Home بلاگ خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق ؓ

خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق ؓ

تحریر : رخسانہ اسد

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام کی ایسی شخصیت ہیں جن کا دور خلافت قیامت تک کے آنے والے حکمرانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ نے اپنی سیاسی بصیرت سے اسلامی سلطنت کو وسعت دے کر تقریباً 23 لاکھ مربع میل تک پھیلایا۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی سیرت وتاریخ ایسی اہم چیز ہے، جس کی ہر دور میں ہر مسلمانکو ضرورت رہی ہے۔ ان بہادر و بے مثال اشخاص کی زندگی ہمارے لئے ایک نمونہ ہے۔انہی اشخاصؓ کی وجہ سے اللہ تعالی نے ہمارے سینوں میں اسلام کی مشعل روشن کی۔انکی سیرت و تاریخ کا ہر پہلو خواہ وہ صحابیتؓ کے حوالے سے ہو،خلافت کے حوالے سے ہو،علم وقضا ہو،خواہ طب و حکمت سے متعلق ہو،یقیناً امت اسلامیہ اس پر فخر کر سکتی ہے اور کرتی رہے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے دس سالہ عہد خلافت میں بڑی بڑی سلطنتوں کو اپنے زیر نگیں کیا۔ فتوحات سے بڑھ کر آپ نے نظام حکومت کو منظم کیا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ آپ کے دور میں حکومت اور سلطنت کا باقاعدہ نظام شروع ہوا۔ آپ نے نظام حکومت کو چلانے کے لیے متعدد محکمے اور انتظامی شعبہ جات قائم کیے اور ان سب سے نگران مقرر فرمائے۔ آپ نگران مقرر کرنے کے بعد ان کا احتساب بھی کیا کرتے تھے۔نظام عدل،نظام قضا،نظام احتساب،پولیس محکمہ،جیل خانے، محکمہ آب پاشی، بیت المال کاقیام، نظام تعلیم الغرض دور فاروقی تاریخ اسلام کا ایک عظیم اور مثالی دور گزرا ہے جس میں اسلامی ریاست کے انتظام و انصرام کے درست تصور کی عملی تصویر پیش کی گئی۔ اتنی بڑی سلطنت کے حاکم ہونے کے باوجود سادگی، عاجزی اور انکساری آپ کا خاصہ تھی۔ آپ کے پیش نظر خدمت خلق کا جذبہ تھا۔ آپ نے رعایا کی خبر گیری کو لازم رکھا اور آپ نے عوام کے لیے اپنا دروازہ کھلا رکھنے کی پالیسی اپنا رکھی تھی، نیز اپنے گورنروں اور دیگر اہلکاروں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ عوام پر اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں او ر مظلوموں کی داد رسی کریں۔ یہی وجہ ہے کہ عدل و انصاف اور رعایا کی خبر گیری میں آج بھی دور فاروقی کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ ،حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ(رضوان اللہ عنہم)جن تک آئمہ فقہ کے سلاسل جاکر ملتے ہیں، آپؓ کے تربیت یافتہ تھے۔ آپؓ کے تفقہ کی صداقت کی گواہی اس مشہور واقعہ سے ملتی ہے کہ ایک یہودی اور منافق میں کسی بارے میں تنازعہ ہوا۔ انہوں نے آپﷺ سے فیصلہ کروایا۔رسول کریمﷺ نے بیانات کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں دیا۔ وہ منافق حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے پاس آیا کہ آپؓ فیصلہ فرما دیں مگر جب آپؓ کو معلوم ہوا کہ حضور نبی کریمﷺ مقدمہ کا فیصلہ فرماچکے ہیں اور اب منافق مجھ سے فیصلہ چاہتا ہے تو تلوار اٹھا کر منافق کا سرقلم کردیا۔ قرآن کریم نے سورہ نسآء میں اس فیصلہ کی توثیق کی اور مستقل طور پر یہ اصول طے پایا کہ حضور نبی کریمﷺ کے فیصلہ کو آخری حیثیت حاصل ہے اور جو اس فیصلہ کو درست تسلیم نہ کرے وہ مومن نہیں ہے۔ (تاریخ اسلام)مشہور تاریخی روایات سے یہی بات ثابت ہے کہ 23 ہجری 26 یا27 ذوالحجہ کو نماز فجر میں سیدنا فاروق اعظمؓ پر ابولؤلؤ فیرزو مجوسی ملعون نے حملہ کیا اور تین دن کے بعد یکم محرم الحرام کو امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا۔صحیح قول کے مطابق بوقت شھادت انکی عمر مبارک 63 سال تھی ۔ آپؓ کی مدتِ خلافت دس سال،چھ ماہ تین دن پر محیط ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...