Home بلاگ فنکار کی عزت اور حقیقی خوشی

فنکار کی عزت اور حقیقی خوشی

خواجہ آفتاب حسن

پاکستان میں فنون لطیفہ کی اگر بات کی جائے تو ہمارے ہاں عام تاثر ہے کہ اس سے مراد محض اداکاری وگلوکاری ہے ۔ حالا ں کہ مصوری ، فوٹو گرافی ، صدا کاری ،قصہ گوئی ، ہدایت کاری وپروڈکشن سمیت بہت سے شعبے اس میں شامل ہیں۔ لیکن فلم ،تھیٹر اور ٹی وی کی عوامی مقبولیت کی وجہ سے صرف اداکاروں اورگلوکاروں کوفنون لطیفہ کے دیگر شعبوں سے وابستہ افرادکی نسبت عوام کی زیادہ توجہ حاصل ہے۔ اس کے باوجود ہمارے زیادہ تر آرٹسٹوں کو یہ گلہ ہی رہا ہے کہ معاشرے میں ان کی عزت واحترام اس طرح نہیں جس طرح ہمسایہ ملک میں آرٹسٹوں کو حاصل ہے۔ اس حوالے سے بڑی آسان توجیح پیش کی جاتی ہے ، چوں کہ ہندو ازم میں موسیقی مذہب کاحصہ ہے اس لیے وہاں آرٹ اورآرٹسٹ کو بھگوان کا اوتار تک مانا جاتا ہے ۔ بھارت میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ وہاں لوگوں نے اپنے پسندیدہ فنکاروں کی مورتیاں اوران کے لیے مندر تک بنوائے ۔ دوسری جانب اگرچہ ہمارے ہاں آرٹ سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں لیکن آرٹسٹ کے لیے جو الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں انہیں کسی طورپر بھی مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ اس روایتی سوچ کی خلیج کو پاٹنے کے لیے آج پاکستان میں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کی نہ صرف باقاعدہ تعلیم عام ہے بل کہ کئی تعلیمی اداروں کی جانب سے اداکاری ، گلوکاری ، ہدایت کاری اورپروڈکشن کی بنیادی تربیت بھی دی جارہی ہے ۔ تاہم یہی ڈگری یافتہ اورپڑھا لکھا نوجوان طبقہ جب اداکاری وغیرہ سے وابستہ ہوتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ وہ مشہور تو بہت ہیں لیکن ان کی عزت بڑھنے کے بجائے کم ہوئی ہے اور اسے سوسائٹی وہ عزت واحترام نہیں دے رہی جس کا وہ حقدار ہے ۔

فنکار کو دنیا بھر میں اپنے ملک کی پہچان اور سفیر تصور کیا جاتا ہے، ہمارے آرٹسٹوں کے بارے میں بھی یہی رائے ہے کہ یہ بیرون ملک پاکستان کے آرٹ وکلچر کے وہ پروموٹر ہیں جو جہاں جاتے ہیں ملک وقوم کی عزت میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں ۔ دوسرے ممالک سے بہتر اوردوستانہ روابط کے لیے عموماً اہل علم ودانش اوراداکار وگلوکار وہ کام کرجاتے ہیں جو سفارتخانے بھی نہیں کرپاتے ۔اس کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارے فنکار اکثر یہ گلہ کرتے نظر آتے ہیں کہ لوگ ان سے آٹو گراف لینا ، ان کے ساتھ سیلفی اورتصاویر بنوانا تو بہت پسند کرتے ہیں لیکن سوسائٹی کے لیے رول ماڈل نہیں سمجھتے ۔ شاید ہم میں سے بہت سے مسلمان ہونے کے ناطے آرٹ وکلچر بالخصوص اداکاری وگلوکاری کو غیرشرعی مانتے ہیں اوراسی لیے فنون لطیفہ سے جڑے لوگوں کے بارے میں ہماری رائے زیادہ اچھی نہیں ۔اس کے علاوہ ہم وہ لوگ ہیں جومذہب کو خوف کاخول بنا کر پیش کرنے میں پیش پیش ہیں، گناہ ثواب کے چکر میں بہ طو رشہری اپنی ذمہ داریوں اور درست وصحیح کے فرق کو بھی تقریباً ختم کرچکے ہیں۔ مجھے یاد ہے مرحوم اداکار طارق شاہ کے صاحبزادے ببرک شاہ نے جب اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا تو اس کے جذبات بھی سوسائٹی میں اداکاروں کی عزت واحترام کے حوالے سے ایسے ہی تھے جیسے ہم نے اوپر بیان کیے ۔ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ببرک شاہ کا کہنا تھا کہ نہ جانے ہماری سوسائٹی کایہ دوہرا رویہ کب ختم ہوگا ۔یہ بات سوفیصد درست ہے کہ ان دوہرے رویوں کی وجہ سے ہی ہم شدید اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں ۔ فنکار کی عزت واحترام تو دور اب تو ہم ان دونوں لفظوں کے معنی تک بھول چکے ہیں اورشاید اسی لیے ملکوں اورقوموں میں ہمیں بھی بہ طور پاکستانی احترام اورعزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔

اداکار ببرک شاہ نے لگ بھگ دس پندرہ سال پہلے جوبات کہی ، گذشتہ دنوں گلوکارہ مون پرویز نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا ۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک نجی چینل کے مارننگ شوکی ریکارڈنگ کے بعد مون پرویز کے ساتھ اپنے یوٹیوب چینل کے لیے انٹرویوکیا جس کے اختتام پرناشتے کا پروگرام بن گیا ۔ میں نے گھر پر ناشتہ کرانے کی آفر کی اوریوں مون پرویز ، شہزاد فراموش کے ساتھ سمن آباد ہمارے گھر پہنچ گئیں ۔ ناشتہ وغیر ہ کیا ،کافی دیر گپ شپ بھی ہوتی رہی اوروہ اپنے گھر چلی گئیں۔ رات کے وقت ان کا وٹس ایپ پر شکریہ کا میسج آیا جس میں انہوں نے لکھا ” یہ سچ ہے کہ کوئی بھی آرٹسٹ ہو یا سنگر ، لوگ انہیں باہر کی حد تک رکھتے ہیں مگر جب کوئی اپنے گھر بلا کر اتنی عزت دے تو۔۔۔ ؒقسم سے دل صبح سے بہت خوش ہے “۔ قارئین کرام ، اس واقعہ کو یہاں تحریر کرنے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا یہ یا ثابت کرنا نہیں کہ معروف آرٹسٹوں سے ہماری بہت زیادہ دوستی ہے یا ان کا ہمارے گھر آنا جانا ہے ۔ مقصد تو مون پرویز کے میسج میں چھپا ہے۔ جس میں ان کی وہ حقیقی خوشی چھلک رہی ہے جو عزت واحترام پا کر وہ محسوس کررہی ہیں۔ بہ طور انسان ہم سب کا فرض ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کا احترام کریں اوراس کے ہنر کی قدر کریں ۔ معروف شخصیات کے ساتھ سیلفی یا تصویر بنوانے سے ہم خود تو خوش ہوجاتے ہیں لیکن جو لوگ سوسائٹی میں خوشیاں بانٹتے ہیں اورانہیں تفریح پہنچانے کا سبب بنتے ہیں ، انہیں بھی خوش رہنے کا حق ہے اوروہ ان کی عزت واحترام کے ذریعے ہی انہیں لوٹایا جاسکتا ہے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...