Home بلاگ خواجہ فرید یونیورسٹی۔ ترقی کی راہ پر گامزن ایک جدید درسگاہ

خواجہ فرید یونیورسٹی۔ ترقی کی راہ پر گامزن ایک جدید درسگاہ

تحریر : ایم ڈی ملک

ہمیں آزاد ہوئے ستر سال سے زاید کا عرصہ ہو چکا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارا ملک آج بھی شرح خواندگی کا مطلوبہ معیار حاصل نہ کر سکا۔ کہنے کو تو تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں کے منشور میں تعلیم پہلی ترجیح ہے لیکن عملاً جب بھی کوئی پارٹی حکومت میں آتی ہے تو اس کی ساری توجہ تعلیم کی بجائے لوٹ مار اور پارٹی کے دوامِ اقتدار پر مرتکز رہتی ہے۔ تاہم ماضی میں کچھ حکومتیں ایسی بھی آئیں جنھوں نے ملک میں تعلیم و ترقی کے لیے قابل قدر کام بھی کیے۔خاص کر کے پنجاب میں مسلم لیگ کے دورِحکومت میں کئی نئے تعلیمی ادارے معرض وجود میں آئے۔ مسلم لیگ کی اعلی قیادت کو اس بات کا کریڈٹ بھی دیا جا سکتا ہے کہ انھوں نے ملک کے پسماندہ ترین علاقوں میں بھی اعلی تعلیمی ادارے قائم کیے۔جنوبی پنجاب کے ایک دور افتادہ شہر رحیم یار خان میں قائم ہونے والی خواجہ فرید یونیورسٹی اس کی ایک مثال ہے۔
اس یونیورسٹی سے متعلق تفصیل جاننے کی ضروت مجھے اس وقت پیش آئی جب رحیم یار خان سے میرے ایک سابقہ ماتحت، ریٹائرڈ جے سی او نے اپنے بیٹے کی اعلی تعلیم کے لیے جنوبی پنجاب میں واقع کچھ یونیورسٹیوں کے پراسپکٹس بھیج کر راقم سے کسی اچھی یونیورسٹی کے انتخاب کا مشورہ مانگا۔ راقم نے یہ ٹاسک اپنے دونوں انجنیئر بیٹوں کو تفویض کر دیا۔ ان کی پیشہ وارا رائے کے مطابق صوبیدار صاحب کے بچے کے متعلقہ ڈسپلن کے لیے خواجہ فرید یونیورسٹی موزوں ترین قرار پائی۔ راقم نے اس یونیورسٹی کی اچھی شہرت اور دوسری یونیورسٹیوں کے ساتھ اسکی تقابلی ریٹنگ کی انٹر نیٹ اور دیگر ذرائع سے پوری تحقیق کے بعد صوبیدار صاحب کو اپنی راے سے آگاہ کردیا۔
ہماری اس تحقیقی مشق کے دوران خواجہ فرید یونیورسٹی سے متعلق جو اہم معلومات حاصل ہوئیں ان کا ذکر کرنے سے پہلے میں قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ جنوبی پنجاب کے شہر رحیم یارخان کو میں نے تقریباً چالیس سال قبل پہلی مرتبہ اس وقت دیکھا تھا جب اس شہر کے مضافات میں آرمی کی ایک بڑی جنگی مشق ہو رہی تھی۔ راقم ایک نوجوان افسر کی حیثیت سے اپنی یونٹ کے ساتھ اس ایکسر سائیز میں شامل ہوا تھا۔ ہم نے اس شہر کے مضافات میں ایک ایسی جگہ پر ڈیرے ڈال رکھے تھے جہاں رات کے وقت اس شہر کی جھلملاتی روشینیاں نظر آتی تھیں۔ جنگی کیفیت سے بھرپور اور تھکن سے چور صحرائی زندگی کے ان بانکے دنوں میں اگرچہ ہمیں فرصت کے لمحات کم ہی نصیب ہوتے تھے لیکن کبھی کبھار ریڈیو سے جی بہلانے کا موقع مل جاتا تھا۔ ان دنوں کے فرمائشی پروگراموں میں عموما فلم نائلہ کے لیے حمایت علی شاعر کا لکھا یہ گیت ” دور ویرانے میں اک شمع ہے روشن کب سے، کوئی پروانہ ادھر آئےتو کچھ بات بنے” مالا اور مسعود رانا کی محسور کن آوازوں میں بالخصوص رات کے وقت جب نشر ہوتا تھا تو صحرا کے پر سکوت ماحول میں ایک عجیب سی سر مستی طاری کر دیتا ۔ دراصل اس گانے کے مکھڑے میں دوری اور ویرانے کے دکھڑوں کی پر سوز نغمگی میں نہ صرف ہماری اس وقت کی سخت کوش زندگی کی کتھارسس پنہاں ہوتی تھی بلکہ ان اندھیری راتوں میں اس شہر کی جھلملاتی روشنییاں ہی ہم ایسے پرِکٹے پروانوں کے لیے اُس باغ و بہار زندگی کی علامت تھیں جس کی طرف ہماری واپسی امید و بیم کا شکار تھی۔
جب میں اس یونیورسٹی کی انٹرنیٹ پر جانکاری حاصل کر رہا تھا تو اس گیت کے حوالے سے وہ گذرا ہوا زمانہ بہت یاد آیا اور پھر تا دیر یہ سوچتا رہا کہ وقت کیسےپر لگا کر اڑا تا ہے۔ ان چار دہائیوں میں رحیم یار خان نے دور ویرانے میں ہوتے ہوئے بھی بڑی سرعت سے ترقی کی ہے۔ خاص کر کے تعلیمی میدان میں فی زمانہ یہ اپنے گرد و پیش کے کہنہ شہروں میں قد آور دکھائی دیتا ہے۔ اس شہر میں واقع خواجہ فرید یونیورسٹی توعلم کی ایک ایسی روشن شمع کا روپ دھار چکی ہے جس کی روشنی سے ہزاروں علم کے پیاسےمستفید ہو رہے ہیں۔ یہ یونیورسٹی 2014 میں تقریباً 274 ایکڑ وسیع رقبے میں تعمیر ہونا شروع ہوئی۔ چند سال تعمراتی کام سست روی اور تاخیر کا شکار ہوئے لیکن الحمدللہ اب اس کے تمام تعلیمی شعبے مکمل فعال ہو چکے ہیں۔ معروف ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر محمدسلیمان طاہر اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں ۔ یہ بڑے اعلی پائے کے منتظم اور ہارڈ ٹاسک ماسٹر کے طور پر مشہور ہیں۔ یونیورسٹی کا ہر شعبہ پی ایچ ڈی ماہر تعلیم کے ماتحت انھیں کی نگرانی میں تدریسی فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ یونیورسٹی کی یہ مستعد ٹیم وائس چانسلر صاحب کےزیرِ نگرانی ادارے کے بلند تعلیمی معیار، ترقی اور نیک نامی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔
خوا جہ فرید ہونیورسٹی کا تدریسی عملہ انتہائی پیشہ ور اساتذہ پرمشتمل ہے۔ اس کی انتظامیہ میں بھی با صلاحیت افراد شامل ہیں۔ طلبا کی تعداد کچھ عرصہ قبل آٹھ ہزار تھی جو اب دوگنی ہوچکی ہے اور اس سال کے آخر میں تین گنا ہونے کی پوری توقع ہے۔ طلبا کے کیے بہترین رہائشی سہولتیں میسیر ہیں۔ اس یونیورسٹی نے تیس سے زائد نئے بی ایس ، ایم ایس اور پی ایچ ڈی پروگرامز شروع کیےہیں۔ یونیورسٹی اوپن کورس سافٹ ویر متعارف کروایا گیا ہے جس پر سٹوڈنٹس کے لیے تمام کورسز سے متعلق لنک میٹریل اور ریکارڈ لیچکر موجود ہوں۔ یہاں بیرونِ ملک یونیورسٹیز کےپروفیسرز اور ماہر تعلیم کے لیچکر ز کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کا نصاب، طریقہ تدریس اور کوالٹی اف ریسرچ عالمی معیار سے ہم آہنگ ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن ایمپیکٹ ریٹنگ 2022 کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی نے کوالٹی ایجوکیشن کٹیگری میں انجینرنگ یونیورسٹیز میں پہلی پوزیشن حاصل کا ہے جبکہ ملک بھر میں 10 ویں اور دنیا بھر میں پہلی تین سو جامعات کی فہرست میں شامل ہوگئی ہے اور افورڈ ایبل اینڈ کلین انرجی کی کٹیگری میں ملک کی انجینئرنگ یونیورسٹیز میں پہلی ، ملک بھر کی کے تمام جامعات میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے. عالمی سطح پر پہلی تین سو جامعات میں شامل ہونا اس یونیورسٹی کے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے۔ امسال مارچ میں یونیورسٹی کا پہلا کانووکیشن منعقد ہواجس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمدسلیمان طاہر نے کی جس میں کئی بلند رتبہ مہما نانِ گرامی شریک ہوئے۔
خواجہ فرید یونیورسٹی نےاپنے قیام کے ابتدائی سالوں میں تیزرفتار ترقی کی مثال قائم کرتے ہوئے ملکی یونیورسٹیوں میں ایک ایسا منفرد اور ممتاز مقام حاصل کیا ہے جس کی مثال دورحاضر میں کم کم ہی دیکھنے کوملتی ہے اس یونیورسٹی نے مختصر مدت میں کامیابی کے جو ریکارڈ قائم کیے ہیں ان پر جناب ڈاکٹر سیلمان طاہر تمام تدریسی اور انتظامی عملہ مبارکباد کا مستحق ہے۔
آخر میں میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ یہ یونیورسٹی جس عظیم ہستی کے نام ہی سے منسوب ہے وہ سرائیکی وسیب کے ایک ایسے صوفی منش شاعر تھے جن کو گذرے ایک صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن ان کا صوفیانہ کلام آج بھی اسی ذوق و شوق سے پڑھا اور سنا جا رہا ہے۔ انسان دوستی، محبت اور عشق ان کی شاعری کی بنیاد اساس تھیں۔ ان کی کافیوں کے مٹھڑے بول موسیقی کی مدھر لے سے ہم آہنگ ہو کر آج بھی جب لوگوں کی سماعتوں میں رس گھولتے ہیں تو روحِ انسانی وجد سے سر شار ہو جاتی ہے۔ چونکہ خواجہ غلام فرید کی شاعری ہمیشہ علم و ادب کی توجہ کا مرکز رہی ہے لہذا یونیورسٹیوں کی سطح پر ان کی شخصیت اور کلام پر یقیناً بہت سا کام ہواہو گا ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ یونیورسٹی اپنے نام کی نسبت سے اس سارے ورثے کو یکجا کر کے اپنے پاس محفوظ کرے اور اپنے طلبا کو فرید شناسی کی تعلیم کا اہتمام بھی کرے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...