Home بلاگ رحمن کے بندے اور ان کے فلاحی کام

رحمن کے بندے اور ان کے فلاحی کام

منشاقاضی
حسب منشا

میرے حافظہ میں ایک ایسا گرانمایہ جملہ محفوظ ہے جس کو میں نے حرز جاں بنا لیا ہے , یہ دعا ہے اور اس کی مقبولیت کے بعد خود بخود انسان پکار اٹھتا ہے کہ ,

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد

خدایا تو نے مجھے عمر عطا فرمائی ہے تو صحت نہ چھین لینا , مال عطا کیا ہے تو عقل سے محروم نہ کر دینا , اگر تو میرا مال لے لے تو میرے پاس اخلاق کو رہنے دینا کیونکہ میرا اخلاق میرے نزدیک قارون کے خزانوں سے زیادہ قیمتی ہے , کامیاب لوگ وہ ہوتے ہیں جو زندگی گزار رہے ہوتے نہ کہ زندگی ان کو گزار رہی ہو , ان مسیحا صفت انسانوں میں ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا نام بہت نمایاں ہے , جن کے ہاتھ میں شفا اور منہ میں دعا کا ورد جاری ہے اور ایسے مسیحا انسان سے مل کر طمانیت ء قلبی اور روحانی مسرتوں سے انسان کی روح آشنا ہوتی ہے , خدا نہ کرئے میں اس لذت آشنائی سے محروم ہو جاؤں , میری استدعا پر ڈاکٹر سیمی بخاری ایم این اے تشریف لائی تھیں آپ نے سرسری نظر سے جائزہ لیا اور متاثر ہوئی اور اپنی غیر معمولی مصروفیات کے سمندر میں دوبارہ ڈوب گئیں , دوسرے روز ایک درد مند , مخلص منتہا کی حساس خاتون جس کو اپنی والدہ مرحومہ سے ٹوٹ کر اور پھوٹ کر چاہت اور محبت ہے , اس نے محمودہ سلیم ویلفئر فاؤنڈیشن اینڈ ٹرسٹ کی بنیاد اس وقت رکھی جب اس کی والدہ اس دنیا میں نہیں تھی ,
جہاں جہاں ہے میری دشمنی اس کا سبب میں ہوں ,
جہاں جہاں ہے میرا احترام وہ مان سے ہے

محترمہ فوزیہ امیر کو رحمن فاؤنڈیشن کا بنظر غائر جائزہ لینے کی زحمت دی گئی اور اپنی مصروفیات میں سے چند لمحات مستعار لے کر 133 جی پہنچ گئی جہاں رحمن فاؤنڈیشن کے چئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز اور ان کے ساتھ راقم الحروف نے استقبال کیا اور ان کے ساتھ سید محمد علی شریک زندگی اور فاؤنڈیشن کی دو ڈائریکٹر موجود تھیں , جن کو گردوں کے مریضوں کے وارڈ کا معائنہ کروایا گیا , وہ مریض جو خود زبان حال سے کہہ رہے تھے ,

عمر کیسے کٹے گی سیف یہاں
رات کٹتی نظر نہیں آتی

یہی مریض جب ڈائیلنسز کی مشینوں پر آ جاتے ہیں تو طمانیت ان کے چہرے سے ہویدا اور ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے لیئے زبان سے نہیں دل سے دعائیں نکل رہی ہوتی ہیں , یہ منظر دل دوز دیکھ کر جب ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے دفتر میں واپس آئے تو وہاں بین الاقوامی شہرت یافتہ فلمسٹار شاھد صاحب تشریف فرما تھے جو رحمن فاؤنڈیش کے ڈائریکٹر بھی ہیں اور سفیر بھی , محترمہ فوزیہ امیر جن کے پاس وقت کی تنگ دامانی تھی انہوں اس کا شکوہ نہیں کیا وہ بڑے اطمینان سے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی مسیحائی کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی نبضوں میں حیات نو کی نوید سن رہی تھیں , ڈاکٹر صاحب کے ان اوصاف فہمیدہ سے متاثر ہو کر فوزیہ امیر کی سینئر ڈائریکٹر نے فوزیہ امیر سے بڑے بلیغ اشارے میں بات کی کہ آپ بھی ڈاکٹر صاحب کو موقع ہے آزما دیکھ لیں , فوزیہ امیر نے دفعتأ اپنا بازو ڈاکٹر صاحب کو نبض دیکھنے کے لیئے بڑھا دیا , آپ نے نبض دیکھی اور کاغذ پر نتائج لکھ دیئے , ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کسی بھی لیب پر چلے جائیں اور ٹیسٹ کروا لیں تو یہی رزلٹ آئے گا , محترمہ فوزیہ نے کہا میرے موبائل میں لیب کا ٹیسٹ موجود ہے آپ نے موازنا کیا تو بالکل وہی اعداد و شمار نکلے جو ڈاکٹر صاحب نے کاغذ پر لکھ کر دئیے تھے , محترمہ فوذیہ امیر نے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی فیاضانہ چارہ سازی کی نہ صرف تعریف کی بلکہ دکھی انسانیت کے دکھوں کو کم کرنے کے لیئے رحمن فاؤنڈیشن کے لیئے اپنی ہر طرح کی خدمات پیش کر دیں اور وہ چند دنوں تک خود ہی اپنے حصے کی شمع روشن کرنے آ جائیں گی فوزیہ سے بھلائی کے کام اس طرح سرزد ہوتے ہیں جس طرح آسمان سے ابر رحمت برستا ہے آپ نے ڈاکٹر صاحب کی چارہ سازی اور ان کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لیا اور اپنے ارادے کو عمل میں ڈھال دیا , , جناب شاہد , جناب راؤ اسلم اور جناب الفت رسول مینجنگ ڈائریکٹر اس موقع پر موجود تھے , ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے نیازمندوں کی ایک کثیر تعداد پوری دنیا میں موجود ہے , اور امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی کے شعبہ ء تحقیق نے ہمارے اس پاکستانی محقق کی جستجو کو آرزو سے آگے عمل میں لا دیا ہے , ہماری حکومت کو چاہیئے کہ وہ ایسے گوہر نایاب کی قدر افزائی کریں , فوزیہ امیر قول کی نہیں عمل کی خاتون ہے اور وہ ان شاءاللہ صحرا میں نخلستان کی نوید دیں گی , آپ کی ترقی میں جو امداد ایک سچا دوست دے سکتا ہے وہ کوئی اور نہیں دے سکتا , اچھے دوست اللہ کی نعمت ہیں اور انسان اچھا ہو تو اسے دوست بھی اچھے ملتے ہیں , تھوڑی دیر پہلے آفاقی صاحب اور نعیم صاحب جیسے ہمدم دیرینہ سے ملاقات ہوئی جو دوستوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کے پاس بیٹھے تبصرہ کر رہے تھے اور مجھے آسکروائلڈ کا قول یاد آیا جس نے کہا تھا کہ میں بہترین کردار کے دوستوں اور بہترین دماغوں کے دشمنوں کا انتخاب کرتا ہوں. , کسی سے پوچھا گیا بھائی بہتر ہے کہ دوست , اسے جواب ملا کہ بھائی اگر دوست ہو تو بہترین ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...