Home بلاگ درد کا درماں دوا یا مشورہ ء دعا

درد کا درماں دوا یا مشورہ ء دعا

منشاقاضی
حسب منشا

نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ حسرتوں کے ہجوم میں اور خوشیوں کے طلاطم میں اپنی ماں کی عظمت کو دیکھو , ماں کا دودھ کردار کی پختگی عطا کرتا ہے اور آپ کے جمال میں اضافہ کرتا ہے , آج مجھے ماں کے نام پر قائم کی گئی فاؤنڈیشن کی چئر پرسن محترمہ فوزیہ امیر کی سریع الحرکت کار کردگی کا حسن ماحول میں خوشبو کی طرح پھیلتے دکھائی دیا تو زبان سے نہیں دل سے دعا نکلتی رہی کہ یا اللہ اس فاؤنڈیشن کی غیب سے نصرت کے سامان پیدا فرما , آج جس آبادی میں صحت عامہ کا گراف بلند کرنے کے لیئے جو مفت ادویات کی فراہمی کا کیمپ لگا ہوا تھا وہاں تک مجھ جیسا بے سرو سامان انسان کے لیئے پہنچنا انتہائی مشکل تھا , مگر میں ماحول کی آلودگی کو پاکیزگی میں بدلنے والے جناب صابر اعوان کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا تھا جنہوں نے مجھے بڑی عقیدت سے بلایا تھا , انہوں نے کہا تھا کہ بس

آپ آ جائیں تو کوئی تمنا نہ رہے
دل میں حسرت نہ رہے لب پہ تقاضا نہ رہے

مہر ٹاؤن کا جتنا حسین نام ہے اتنا ہی گندگی اور گلیوں میں بدبودار فضا میں سانس لینا دوبھر ہو رہا تھا , میں تو بڑی خوش دلی سے جا رہا تھا مگر گلیوں میں ساکن پانی نے جذبات کا طلاطم جامد کر دیا مگر جس طرح محمودہ سلیم ویلفئر فاؤنڈیشن اور ٹرسٹ کی چئرپرسن عفت مآب محترمہ فوذیہ امیر نے خیر مقدم کیا اس نے شکایات کی جگہ زبان پر شکر صبر کے الفاظ جاری کر دئیے , ڈاکٹر حضرات اور ڈاکٹر خواتین کی چارہ سازی سریع الاثر دیکھی تو وہ لوگ یاد آئے جو ہزاروں روپے لے کر دوا نہیں مشورہ ء دعا دیتے ہیں اور مریض کا درد بڑھا دیتے ہیں , ان کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ,

کوئی دوا نہ دے سکے مشورہ ء دعا دیا
چارہ گروں نے اور بھی درد میرا بڑھا دیا ,
ایک طویل عرصے کے بعد ہماری ایک اور مسیحا ڈاکٹر سیمی بخاری ایم این اے , سٹیڈننگ کمیٹی صحت , ممبر سٹیڈنگ کمیٹی Climate and Chang , Member Standing Committee Planning and Development پرٹوکول کے بغیر اپنے ہمراہ جلیل القدر ماہر نسواں محترمہ انیسہ فاطمہ جن کی خاموش خدمات کا اعتراف ہمیشہ سیمی بخاری نے کیا ہے ان کو دیکھ کر مختار مسعود بہت یاد آئے جنہوں نے ایسے عظیم المرتبت انسانوں کے بارے میں کہا تھا کہ یہ لوگ آبشار کی مانند ہوتے ہیں جو یہ کہتی ہوئی زمین پر آ رہی ہوتی ہے اور ساتھ یہ بھی کہہ رہی ہوتی ہے کہ اگر آپ لوگ میری سطح تک بلند نہیں ہو سکتے تو میں خود ہی نیچے اتر کر تمہاری کشت ویراں کو سیراب کرتی ہوں , واقعی ایسے ایسے کام سیمی کے دست شفا سے سرزد ہوئے ہیں جس طرح آسمان سے ابر رحمت برستی ہے , آپ کا عزم بالجزم چٹانوں کو پاش پاش کرتا رہا ہے ,

عزم ہمارا چٹان کی مانند
اور نازک خیال ہیں ہم لوگ

میڈم فوزیہ امیر چئرپرسن محمودہ سلیم ویلفئر فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹ کی معیت اور نیت میں یہ قافلہ ء نو بہار اپنی منزل مقصود تک پہنچ کر دم لے گا اور دنیا جان لے گی کی خوشحال معاشرے کے افق پر صحت عامہ کا سورج کیونکر طلوع ہوتا ہے , سید محمد علی کی خدمات فوذیہ کی زہنی ہم آہنگی کی آئینہ دار ہیں , مریضوں کے جم غفیر میں ڈاکٹر عثمان صاحب , ڈاکٹر شاہد صاحب , ڈاکٹر فرح نور کی پر تاثیر چارہ سازی , ڈاکٹر فائزہ کا انہماک , ڈاکٹر صائمہ رضا کا اخلاص , ڈاکٹر ہارون کی پرسکون نبض شناسی , ڈاکٹر مدیحہ , ڈاکٹر غلام عائشہ , ڈاکٹر زہرا اور زارا کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے , ایک اور بڑی ہستی جن کی عظمت کے سامنے انسانیت کے دیدہ و دل جھکتے ہیں ان کا نام کیسے لکھوں اور بولوں , ہاں غالب کی زبان میں کہہ سکتا ہوں کہ

زباں پہ بار خدایا یہ کس کا نام آیا
میرے نطق نے بوسے میری زباں کے لیئے

آفتاب اے صدیقی چئیر مین goldsheff Group پاکستان کے محسن ہیں , محسن دوسروں کے لیئے اور شہید دوسروں کے لیئے جان دے دیتا ہے , ایسی شخصیت کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے , صدیقی صاحب وسیع سلطنت رکھتے ہیں وہ ایک روشن دماغ کی بدولت پورے نظام بدن پر نظم و ضبط سے کام لیتے ہیں , یہ وہ ہستی ہیں جو اپنی دانش سے زچ آ جاتے ہیں اس شہد کی مکھی کی طرح جس نے بہت زیادہ شہد اکٹھا کر لیا ہو یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہاتھ بڑھا بڑھا کر یہ دانش ان سے چھین لیں , محمودہ سلیم ویلفئر فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جناب صدیقی صاحب قدم رنجاں ہوئے اور ایک بہت بڑی نوید جو مسرت کا درجہ رکھتی ہے وہ محترمہ رخسانہ نوید ایم این اے اور پارلیمانی سیکرٹری کی آمد بھی باد صبح گاہی کا ایک خوشگوار جھونکا ثابت ہوئی , اور مہر ٹاؤن کے مکین خوش نصیب ہیں جہاں یہ لوگ ان کی صحت , تعلیم اور ہنر دینے کے لیئے خود آتے ہیں , شجرکاری جناب ملک صابر اعوان کا مشغلہ ہے اور شغل مسلسل چل رہا ہے , میری دعا ہے جناب محمد علی سید اور نحترمہ فوزیہ امیر کی ایسی مثالی ہم آہنگی کا چاند ہر گھر میں رات کی رانی کے جھونکوں کی طرح دیر تک احساس کا آنگن مہکاتا رہے , یہ خوشگوار یادیں دل میں مسرت پیدا کرتیں ہیں اور مسرت دائمی ہوتی ہے لذت عارضی ہوتی ہے , اس لیئے

رات کی رانی کا جھونکا تھا یا کسی کی یاد تھی
دیر تک آنگن میرے احساس کا مہکا رہا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...