Home بلاگ مشکل فیصلوں کا نقصان

مشکل فیصلوں کا نقصان

تحریر؛ مشتاق قمر
پنجاب میں گذشتہ دنوں ضمنی انتخابات نے مسلم لیگ ن کی مقبولیت کا گراف نیچے کر دیا۔ پنجاب اسمبلی میں حمزہ کی حکومت کو قائم رکھنا مشکل نظر آرہا ہے جبکہ رانا ثناء اللہ نے بیان دے کر اپوزیشن کی صفوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اب وہ اپنے ممبران کی نگرانی کو مزید سخت کر رہے ہیں۔ ادھر آصف علی زرداری دن میں چوہدری شجاعت حسین کے گھر کے کئی کئی چکر لگا کر ماحول کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مسلم لیگ اور اتحادی جماعتوں نے اپنے اپنے ممبران کو محفوظ مقام پر پہنچا دیاہے۔ ایک زرداری سب پر بھاری والے جملے کو کہاں تک ممکن سچ بنایا جائے گا دیکھنا ہوگا۔ عمران خان کے فوری الیکشن کے جواب میں پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات تو وقت پر ہی ہوں گے۔گذشتہ چار سالوں میں جو عمران حکومت نے ملک کا حال کر دیا ہے اب فوری الیکشن کروا کر کیا بہتری کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب چیئرمین الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات لگا کر الیکشن کو وقت سے پہلے متنازعہ بنا رہے ہیں۔ بار بار اداروں پر حملے کرکے آئے روز بیرونی قوتوں کو ملک کی سالمیت پر دعوت دے رہے ہیں۔ معیشت کہاں کھڑی ہے۔ ڈالر کی اڑان نے روپیہ کی قدر میں کمی کر دی ہے۔ قرضوں کا بوجھ آئے دن بڑھ رہا ہے۔ سرمایہ دار ملک میں سرمایہ لگانے سے ڈر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ملک کی ساکھ خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔تحریک انصاف کی گذشتہ سالوں کی کارکردگی کی طرف دیکھیں تو ہمیں صفر دکھائی دیتی ہے۔ نوازشریف کو چور ثابت کرنے پر صرف کیے مگر سزا دلوانے میں ناکام رہے۔ 200ارب روپیہ قرضہ لے کر بھی ملک چلتا نظر نہیں آیا ۔ اب کون سی حکمت عملی ہے جس سے فوری انتخاب سے ملک کو اس بحران سے نکال پائیں گے۔ یہاں سیاست ذاتی دشمنی اور رنجش کے گردگھومتی نظر آ رہی ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ملک کو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ چوہدری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بن بھی گئے تو کیا پنجاب کے حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ میری نظر میں وزیراعلیٰ بن کر وہ پنجاب کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔ جہاں ملک کی خدمت کو چھوڑ کر ذاتی ایجنڈے پر کام زیادہ نظر آ رہا ہے۔ سندھ میں بھی فتح کرنے کے چکر میں آج کراچی کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ ایم کیو ایم کے دور میں جو استحکام تھا آج نہیں ہے۔ کچرے سے بھرے شہر کارکردگی کی مثال ہے۔ لاہور جو باغوں اور پھولوں کا شہر تھا آج کچرے اور کوڑے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے۔ ذاتی لڑائی اور جھگڑوں میں ملک کا ستیاناس ہم خود کر رہے ہیں۔ ایسی سیاسی جماعتیں جن کا ایجنڈا ملک کو تباہ کرنا اور لوٹ مار ہے۔ اس پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ یہاں باری باری حکومت کرنے کی دوڑ میں مزدور اور دیہاڑی دار مر رہا ہے اس کے لیے کوئی عدالت، کوئی ادارہ سوال نہیں اٹھاتا۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہے جبکہ مزدور کو وہی کئی سال پہلے والی مزدوری مل رہی ہے۔ آٹا، گھی، چینی کے بھائو آسمان سے باتیں کر تے ہیں۔ کبھی کسی حکمران نے یا اعلیٰ عدالتوں نے پوچھا کہ وہ اپنی زندگی کیسے بسر کرتے ہیں۔ کروڑوں روپے خرچ کرکے پنجاب پر قبضہ کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں۔ سب خاموش تماشائی بنے تماشا دیکھ رہے ہیں۔ گھنٹوں گھنٹوں عوام کو زبردستی تقریریں سنائی جاتی ہیں۔ صبح سے شام اور شام سے صبح تک رسہ کشی کی سیاسی اننگز کھیلی جاتی ہے۔ ہار جیت الگ سے مگر عوام کے جذبات کا خون صبح و شام ہوتاہے۔ کیا ٹیلی ویژن سکرین ہمیں یہ دکھانے کے لیے ہے کوئی اخلاقی تربیت نہیں کوئی کام کی باتیں نہیں۔ بس سیاسی جماعتوں کی پریس کانفرنس اور ان کی گھنٹوں گھنٹوں تقریریں سنا کر ہمیں اور ہمارے بچوں کو ذہنی دبائو میں لایا جا رہا ہے۔ ہمیں زبردستی ان کی باتیں سننے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ کبھی پیمرا نے سوچا کہ ہم کیوں ایسا کر رہے ہیں۔ عوام کی تفریح کے لیے ہم کوئی اور پروگرام نہیں دکھا سکتے۔ ایک وقت تھا جب بچوں کی تربیت کے لیے والدین مدارس میں اور بزرگوں کے پاس بچوں کو بھیجتے تھے۔ جب اخلاقیات اور وضع داری تھی آج بچے بڑوں کو بڑا اور بزرگوں کی قدر بھول گئے ہیں۔ سٹڈی سرکل سے تعلیم دی جاتی تھی سیاسی شعور تھا آج نفرت اور مکاری کا درس دیا جا رہا ہے۔ لڑائی جھگڑے سکھائے جا رہے ہیں۔ لوٹ مار کرنے کے نت نئے طریقے بتائے جاتے ہیں۔ جہاں سوشل میڈیا اچھا کام کر رہا ہے وہاں زہر قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔ ہماری تربیت زیرو ہو گئی ہے۔ علم ختم ہو گیا ہے۔ انفارمیشن کو علم سمجھ لیا ہے۔ پرائیویٹ اداروں نے تعلیم کو کاروبارمیں بدل دیا ہے ۔ کیا ہم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ ہرگز نہیں متوازن معاشرہ ہوگا تو ترقی ہو گی علم و ادب کی محافل ہوا کرتی تھیں شعور آگہی کا دور تھا جو اب خواب ہو گیاہے۔ نہ وہ استاد رہے ہیں نہ وہ ادارے مدارس جو ہماری شناخت تھے۔ انہیں متنازعہ بنا دیا ہے۔ مسلک نے اداروں کا تقدس پامال کر دیا ہے۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ہم فرض سمجھتے ہیں ایسے عناصر ملک تباہ کرکے معززین بن کر پھرتے ہیں۔ کوئی سزا اور جزا نہیں،اونچے عہدوں پر بیٹھ کر نااہل لوگ ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اور ہم کیسے امید کریں کہ ملک درست ہوگا ہم نہ جانے کس دنیا میں رہ رہے ہیں۔ ٹی وی سکرین سے ان عناصر کو دور کرنا پڑے گا جو دھوکا دیتے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں۔ صرف ٹی وی سکرین اور سوشل میڈیا نے ہمارے ملک کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ جھوٹ اور سچ میں تمیز بھول گئے ہیں۔ حقیقی ملک سے محبت کرنے والوں کو غدار قرار دے کر یا تو ملک بدر کر دیا ہے یا پھر ہم نے پھانسی دے کر شہدا میں اضافہ کر دیا ہے۔ کیا ہر ایوان میں بیٹھا شخص محب وطن ہے، سیاست غلاظت کا ڈھیر لگنے لگا ہے۔ ہر لیڈر کی اخلاقیات اتنی پست ہے کہ سن کر شرمندگی ہوتی ہے۔ الیکشن کا کوئی مقبول طریقہ کار وضع نہیں ہوا ، کون شخص الیکشن لڑنے کا اہل ہے اور کون نہیں ، دولت کے بل بوتے پر ہمارے ملک کے فیصلے کرنے کے مالک بن جاتے ہیں۔ جب تک ہم نے کوئی اصول نہ بنائے اس وقت تک غلط لوگ آتے رہیں گے اور ملک آگے کی بجائے دلدل میں پھنستا چلا جائے گا۔ادب اور ادیب ہی اس معاشرے کو درست سمت لے جا سکتا ہے جب تک ان کی قدروقیمت اور وقار میں اضافہ نہیں ہوتا اس وقت تک ایک بہترین معاشرہ معرض وجود میں نہیں آ سکتا۔ کتاب سے نوجوان کو جوڑنا ہوگا۔ اہل قلم کی عزت میں اضافہ کرنا ہوگا عوام میں شعور پیدا کرنا پڑے گا کہ آپ کے مسیحا صرف اور صرف اسناد اور اہل قلم بنیں۔ پھر ہماری اخلاقیات بھی بہتر ہو گی اور معاشرہ میں محبت اور امن کا بول بالا بھی ہو گا پھر ہی دنیا امن کاگہوارہ بن کر سامنے آئے گی۔
میں ایہنوں خودکشی کہواں یا قتل کہواں کیہ آکھاں میں
دنیا اپنے بچن دی یاروں بمب بنائی جاندی اے
(ڈیوڈپرسی)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...