Home بلاگ فیصلے آئندہ کے لئے مثال بن جائیں

فیصلے آئندہ کے لئے مثال بن جائیں

روداد خیال صفدر علی خاں

آبادی کے لحاظ سےپاکستان کے سب سے بٹرے صوبے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کے منصب کیلئے ہونے والے دوبارہ الیکشن کے نتیجے میں حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہوچکے ہیں۔حمزہ شہباز نے یہ معرکہ چند ماہ میں دوسری مرتبہ ماراہے، قبل ازیں انہیں پی ٹی آئی کے منحرفین ارکان کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ نے ڈی سیٹ کیاجس کے بعد نئے الیکشن ان ارکان صوبائی اسمبلی کے دوبارہ الیکشن کے بعد ہوئے تاہم پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کے فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ ایوان میں ایک پارلیمانی پارٹی کا کسی بھی رکن کا ووٹ آرٹیکل 63۔اے کی ذیلی شق ایک کے پیرا بی تحت اول الذکر کی جاری کردہ کسی ہدایت کے خلاف دیاجائے تو یہ ووٹ شمار نہیں ہوگا اور اس بات سے قطع نظر کہ پارٹی سربراہ انحراف کی وجہ بننے والے ووٹ کے بعد کارروائی کرے یا نہ کرے ۔آرٹیکل 63اے کے مطابق کسی رکن پارلیمینٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔اگر پارلیمنٹرین وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کے انتخابات کے لئے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے ۔ سپریم کورٹ کے شائد اسی فیصلے کو بنیاد بناکر ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ق لیگ کے دس ارکان صوبائی اسمبلی کے ووٹ شمار نہیں کئے جس کے نتیجے میں حمزہ شہباز دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے تاہم اسی دوران ق لیگ کے چودھری پرویز الٰہی نے اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ،کیس قابل سماعت قرار دیئے جانے پر عدالتی کارروائی شروع ہوچکی ہے ،دونوں فریقین سپریم کورٹ کے فل بنچ کی تشکیل چاہتے ہیں ،ادھر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کے وکیل عرفان قادر نے سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلے سے پہلے پارلیمانی سماعت کے بغیر کیسے فیصلہ دیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ کے بینچ کے قیام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، اس معاملے پر سماعت کے لیے فل کورٹ بینچ قائم کیا جانا چاہیے تھا، اس بینچ کے قیام اور اس کی سماعت پر ملک بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی کارروائی کا کسی بھی وقت بایئکاٹ کیا جا سکتا ہے، ان کے کلائنٹ سے مشاورت کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم اس بینچ کے قیام پر کافی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔عدالت عظمیٰ میں پرویز الٰہی کی درخواست میں مدعا علیہ کے وکیل، وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کے اظہار کے تناظر میں کارروائی کا بائیکاٹ کر سکتے ہیں اور کہا کہ ہمیں اس بینچ سے انصاف کی توقع نہیں ہے۔
قبل ازیں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا تھا کہ ’’ہم یکطرفہ فیصلہ قبول نہیں کریں گے‘‘۔ ان کا یہ بیان سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ حمزہ شہباز پیر کے دن تک ٹرسٹی وزیراعلیٰ کے طور پر کام جاری رکھ سکتے ہیں۔اس حوالے سے ایک بات تو واضح ہوچکی ہے یعنی “سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس پر آرٹیکل 63.اے کی تشریح کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیاگیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے “اب یہاں ق لیگ کے سربراہ کے خط پر انکے دس ارکان کے ووٹ کی حقیقت کے حوالے سے معاملہ پھر سپریم کورٹ میں ہے ،ہر فریق اپنے حساب سے سپریم کورٹ کے سابق فیصلے کی تشریح کرنا چاہ رہا ہے جبکہ مئی 2022ء میں ہی
آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارٹی قیادت کی ہدایت سے انحراف کرنے والے ارکان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا مگر اس بارے میں آئینی وکلا کی رائے منقسم دکھائی دیتی ہے۔اب یہی سبب ہے کہ اسی طرز کا معاملہ پھر عدالت میں تشریح طلب ہے ،سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر ہی دونوں فریق اپنے تئیں خود کو حق بجانب قرار دے رہے ہیں ،اب اس معاملے پر کیس زیرسماعت ہے ،قانون کے ایک طالب علم کی حیثیت سے خاکسار بھی بہت اچھی امید وابستہ کرچکا ہے ،فیصلے سے بہتری کی توقعات ہیں ،کئی معاملات کلیئر ہوجائیں گے ،
،پارٹی پالیسی کے حوالے سے حقیقت میں کس کا کیا اختیار ہے یہ بھی اب کلیئر ہونا چاہئے ،ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ سمیت تمام معاملات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے کو مثال بننا چاہئے ۔ہر طرح کا ابہام ختم ہونے سے تمام فریقین کے تحفظات بھی دور ہونے چاہیئے ۔ان سب کیلئے پھر تمام فریقین کو بھی عدالتوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان سے آئین کی تشریح کے حوالے سے بھرپور تعاون کرنا ہوگا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...