Home بلاگ ضمنی انتخابات اور فاتح پنجاب

ضمنی انتخابات اور فاتح پنجاب

ڈیرے دار
سہیل بشیر منج
حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو حیران کن اور خلاف توقع کامیابی ملنے پر میری طرف سے تمام کارکنان ،عہدہ داران اور عمران خان کو بہت مبارکباد اس الیکشن کے بعد سب کو یہ ماننا پڑے گا کہ عمران خان الیکشن لڑنا جانتے ہیں نیریٹیو بلڈنگ میں اس وقت کوئی بھی عمران خان کا ثانی نہیں اب تو یہ بیانیہ بھی دم توڑ چکا ہے کہ عمران خان کو امپائر کی انگلی نے کامیابی دلوائی ہر شخص کو یہ جاننا ہو گا کہ اس دفعہ عمران خان کے بیانیہ
( ہم غلامی قبول نہیں کریں گے)
کو ووٹ ملا ہے
الیکشن میں امیدوار ان کا چناؤ سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے عمران خان نے بلاشبہ اپنے امیدواران کا بہت اعلی انتخاب کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیس میں سے سوله سیٹیں تحریک انصاف کا مقدر بنیں ۔ مشکلات،اور فارن فنڈنگ کیس میں گری ہوئی تحریک انصاف کے لیے ضمنی انتخابات نئی زندگی کی نوید لائے ہیں اس سے بڑھ کر یہ کہ پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں ایک طرف اور عمران خان ایک طرف تھا اس قدر پست حوصلوں کے ساتھ میدان میں اترنا اور فاتح ہوجانا بلاشبہ ایک جرات مند اور دلیر لیڈر ہی کر سکتا ہے جہاں اس الیکشن نے پنجاب کا فیصلہ کیا وہیں مرکز بھی حالات پیچیدہ ہونے کے چانسز موجود ہیں اب تحریک انصاف کے پاس دو راستے ہیں پنجاب میں اپنی حکومت بنائے اور مرکز کے لیے جوڑ توڑ کر کے واپس آکر اپنی آئینی مدت پوری کرے یا پھر پنجاب اور کے پی کے اسمبلی تحلیل کریں اور نئے الیکشن کی طرف چلے جائیں اس کا فیصلہ آئندہ چند دنوں میں ہو جائے گا میں نے پچیس مارچ کو ایک کالم
(سیاسی تماشا اور مسلم لیگ نون کا مستقبل)
میں موجودہ حالات کے بارے میں اپنی ناقص رائے کا اظہار کیا اور اتفاق سے سیاسی حالات میری پیشین گوئی کی طرف رواں دواں ہیں اب آتے ہیں نون لیگ کی انتخابات میں حیرت انگیز شکست پر تو معزز قارئین کرام اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ کو شکست دے دی تو کسی حد تک درست ہوگا لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ( مسلم لیگ نے مسلم لیگ کی مدد سے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست دے دی تو شاید بالکل غلط نہیں ہوگا) مسلم لیگ کی ہمیشہ سے یہی ریت رہی ہے کہ اس نے اپنے کارکن کو وہ اہمیت نہیں دی جس کا وہ حقدار ہوتا ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ آج تک چاروں صوبوں کی پارٹی نہیں بن سکی مسلم لیگ ن اپنی اسی فرسودہ روایت کی وجہ سے بے شمار قیمتی لوگوں کو گنوا چکی ہے لیکن میاں صاحبان کے تکبر کی وجہ سے انہیں وہ لوگ نظر نہیں آ رہے اس الیکشن نے ان کے اس بیانیے کو رول کر رکھ دیا جو یہ کہا کرتے تھے کہ(ووٹ شیر کے نشان کا ہے)
پی ٹی آئی کے بیس لوگ منحرف ہوئے تھے تو ہر طرف رولا پڑ گیا لیکن شاید نون لیگ یہ نہیں جانتی کہ اس کے ہزاروں کارکن ان سے منحرف ہو چکے ہیں جس کا فائدہ تحریک انصاف کو پہنچا اگر تحریک انصاف کے اس بیانیہ کو کچھ دیر کے لئے مان لیا جائے کہ منحرف اراکین کو پیسے دے کر خریدا گیا تھا تو پھر ضمنی انتخابات میں انہیں ٹکٹ دینے کی کیا ضرورت تھی یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ نون لیگ کسی شخص کو کسی دوسرے حلقے میں لاکر انتخاب جتوانا چاہے گی تو ایسا ممکن نہیں کیونکہ عمران خان نے لوگوں کو بتا دیا ہے کہ کیا ہم کوئی غلام ہیں اگر مسلم لیگ نون آئندہ کسی بھی میدان میں کامیابی چاہتی ہے تو انہیں اپنی پرانی روش کو بدلنا ہوگا
حالیہ ضمنی انتخابات میں جہاں مسلم لیگ کو تحریک انصاف کی مضبوط کمپین کا سامنا تھا
وہیں پر نون لیگ کے اپنے کارکنوں کی مخالفت بھی درپیش تھی جن کی جگہ ان افراد کو ٹکٹ دے دی گئی اگر مسلم لیگ الیکشن ہارنے پر رپورٹ مرتب کرے تو میری اس نشاندہی کو بھی مد نظر رکھیں گے تو ان کی ریسرچ کے بہتر نتائج مرتب ہوسکیں گے
عمران خان کی گزشتہ دور میں ملک اور معیشت کے لیے پیدا کردہ مشکلات مہنگائی ،لوڈشیڈنگ ،تباہ حال انڈسٹری ،صفر انفراسٹکچر، غیر ملکی قرضوں کی بہتات
بے روزگاری ،پنکی پیرنی، فرح گوگی ،حر یم شاہ طیبہ گل،زلفی بخاری اور ان جیسے تمام لٹیروں پر پردہ ڈل گیا جس دن مسلم لیگ نے حکومت میں آنے کا شوق پورا کر لیا
اس دن عمران خان سیاسی شہید کا درجہ پا گیا میں اپنی تحریروں کے ذریعے میاں صاحبان سے گزارش کرتا رہا کہ برائے کرم انہیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے دیں اگر تحریک انصاف اپنی آئینی مدت پوری کر جاتی ہے تو کوئی گمان نہیں کہ آئندہ الیکشن میں ان کا انجام ق لیگ جیسا ہو جاتا
جن لوگوں نے عمران خان کی حکومت کے خاتمے پر سجدہ شکر ادا کیا تھا اب ان میں سے پچاس فیصد لوگ مٹھائی کھانے میں مصروف ہیں ان ضمنی انتخابات کو صرف ضمنی انتخابات نہ سمجھا جائے یہ آئندہ جنرل الیکشن میں مسلم لیگ کے لیے خطرے کی پہلی گھنٹی ہیں شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تحریک انصاف گرم لوہے کا فلفور فائدہ اٹھائے گی اور جتنی جلدی ممکن
ہوا پنجاب اور کے پی کے اسمبلی تحلیل کرکے نئے انتخابات کی طرف جائے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل الیکشن میں بھی مسلم لیگ کو بہت نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خدانخواستہ میرے ملک پر پھر سے وہی لٹیروں کا گروہ مسلط ہوجائے لیکن اگر اس سے پہلے الیکشن کمیشن کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہوجاتا ہے جس ضمن میں بہت سے ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں تو عمران خان سمیت پوری تحریک انصاف کے دفن ہونے کے چانسز موجود ہیں اللہ کریم سے دعا گو ہوں کہ جو بھی ہو میری ریاست کے لیے بہتر ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...