Home بلاگ تخت پنجاب کی جنگ ::آج فیصلہ ہوجائے گا

تخت پنجاب کی جنگ ::آج فیصلہ ہوجائے گا

روداد خیال
صفدرعلی خاں

آج پھر پنجاب اسمبلی میں صوبے کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کا معرکہ ہے ،ن لیگ کے وزیراعلی’ حمزہ شہباز کو برقرار رکھنے کی تیاری ہوچکی ہے تو دوسری طرف ق لیگ کے چوہدری پرویز الہٰی کو میدان میں اتارا گیا ہے اب یہاں پر تحریک انصاف کی قیادت وہی غلطی دہرانے جارہی ہے جو ابھی حال ہی میں ن لیگ کی قیادت سے تحریک انصاف کے منحرفین کو ضمنی انتخابات میں اتارکر سرزد ہوئی ،ن لیگ نے بھی اپنے سیاسی حریف کی حالیہ ناکامی کی ایک بڑی وجہ سے کوئی سبق نہ سیکھا ،سیاست میں چونکہ کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا یعنی کوئی بات حرف أخر نہیں ہوتی کل کے دوست آج کے مخالف اور آج کے مخالف آنے والے کل کے دوست ہوسکتے ہیں ،چوہدری پرویز الٰہی تو کب کے وزیراعلیٰ بن چکے ہوتے اگر وہ آصف علی زرداری کے ساتھ کیا گیا پہلا وعدہ نہ توڑتے کیونکہ پنجاب میں وزارت اعلیٰ کیلئے موجودہ حکمراں اتحاد کی چوہدری پرویز الہٰی پہلی چوائس تھے ،آصف زرداری کے ساتھ معاملات طے پاجانے کے بعد شہباز شریف بھی چوہدری پرویز الہٰی کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار نامزد کرنے کی خاطر انکے پاس گئے ،معاہدہ طے پاجانے پر برسر عام اعلان کیا گیا ،دعائے خیر ہوئی مٹھائیاں بانٹ کرعہدو پیمان کی تشہیر کی گئی لیکن چوہدری پرویز الہٰی اپنی بات پر قائم نہ رہے اور بازی الٹ گئی ایک نوجوان کی قسمت نے یاوری کی اور وہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی حکمران بنادیئے گئے اب یہاں پر عدالت کے فیصلے نے پھر سے وہی حالات پیدا کردئے،آصف علی زرداری نے پھر چوہدری شجاعت حسین سے اس تناظر میں بات کی اور پھر معاملہ طے پاگیا آصف علی زرداری چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے بعد مسکراہٹیں بکھیرتے “وکڑی “کا نشان بناتے نکلے اور تاثر یہی دیا گیا جیسے چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کے سرکاری امیدوار بنائے جانے کی راہیں ہموار ہوگئی ہیں لیکن دوسرے ہی روز زبردست تردید سے میاں شہباز شریف کی جانب سے آصف علی زرداری کے ذریعے کی جانے والی اس پیشکش کو مسترد کردیا گیا ہے ،اب ایک دن باقی رہ گیا ہے دونوں جانب سے تلخی بڑھ گئی ہے،حالات درست سمت میں نہیں رہے ،ملک میں غیریقینی سیاسی صورتحال نے معاشی ابتری کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں ۔ پاکستان کی تیز رفتاری سے تبدیل ہوتی صورتحال میں کسی بھی زیرک،تجزیہ کار کی پیشین گوئی درست ثابت ہوتے نظر نہیں آتی ،کہیں بھی کچھ بھی اپ سیٹ ہوسکتا ہے ،حالات انتہائی تیز رفتاری سے کروٹ لے رہے ہیں ،عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے معاملات پرماہرین کی رائے کے برعکس واقعات رونما ہوئے ہیں ۔قومی سلامتی کو مقدم رکھنے کے اداروں کی مستقل مزاجی کے سوا کوئی بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں ،نت نئی اختراعات نکالی جا رہی ہیں اور ملک کی معاشی ابتری کو تاحال بریک لگانے کے عمل میں بھی کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوسکی ,پنجاب کے تخت کی جنگ میں پی ٹی آئی نے سخت گیر رویہ اختیار کررکھا ہے ۔تحریک انصاف کے اندر سے بھی اہم اتحادی ق لیگ کے چوہدری پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ بنائے جانے کی مخالفت کرنیوالے ارکان پنجاب اسمبلی کی سرگوشیوں کا چرچہ ہورہا ہے،پہلے تحریک انصاف کے اندر سےکچھ سہمی اور دبی ہوئی آوازیں ق لیگ کی جھولی میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ ڈالنے کی مخالفت کررہی تھیں اب ایک خاموش مگر طاقتور گروپ کی مزاحمت کا شہرہ ہے ،ملک کے موجودہ حالات سیاسی استحکام سے خرابی کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔ایک طرف تحریک انصاف کے جارحانہ طرز عمل اور اداروں پر الزامات نے سیاسی فضا کو آلودہ کررکھا ہے تو دوسری جانب حکومت اور اسکے اتحادی بھی اب” فائٹ بیک “کرنے لگے ہیں ،عمران خان کی طرف سے نئے انتخابات کے مطالبہ پر پی ڈی ایم کے ساتھ اتحادی جماعتوں نے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملکر حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ آصف علی زرداری نے بھی ان حالات میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کو بچانے کی سرتوڑکوششیں جاری رکھنے کا ہی مشورہ دیا ۔اس سے پہلے جب پنجاب اسمبلی کی 20 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے نتائج کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف نے 15 نشستیں حاصل کیں تو ن لیگ کی حکومت کے خاتمے کیلئے شور مچایا گیا ۔انتخابات چاہے جس بھی ملک میں ہوں، کسی نہ کسی صورت میں دھاندلی کا شور اٹھتا ہی ہے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اکثر اپنے ملک کے انتخابات کے حوالے سے یہ الزام عائد کرتے رہے۔پاکستان کا معاملہ تھوڑا زیادہ پیچیدہ ہے اور یہاں انتخابات کے نتائج ہی تسلیم نہ کرنا اور ان پر قانونی کارروائی اور سڑکوں پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا عام ہے۔مگر حالیہ ضمنی انتخابات پاکستانی انتخابی تاریخ میں اس حوالے سے منفرد رہے ہیں کہ متعدد بار قومی اور صوبائی حکومت بنانے والی پارٹی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انتخابات میں برتری حاصل نہ کرنے کے باوجود فوری طور پر ان نتائج کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز شریف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’مسلم لیگ (ن) کو کھلے دل سے نتائج تسلیم کرنا چاہییں۔ عوام کے فیصلے کے سامنے سر جھکانا چاہیے۔ سیاست میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ دل بڑا کرنا چاہیے۔ جہاں جہاں کمزوریاں ہیں، ان کی نشاندہی کر کے انھیں دور کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ ،ضمنی الیکشن کے نتائج پر مسلم لیگ ن کی قیادت کا فوری ردعمل انتہائی مثبت رہا،سیاست میں مخالف کو برداشت کرنے کی نئی روایت کو آگے بڑھایاگیا اور یہی سلسلہ ملک کی غیر یقینی سیاسی صورتحال کو استحکام دینے کا سبب بن سکتا ہے ،اس سے معاشی ابتری کا بھی خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔افہام وتفہیم اوروضع داری سیاست کے انتہائی خوبصورت اصول ہوتے ہیں انکے احیاء کی صورت نکالنا اب ہمارے سیاسی رہنمائوں کی سب سے اہم ذمے داری ہے ان حالات میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آل پارٹیز کانفرنس یاکم ازکم سٹیک ہولڈرز کی سطح پر مل بیٹھ کر معاملات سلجھانے کی راہ نکالی جاتی ملک کے مشکل معاشی حالات بہتر بنانے کی خاطر سیاست دان اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ کر ملک کے وسیع تر مفاد میں یکجا ہوکر مشترکہ فیصلے کرنے کا میکنزم متعارف کرواتے اور دنیا کے لئے اپنے اس عمل سے ایک خوبصورت مثال بن جاتے
مگر وقت وحالات سے کسی نے بھی کچھ نہیں سیکھا،حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی کو سیاستدانوں نے آگے بڑھانے کی روایت کو زندہ رکھا ۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن کمیشن پر الزامات عائد کرتے ہوئے ایک نئی بحث چھیڑ دی ،وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے الیکشن کمیشن سے فارن فنڈنگ کیس کا جلد فیصلہ سنانے کا مطالبہ اسی تناظر میں مزید تلخی اختیار کر گیا ،اسی طرح سب سے پہلے جو عمران خان نے قبل ازوقت عام انتخابات کا مطالبہ کیا تھا اس کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہئے تھا مگر خود پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی اس مطالبے کو کسی حد تک سنجیدہ نہیں لیا اور یوں وزیراعظم اور انکے اتحادیوں نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے حکومت کی مدت پوری کرنے کا اعلان کردیا ،دونوں جانب سے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہ ہونے سے معاملات مزید تلخ ہوتے چلے چلے جا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اور حکومتی اتحادی جماعتوں نے ملک میں قبل از وقت نہ کروانے کا فیصلہ کیا اور طے پایا کہ قبل از وقت انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے پر ہی منعقد کیے جائیں گے۔ اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان سمیت اہم اتحادیوں نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ بچانے کی سرتوڑ کاوشوں کا بھی عزم ظاہر کیا،پی ٹی آئی کی جانب سے ضمنی الیکشن جیتنے کے بعد تاحال کہیں سے بھی کوئی مفاہمت کی لچکدار لہر نہیں اٹھی ،سابق صدر آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات بھی بہت اہم تھی مگر اس کے نتائج صفر ہی نظر آتے ہیں ، پرویز الٰہی کو حکومت کی طرف سے وزارت اعلیٰ کا امیدوار بنانے کی پیشکش بھی کارگر ثابت نہ ہوسکی ،چوہدری شجاعت نے فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں سنادیا ،اب الیکشن میں مزید کیا کچھ ہونے جارہا ہے پاکستان کے مروجہ نظام سیاست کے حوالے سے سب کچھ طشت از بام ہے تاہم ابھی بساط بچھی ہے کسی طور بھی کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی تاہم اصول اور ضابطوں کا تقاضہ یہی تھا کہ معاملات کو احسن طریقے سے نمٹاکر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ ہر دو جانب سے کیاجاتا ۔
سیاستدانوں کے مخاصمانہ رویوں اور منفی انداز فکر نے حالات کو خرابی کے دلدل میں پھینک دیا ۔ملک کی غیریقینی سیاسی صورتحال پر ملکی ترقی کا پہیہ جام ہوگیا ، سٹاک ایکسچینج کریش کر گئی ,ڈالر دو ہی روز ساڑھے 15روپے مہنگا ہوکر روپے کی قدر کو ملیامیٹ کرگیا،پاکستان کی معاشی ترقی کے آثار ہی کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔پاکستان کی غیر یقینی سیاسی صورتحال نے معاشی بدحالی سے مایوسیاں پھیلائی ہیں ،اب حالات تمام سیاستدانوں سے ملکی مفاد کی خاطر یہ تقاضا کرتے ہیں کہ سیاست میں لاابالی پن کا چلن ترک کیا جائے اور یقینی فیصلوں سے ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرنے کا رواج ڈالا جائے ، سیاسی افراتفری کا خاتمہ ہونا ضروری ہے ،ملک کے حالیہ غیر یقینی سیاسی حالات کسی بھی سیاسی جماعت کے مفاد میں نہیں،ان حالات میں دیکھا جائے تو پاکستان میں سب ہی سیاسی جماعتیں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی دعویدار ہیں، حب الوطنی کا جذبہ رکھنے والے اہل نظر کو ملکی معاملات سلجھانے کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے ،پاکستان کے حالات انتہائی نازک موڑ پر آگئے ہیں ،آج ملک کے سب سے بڑے صوبے پر حکمرانی کے لئے جاری اس جنگ میں کون فتحیاب ہوگا اس کا فیصلہ بھی آج ہی ہوجائے گا ،فتح وشکست سے بالاتر اصول وقواعد پر کاربند رہنے کا چلن اختیار کرنے والوں کے سرخرو ہونے کا مرحلہ بھی درپیش ہے ،صوبے کی حکمرانی کا سہرا کس کے سر پر سجایا جاتا ہے اس کا فیصلہ بھی آج تخت پنجاب کی جنگ میں ہوجائے گا ۔ع

کس کا مسلک محترم ہے بندگی میں ناصحا
تیرے میرے درمیاں یہ فیصلہ ہوجائے گا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...