Home بلاگ بس نام رہے گا اللہ کا۔

بس نام رہے گا اللہ کا۔

تحریر:عمران محمود
ہم اتنے بھولے ہیں کہ ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور لوگوں کی زبانی حکام کی کارکردگی سن کر متائثر ہو جاتے ہیں۔کوئی شک نہیں کہ عصرِ حاضر میں میڈیا بہت اچھا ذریعہ معلومات ہے۔ لیکن یہ ہیرو سے زیرو اور زیروسے ہیرو بنانے میں ذرا دیر نہیں کرتا۔ جو آتا ہے کہتا ہے ملک خوشحال ہو گیا۔ معیشت مضبوط ہو گئی۔ دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ صرف گویا اعداد وشمار کے جادوگر ہیں اور ہم سب بے وقوف کیونکہ ان کے جانے کے بعد نئے اہلِ اقتدار پچھلے اعداد و شمار کو مانتے ہی نہیں۔ عجیب نظام ہے کچھ سمجھ نہیں آتا یہاں۔ کیسے یہ لوگ معیشت مضبوط ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ کھانے کو دو وقت کی روٹی تک میسر نہ ہو اور امرا ء بیس قسم کے کھانے کھائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم و ناانصافی پروان چڑھ رہے ہیں جس سے عدم برداشت کو تقویت مل رہی ہے۔عدم برداشت کی سب سے بڑی وجہ نا انصافی، حق تلفی اور غربت ہے۔ اب ہم بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔ ہم بھی چپ کر کے اپنا اپنا لگے ہوئے ہیں۔ جس کا دال روٹی چل رہا ہے، اس کو کسی اور کی کیا پروا۔اور یہاں کون سننے والا ہے؟ کوئی پرسان ِ حال نہیں۔ وطنِ عزیز میں آج دین بھی برائے نام رہ گیا۔ اللہ سے محبت اور تعلق کا رشتہ ہے نہیں۔ حضورپاکﷺ سے محبت بھی بس صرف دکھاوا ہے اور کچھ نہیں۔بس پیسہ، طاقت اور عہدہ ہی ہمارا دین ایمان ہے۔ عام لوگ تو دور کی بات، اپنے غریب وکمزور رشتہ داروں کے ساتھ بھی نہیں ملا جاتا۔فاصلے رکھ لیئے گئے ہیں۔ بڑے لوگوں سے مراسم رکھنے کو فخر سمجھا جاتا ہے۔کھوکھلے خیالات اور ذہنوں نے انسان کی شخصیت کو تہس نہس کر دیا ہے۔ ہر بندہ یہی گلہ کر رہا ہے کہ زندگی میں سکون نہیں۔ بس دنیا کی دھن میں لگا ہوا ہے۔ اس کو پتہ بھی ہے کہ ایک نہ ایک دن ضرور مٹی میں مل جانا ہے۔ بس نام رہے گا اللہ کا۔
اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔ کہاں ایک ہیں؟ بڑوں کے لیئے الگ معیار چھوٹوں کے لیے الگ معیار۔ اہلِ اقتدار اور امراء،غریبوں کے لیئے مناسب روز گار مہیا نہیں کر سکتے۔ خودبڑے بڑے کامیاب کاروبار کر رہے ہیں۔ عام بندہ اس کا تصوربھی نہیں کر سکتا۔ یہ چیز مجھے ذاتی طور پر ہضم نہیں ہو تی کہ پاکستان کی معیشت دن بدن تباہ ہوتی جارہی ہے اور اہلِ اقتدار، طاقتوروں اور امراء کے کاروبار تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔یہ کیا چکر ہے؟یہ بہت حیران کن اور عجیب بات ہے۔یہ بات ہماری سمجھ میں آجائے تو ہم کبھی ان لوگوں کی خاطر ماریں نہ کھائیں۔ کبھی ان کے پیچھے نہ بھاگیں۔ اہلِ اقتدار، عوام کے لیئے بنیادی اور پیچیدہ بیماریوں کے ہسپتال نہیں بنا سکے۔ ویسے کہا جا تا ہے کہ یہاں ہر قسم کا علاج ہے پھر سجھ نہیں آتی یہ لوگ خود باہرممالک علاج کروانے کیوں جاتے ہیں؟ یہاں عوام بنیادی علاج سے محروم۔بھاری فیسیں کیسے دیں جبکہ کھانے کو روٹی تک میسر نہ ہو، رہنے کو چھت نہ ہو، پہننے کو کپڑے نہ ہوں۔یہ کیسی اسلامی ریاست ہے؟ کمزور عوام کاکسی کو خیال نہیں۔ عجب ڈرامہ رچا ہوا ہے۔ پھر بھی ہم لو گ نہیں سمجھ پا رہے کہ ہم صرف کیڑے مکوڑے ہیں۔ طاقت، عہدے، پیسے کے سامنے عام آدمی کیڑے مکوڑے ہی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دور رہنے میں عافیت ہے۔اپنا رستہ خود بنائیں۔ متوسط اور غریب لوگوں کو عوامی سیٹوں کے لیئے تیار کریں۔ 1947 سے اب تک 75 سال کا بہت عرصہ ہے لیکن75 سال بھی ہمیں نہ سکھا سکے۔کسی کے کان تک جوں تک نہیں رینگتی حتیٰ کہ سب یہ دیکھتے آرہے ہیں کہ ہر انسان مِٹتا جا رہاہے۔ بس نام رہے گا اللہ کا۔
ہماری کم بختی دیکھیں کہ ہم نے ڈھائی سالہ زینب کو بھی نہ چھوڑا۔ سوشل میڈیا پر ہماری چھوٹی سی تین چار سال کی بچی بتا رہی ہے کہ فلاں بندے نے میرے کپڑے اتارے۔ہم بیواؤں کا مال کھا رہے ہیں۔ ان کو گندی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ چھوٹی اور جوان بچیوں کو کھاجانے والی گدھ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ غریب کی بیٹی بھیڑیوں کی حوس کا شکار ہوتی آرہی ہے۔ غریب و کمزور لوگ بھوک و افلاس سے اپنے بچوں کو زندہ دفن کرتے ہیں۔ہم خود اور ہمارے بچے،امراء اور طاقتوروں کی غلامی کرتے ہیں۔ہمارے بوڑھے بزرگ اپنے مختلف مقدمات کے لیئے دفاتر کے چکر لگا لگا کر مر جاتے ہیں۔ اتنی رقم کا مقدمہ نہیں ہوتا جتنے پیسے عدالتوں، کچہریوں، وکیلوں کی فیسیں اور گاڑی کے کرائیوں کے اخراجات پر لگ جاتے ہیں۔ عجیب تماشہ لگا ہے۔ کمزورکے مقدمات کے فیصلے سالوں سے لٹکے ہوئے ہیں، امرا و طاقتوروں کے مقدمات کے فیصلے فوراََ ہو جاتے ہیں اور وہ بھی ان کی مرضی کے مطابق۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ ہم اس قدر گر چکے ہیں جس کی کوئی حد نہیں۔یقین جانیں جس حد تک ہم لوگ چلے گئے ہیں ہم پر توقدرت کی طرف سے پتھر برسنے چاہیئے۔ہمارا رب پتہ نہیں کیوں ہمیں ڈھیل دے رہا ہے۔ہم اس کی ڈھیل کو اپنی چالاکی سمجھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ کب تک کمزور لوگ یہ سب سہیں گے؟ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ کب تک اہلِ اقتدار ایسا کریں گے؟ تبدیلی کائنات کا معمول ہے۔اس سے پہلے کہ اللہ کوئی اور قوم ہم پر مسلط کر دے ہمیں سچی توبہ کے ساتھ اللہ کی طرف لوٹنا ہوگاورنہ اللہ اچھے لوگ یہاں لے آئے گا اور ہمارا نام صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔بس نام رہے گا اللہ کا۔
دفتروں میں قائداعظم کی تصویر ہے،کام اس کے برعکس ہو رہے ہیں۔ بڑی حیران کن بات ہے کہ بڑے عہدیداران، اپنے عہدے اور طاقت کو بلادریغ استعمال کرتے ہیں۔ پھر جب عہدہ ختم ہوتا ہے تو ان میں ایمانداری کا جراثیم جاگ جاتا ہے۔ ضمیر بھی ملامت کرتا ہے۔ عجیب ڈرامہ ہے۔ اسی طرح کاروباری لوگوں نے اپنی دکانوں اور کارخانوں پر حدیث لکھوائی ہوتی ہے ”جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ”۔ اس ملک میں ملاوٹ جھوٹ کے بغیر کوئی کام نہیں چلتا۔ حضورؐ کے فرمان کے مطابق جو جھوٹ بولے وہ ہم میں سے نہیں۔ ہمارا جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں۔نمازوں کے ساتھ یہ سب دو نمبریاں بھی جاری ہیں کیونکہ دلوں میں کھوٹ جو ہے۔ ہم سب غافل ہیں۔ بابا جی واصف علی واصف ؒ کا بہت خوبصورت قول ہے کہ ”غافل کی آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب بند ہونے کو ہوتی ہیں ”۔لیکن اس وقت وآپسی کا رستہ نہیں ہوتا۔ بس نام رہے گا اللہ کا۔
پاکستان میں جو سب سے خطرناک چیز لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں آپ کو سچ کا کبھی نہیں پتہ چلے گا۔ اور پتہ چلنے بھی نہیں دیا جائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ تیزی کا دور ہے۔ جو آج سچ بتایا جا رہا ہے وہی کچھ وقت بعد جھوٹ بتایا جا رہا ہوتا ہے۔ آج جو جھوٹ اور غلط بتایاجا رہا ہے وہی کچھ وقت بعد سچ بتایا اور ثابت کیا جا رہا ہوگا ہے۔ عجب نظام ہے۔عجیب ڈرامہ ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہماری ڈور کسی اور کے ہاتھوں میں ہے گویا کہ ہم کسی کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ بس ایک کھیل سا جاری ہے۔ایک دن تویہ سب کھیل بھی ختم ہو ہی جانا ہے۔ بس نام رہے گا اللہ کا۔
موجودہ حالات مشاہدہ دے رہے ہیں کہ آگے ایک ایسا وقت آنے والا ہے جب ہمارے پسے ہوئے کمزور لوگ چڑھ دوڑیں گے۔انقلاب برپا ہوگا۔ ہمیں ابھی سے یا تو اپنا نظام زندگی اور طرزِ حیات بدلنا ہو گا یا پھر اس وقت اور ان حالات کے لیے تیار ہونا ہو گا جو زیادہ دور نہیں۔بس لوگوں میں شعور بیدار ہونے کی دیر ہے۔ اور یہ ایسی لہرہو گی جو اتنی جلدی سے پھیلے گی کہ اس نے بڑوں بڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے۔ بہت سے محل گر جائیں گے۔ بہت سے عہدے مٹ جائیں گے۔ بہت سی طاقتیں صفر ہو جائیں گی۔ بہت سے تخت اچھالے جائیں گے۔ بہت سی وردیاں ملیا میٹ ہوں گی۔ بہت سے منصف پھندے میں ہوں گے۔ بس نام رہے گا اللہ کا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...