Home بلاگ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دو

پاکستان میں سیاحت کو فروغ دو

منشاقاضی
حسب منشا

مغرب کا دانشور برناڈشا پھول سے بے پناہ محبت کرتا تھا اور اس کی یہ کمزوری دوستوں پر عیاں تھی ایک روز آپ کے ایک دوست ملنے کے لیئے برناڈشا کے گھر ڈرائنگ روم بیٹھے تھے اور دیکھ رہے تھے کہ برناڈشا کے ڈرائنگ روم میں کہیں بھی کوئی گلدستہ موجود نہیں ہے وہ حیران ہوا کہ برناڈشا صرف پھول سے زبانی محبت کرتا ہے , اگر محبت کرتا ہوتا تو میز پر پھولوں کا کوئی گلدستہ ضرور ہوتا , برناڈشا کے دوست کا تجسس بڑھنے لگا اور وہ حیرت سے تحیر میں چلا گیا اور اس سے پوچھ لیا کہ آج تمہاری پھول سے نام نہاد محبت کا راز طشت از بام ہو گیا , تو پھول سے محبت نہیں کرتا , اس پر شاء نے جو جواب دیا اس سے دوست کی تسلی ہو گئی , برناڈشا نے کہا کہ ہاں میں پھول سے ہی نہیں بچوں سے بھی پیار کرتا ہوں مگر میں ان کے گلے کاٹ کر مختلف برتنوں میں نہیں سجاتا , مغرب کا دانشور پھول نہیں توڑتا کہیں باغباں کا دل نہ ٹوت جائے , اور ایک ہم ہیں کہ زیارت میں جنگلات کے ان درختوں کو کاٹ رہے ہیں جس جنگل کا شمار دنیا کے چار جنگلوں میں ہوتا ہے , تین سو سال پرانے درختوں کو کٹتے جس ہستی نے دیکھا ان کی قلبی کیفیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا , بہر حال کسی شاعر سے پوچھیں گے تو وہ بتائے گا کہ
ایندھن کے لیئے جو کل کٹ کے گرا تھا
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے
میری تمہید طول پکڑ گئی ہے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں کہ آج چند درد مندوں نے سیاحت کی صنعت کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا جزو اعظم قرار دیا , سیاحت سے متعلقہ یہ کون لوگ تھے میں ان کو پاکستان کا محسن قرار دوں گا , جن کو پاکستان نے وہ سب کچھ دیا جس کی ان کو خواہش تھی اور اب جب اپنے وطن عزیز کی معاشی زلف پریشاں کو دیکھتے ہیں تو اس کو سنوارنے کے لیئے سیاحت کی صنعت کے فروغ کے لیئے اپنی صلاحیتیں , توانائیاں اور متاع ء گرانمایہ بے دریغ نچھاور کر دینے پر تلے ہوئے ہیں , اس تحریک کے محرک بے غرض اور بے لوث مرد میدان مسعود علی خان کی کاوش اللہ کی نوازش ہے وہ 8 کے قریب قومی سوچ تخلیق کرنے والے شاندار , کامیاب اور مؤثر سیمینارز کروا چکے ہیں اور آج ایک ظہرانے میں ان شخصیات کو دعوت دی جو درد کے صحرا میں بیٹھ کر نخلستانوں کی نوید دیتے ہیں تجربات کی ان یونیورسٹیوں میں ممتاز ماہر سیاحت جناب میاں وحید الدین کی موجودگی مسیحائی کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی سریع الحرکت کارکردگی کے حسن سے مالا مال تھی , جناب فیاض احمد کا اخلاص اور جناب جمیل رضا کی رضا , محمد علی کی جواں فکر کی قندیل فروزاں تھی , جناب ندیم شہزاد جنہوں نے پاکستان کے قدرتی مناظر اپنی آنکھ سے دیکھے ہوئے تھے وہ تخیل سے زیادہ عمل کے آدمی ہیں , جناب صادق صابر کا حاذق تجربہ سیاحت کی صنعت کی ترقی کا زینہ ہے , جناب مسعود علی خان نے ابتدائیہ کلمات میں بتایا کہ سیاحت کی صنعت جن ملکوں میں بہت زیادہ ہے ان کا سالانہ بجٹ کا انحصار اسی شعبے سے وابستہ ہے وہ آئی ایم ایف کی طرف دیکھتے بھی نہیں , ان کی خوشحالی کا راز سیاحت کی صنعت کا رہین منت ہے , مسعود علی خان نے نیشنل ہارس اینڈ کیٹل شو ضلعی سظح تک کمشنر اور ڈی سی کی سرپرستی میں منعقد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور طے پایا کہ سیاحت کے فروغ کے حوالے سے عنقریب ایک سیمینار کا اہتمام کیا جائے جس میں حکومت پر تنقید نہ کی جائے بلکہ سیاحت کی صنعت کی راہ میں مشکلات دور کرنے اور مسائل کا حل پیش کیا جائے اور مغرب کو اپنی تہذیب و تمدن کی حقیقی تصویر دکھا جائے , آج ثقافت کا ہتھیار ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہے جس سے ہم نے اپنی نسلوں کو بچانا ہے , مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب مولانا محمد علی جوہر انگریز گورنر کی ضیافت میں عربی لباس پہن کر گئے تو انگریز گورنر نے کہا کہ مسٹر محمد علی تم تو عرب معلوم ہوتے ہو اس پر مولانا نے جو جواب گورنر کو دیا وہ ہماری اسلامی تہذیب و تمدن کی تاریخ میں ہمیشہ آب زر سے لکھا جائے گا , مولانا نے کہا مسٹر گورنر میں آکسفورڈ یونیورسٹی کا گریجوایٹ ہوں میں پینٹ , کوٹ اور ٹائی وغیرہ پہنتا رہا ہوں مگر مجھے آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ مسٹر علی تم انگریز دکھائی دیتے ہو یہ اعجاز تو میرے آقا محمد عربی صل اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے کہ ایک روز عربی لباس پہن کر بلا حیم و حجت عربوں میں شمار کیا جا رہا ہوں ,کلچر اتنا طاقت ور ہوتا ہے وہ اپنا آپ منوا لیتا ہے , جمیل رضا پاکستان کی سیاحت کے محرم راز درون میخانہ ہیں ان کا سینہ رازوں کا دفینہ ہے وہ نسل نو قافلوں میں بری عادات کی پختگی دیکھ کر آزردہ دلی سے اس کے تدارک کی تدبیر سوچ رہے تھے ,
نشہ پلا کر گرانا تو سبھی کو آتا ہے
مزہ تو جب ہے کہ گرتوزن کو تھام لے ساقی

وادی ء کلاش کا حسن جس طرح ماند پڑتا جا رہا ہے اس میں مقامی لوگوں کی روائتی طرز معاشرت ہے وہ کالاش جس کا حسن چاند کو شرماتا تھا بلکہ چاند بھی اس کا چاہنے والا تھا آج اس کی فضا میں آلودگی اور گندگی نے اس کا حسن ماند کر دیا ہے , مسعود علی خان نے ماضی کی ایک خاتون ٹؤرسٹ کے بارے میں بتایا کہ وہ پہاڑوں پر جا کر وہاں سے شاپرز اور دودھ کے خالی ڈبوں تک اٹھاتی تھی اور ماحول کو آلودگی سے بچاتی تھی اور آج اسی جذبہ کی ضرورت ہے , میاں وحید الدین جو آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری اور گلگت میں ڈی سی اور کمشنر رہ چکے ہیں آپ کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے , تجربہ ایک اچھا استاد ہے لیکن اس کی فیس بہت زیادہ ہے لہذا دوسروں کے تجربات سے بیش از بیش فائدہ اٹھانا چاہیئے اور یہ فآئدہ کسی کا ذاتی نہیں یہاں سارے بے لوث اور بے غرض لوگ بیٹھے ہوئے ہیں , پٹیریک ہنری نے کہا تھا زندگی کے اندھیروں میں میرے قدموں کی راہنمائی کرنے کے لیئے میرے ہاتھ میں صرف ایک چراغ ہے تجربہ کا چراغ , میں ماضی کی غلطیوں کو پیش نظر رکھ کر ہی مستقبل کی حماقتوں سے بچ سکتا ہوں اور مسعود علی خان نے ایک نہیں دس چراغ فروزاں کر دیئے ہیں , ان چراغوں میں ائر کموڈور خالد چشتی وہ چراغ ہیں جن کی لو آنے والی نسلوں کے سینوں میں عزم و ہمت قندیلیں فروزاں رکھے گی , آپ سی ٹی این کے شہہ دماغ اور خوبصورت زبان ہیں , ,رضوی صاحب کی خامشی میں بھی فصاحت و بلاغت کے دریا بہہ رہے تھے , اس کامیاب اجلاس کے انعقاد پر سب اراکین جو اب سی ٹی این کا حصہ ہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں اور یہ عبقری شخصیات کہہ سکتیں ہیں کہ

ہم نے اپنی پلکوں کے میناروں پہ تراشے ہیں چراغ
اور آپ کہتے ہیں کہ افسانہ ء شب کچھ بھی نہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...