٰة ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ آپؒ نے فرمایا جو ڈرل ہم مسجد میں پانچ ٹائم کرتے ہیں۔ یہ صلٰوة قائم کرنے کے مراحل ہیں۔ نیت کر لیں کہ میں نے کرنی ہے۔ قرآن میں دیکھیں سینکڑوں دفعہ صلٰوة قائم کرنے کا حکم ہے۔ قرآن پڑھیں۔ سیرت النبی کا مطالعہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کی عبادت یعنی صلٰوة دیکھ کر فرمایا کہ اے میرے محبوب ”اب کچھ آرام بھی کر لیں۔“ ٭٭٭

Previous articleمہنگائی
Next article” ترپ کا پتا“

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...