Home بلاگ ” سربچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائے گا“

” سربچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائے گا“

خوااجہ آفتاب حسن

پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کیا ہوا گویا نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھل گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اورمسلم لیگ (ن) کے ایم پی ایز کی یوں بولیاں لگ رہی ہیں جیسے فروٹ منڈی میں کوئی تربوز کا ٹرک ہو اور آوازیں لگ رہی ہوں ” جیہڑا چیرو، اوہی لال اے“۔ یعنی سودا بکنے کو تیار ہے آپ صرف ” مناسب “ ریٹ لگائیں۔ دیکھا جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں، مسلم لیگ (ن) اقتدار حاصل کرنے کے لیے ارکان اسمبلی کی خرید وفروخت کا خاصا تجربہ رکھتی ہے۔ لیکن فارن فنڈنگ کیس میں پھنسی پی ٹی آئی کو کیا سوجھی کہ جلیل شرقپوری جیسے ایم پی اے کے استعفے کے لیے دس کروڑ جیسی خطیر رقم خرچ کرڈالی۔ یہ ہماری سیاست کا ہمیشہ سے المیہ رہا ہے کہ جب دھونس دھاندلی نہ چلے تو ”مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے“ کا حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اورویسے بھی اگر آپ کو ووٹ کی پرچی پر مہر دائیں سے بائیں یا اوپر سے نیچے کرنے کے دو چارنہیں دس سے چالیس کروڑ مل رہے ہوں تو کس کافر کا ایمان سلامت رہتا ہے۔ یہ تو برا ہو سوشل میڈیا کا جو پل میں ایسی خبر عام کردیتا ہے ورنہ تو جو ایم پی ایز اتنی بڑی رقم کو انکم ٹیکس اورایف بی آر سے محفوظ بنانے کا سوچ ہی رہے ہوتے ہیں، ان کے بارے میں خبر چل جاتی ہے کہ فلاں نے وفاداری تبدیل کرنے کی کروڑوں کی آفر ٹھکرا دی۔اوروہ بے چارہ دانت پیستا اور مٹھیاں بھینچتا رہ جاتا ہے۔ جب سے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک دوسرے پر اپنے ارکان صوبائی اسمبلی خریدنے کاالزام لگایا ہے، عالمی مالیاتی ادارہ بھی سوچ میں پڑ گیا ہو گا کہ یہ کس قسم کا ملک اور کس طرح کے حکمران ہیں کہ ملک کو چلانے کے لیے ہمارے آگے ایڑیاں رگڑتے اورامداد کی بھیک مانگتے ہیں اوراقتدار حاصل کرنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کررہے ہیں۔ ویسے تو آئی ایم ایف کو پاکستان جیسے ملک ہی بھلے لگتے ہیں، جہاں پیسا کسی اورکام کے لیے لیا جائے اور خرچ کسی اورمد میں ہو۔ اورقرض واپسی کے لیے اورقرض لیا جائے ۔

جب ایم پی ایز کی بولیاں لگ رہی ہوں تو ایسے میں ان ارکان اسمبلی کا دل بہت دکھتا ہے جن کے بارے میں پارٹی میں ” خوامخواہ“ یہ تاثر پھیلا ہوتا ہے کہ فلاں بہت نظریاتی اورپارٹی کا وفادار ہے، اسے خریدا نہیں جاسکتا۔ ان بے چاروں کو اسی وجہ سے مخالف پارٹی والے منہ نہیں لگاتے اوریہ ہمیشہ نقصان میں رہتے ہیں، چاہتے ہوئے بھی کروڑوں تو درکنار لاکھوں یا ہزاروں کی آفر تک نہیں ہوتی۔ مخالف پارٹی ان کی سیاسی وابستگی کی قدر کرتے ہوئے انہیں خریدنے کی کوشش نہیں کرتی اوراپنی پارٹیوں میں وابستگی کے بوجھ تلے دبے یہ لوگ بس منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ہمارا ارکان اسمبلی کو خریدنے والوں کو یہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی مخالف جماعت کے ایم پی ایز کووفاداری تبدیل کرنے کے لیے کم از کم ایک” مشترکہ آفر“ کا اعلان کریں جو سب کے لیے ہو تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہواور ہر رکن اسمبلی کو اپنی سیاسی اہمیت وقیمت کا اندازہ ہوسکے۔ اس بولی کے دوران کچھ ایسے نمبر ضرورشیئر کیے جانے چاہئیں کہ جن پر کوئی بھی مخالف رکن اسمبلی رابط کرسکے اوریہ گارنٹی ہو کہ تمام معاملہ صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ اگرچہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ خفیہ نمبر والا معاملہ اب پرانا ہوچکا کہ ” مجھے ایک نامعلوم نمبر سے وفاداری تبدیل کے لیے کروڑوں روپے کی آفر آئی یاوزارت اعلیٰ کے مخالف امیدوار کو ووٹ کاسٹ نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی“۔ سوچنے کی بات ہے 180 ارکان اسمبلی میں سے محض چند ایک سے ہی وفاداری تبدیل کرنے کے لیے رابطہ کیوں کیا جاتا ہے؟۔ یا تووہ بہت کمزور ایمان والے ہوتے ہیں یا پھر اپنی اہمیت ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دونوں میں سے ایک بات تو پکی ہے۔

سیاسی جماعت میں نظریاتی ہونا کسی زمانے میں بہت اعلیٰ وصف گردانا جاتا تھا، اب تو آج ادھر کل کہیں اور، پرسوں پھر واپس، ایسے لوگ زیادہ کامیاب، بااثر اورمعتبر سمجھے جاتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو اپنے فواد چودھری اورشاہ محمود قریشی کو ہی دیکھ لیں۔ شیخ رشید کا نام ایسے لوگوں کی فہرست میں ڈالا جاسکتا ہے لیکن وہ بہت سیانے ہیں، وہ یک رکنی پارٹی کے نہ صرف سربراہ ہیں بل کہ واحد منتخب رکن قومی اسمبلی بھی۔ اقتدار کے لیے گنتی پوری کرنے کے حوالے سے ان کی اہمیت آزاد رکن اسمبلی جیسی ہے۔ بات کہیں اورنکل گئی، ذکر ہورہا تھا پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب اورارکان اسمبلی کی خریدوفروخت کا۔ اس خرید وفروخت کا سابق صدر مملکت آصف علی زرداری پر بھی لگا۔ الزام لگانے والوں کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کو بچانے کے لیے ہی آصف زرداری نے لاہور میں ڈیرے ڈالے ہیں اورارکان اسمبلی کی وفاداریاں خریدنے کے لیے پیسے وہ خرچ کررہے ہیں۔ مزے داری کی بات یہ ہے کہ اس الزام کو لگانے والے زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے بعد یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ آصف زرداری نے مسلم لیگ (ن)سے بدلا لے لیا ۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ قوم کے کمزو ر حافظے کا فائدہ جتنا مفاد پرست سیاستدانوں نے اٹھایا، شاید ہی کسی نے اتنا اٹھایا ہو۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ اس سوچ اورتاثر کوبھی ختم کیا جائے کہ قوم اپنے ساتھ ہونے والے ہر ظلم وزیادتی کو آسانی سے بھول جاتی ہے۔ بہ قول راحت اندوری 

انصاف ظالموںکی حمایت میں جائے گا 

یہ حال ہے توکون عدالت میں جائے گا

دستار نوچ ناچ کے احباب لے اڑے 

سربچ گیا ہے یہ بھی شرافت میں جائے گا 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...