Home بلاگ بلی تھیلے سے باہر آگئی

بلی تھیلے سے باہر آگئی

تحریر: خواجہ آفتاب حسن

ملک میں کئی ہفتوں سے جاری سیاسی اعصاب شکن صورت حالات میں متوقع بریک آچکا ہے، پا کستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ بالاخر سنا دیا گیا جس کے مطابق پارٹی کے لیے نہ صرف اسرائیل اوربھارت سمیت دیگر ممالک سے فنڈز حاصل کیے گئے بل کہ چیئرمین عمران خان کی جانب سے ان فنڈز کو چھپایا گیا اورالیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی تفصیلات میں ان کا کہیں کوئی ذکر نہیں ۔ آٹھ سال بعد مذکورہ کیس کا فیصلہ آنا ملک میں فوری انصاف اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب شاید امیر وغریب کے لیے یکساں انصاف کی یقینی فراہمی کی دعویدار برسراقتدار قوتوں کے پاس بھی نہیں۔ جہاں تک الیکشن کمیشن کی غیرجانبداری کامعاملہ ہے ، پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی واضح شکست اورمرکز میں اقتدار سے بیدخل کی جانے والی پی ٹی آئی کی کامیابی کے باوجود اس کیس میں سالہا سال کی تاخیر کے بعد وہ بھی مشکوک ہوچکی ہے ۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اقتدار سے ہٹا دیے جانے کے بعد جس تسلسل سے الیکشن کمیشن کے خلاف محاذ کھولے ہوئے تھے ، اس سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ ” دال میں کچھ کالا “ ضرور ہے ۔ لیکن اب تو پوری دال ہی کالی نکل آئی ۔ پاکستان الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم کے سرپر بھی نااہلی کی تلوار لٹک چکی ہے اوریقینا عمران خان کا واویلا اوراپنے کارکنوں کے ذہنوں کو الیکشن کمیشن سے متنفر کرنے کی بڑی وجہ بھی مذکورہ فیصلہ ہی تھا ، جس کا پی ٹی آئی کی قیادت کو یقین تھا۔ 

یقین سے یاد آیا ، الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی مخالف جماعتوں کو یقین ہے کہ جس طرح سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اس وقت کے صدر اور اپنی پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف سوئس بینک کو خط نہ لکھنے کے جرم کی پاداش میں توہین عدالت بھگت کر نااہلی کی سولی پرچڑھا دیے گئے۔ پی ٹی آئی کے سابق ایم این اے فیصل ووڈا اپنی دوہری شہریت کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں دروغ گوئی پر نااہل قرار دے دیے گئے ، عمران خان بھی پاکستان الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی اپنی تفصیلات میں جھوٹ ثابت ہونے کے بعد نااہل قرار دے دیے جائیں گے ۔ لیکن ایسا سوچنے والی اپوزیشن کو وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن میں اعلیٰ عدالت کا” یوٹرن“ نہیں بھولنا چاہیے، پاکستان الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف اپیلیں وہیں جانی ہیں اوراگر پھروہی تین رکنی بینچ ہوا تو ۔۔ ۔ پی ڈی ایم کی قیادت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ ” کفارے“ کا وقت ہوا چاہتا ہے ، اوروہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ ممکن ہے” غلطی“ کرنے والوں کا ضمیر جاگ گیا ہو اوروہ اس نادر موقع سے فائد ہ اٹھا لیں ۔ حالاں کہ جو روایت عدلیہ ماضی میں نظریہ ضرورت اوراب وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس میں ڈال چکی ہیں ، ان سے چھٹکارہ مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ دراصل ہم اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اپنی غلطیوں کو سدھارنے کی روایت نہیں ، الٹا ڈھٹائی اورہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو درست ثابت کرنے کے چکر میں بہانے گھڑنے اورایسے جواز پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو گتھی کو مزید الجھا دیتے ہیں ۔ بنگلا دیش کی علیحدگی سے لے کر بلوچستان میں ” غدار “ قرار پانے والی قوم پرستی اورکارگل ایڈونچر میں ناکامی کی وجوہات کسی نے تلاش کیں اورنہ ہی ان معاملات کو صدق دل سے حل کرنے کی کوشش کی ۔ جس طرح آج ہم بنگلا دیش کی ترقی اور جی ڈی پی کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے، خاکم بدہن کل کو ایسی کئی مثالیں ہماری آنے والی نسلوں کو ہماری کوتا ہ اندیشیوں اورنالائقیوں سے بھری ملیں گی ۔ 

 ملک کی سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں اداروں کی سطح پر اپنی غلطیوں کا ” کفارہ “ ادا کرتا کوئی نظر نہیں آتا ۔ ملک دو ٹکڑے ہوگیا ، فوج نے باربار اقتدار پر قبضہ کیا ، سیاست میں اپنی عملداری بڑھائی اس کے باوجود سیاستدانوں نے نہ تو اپنی غلطیوں کو سدھارا اورنہ ہی کرپشن میں کمی آنے دی ۔ البتہ آصف زرداری نے بے نظیر حکومت کی دومرتبہ معطلی سے ضرور سیکھا اور” پاکستان کھپے “ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کو ملک کی پارلیمانی تاریخ میں یہ کریڈٹ دلوایا کہ اس نے اپنا پانچ سالہا دوراقتدار مکمل کیا ۔ اگرچہ اس دوران یوسف رضا گیلانی کی حکومت کا جانا پڑا ۔ نواز شریف نے بھی آصف زرداری کی مفاہمانہ پالیسی پر عملدارآمد تو کیا لیکن بے چارے خود اس کی بھینٹ چڑھ گئے ۔عمران خان کی حکومت کو بھی اپنے تمام تر دعوﺅں ، ہٹ دھرمی اورآئین کی دھجیاں اڑانے کے باوجود اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا ۔ لیکن انہوں نے آصف زرداری اورنواز شریف کی طرح وقت اورحالات سے کچھ نہیں سیکھا اورآج یہ صورت حالات پیدا ہوچکی ہے کہ ان کی اپنی نااہلی کے ساتھ ساتھ ان کی جماعت کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ملک میں نئی بحث کا آغاز ہوچکا ہے ۔ پی ٹی آئی کے کارکن اگرچہ ابھی دفاعی Mod پر چلے گئے ہیں لیکن کیا وہ پارٹی چیئرمین کی جانب سے مزاحمتی سیاست کا بگل بجتے ہی اپنے ” سیاسی پیرومرشد“ کی ممکنہ نااہلی اورپارٹی پر ممکنہ پابندی کے بعد کیا اسی جوش وخروش کا مظاہر ہ کرپائیں گے جو دھرنے کی سیاست کی ماہر تحریک انصاف کے کارکنوں کا خاص سٹائل ہے یا پھرسب اسے قدرت کا لکھا مان لیں گے، اس کا فیصلہ آنے والے چند دنوں میں ہوجائے گا۔ لیکن دور کی کوڑی لانے والوں کا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کا ورکر تو چیئرمین عمران خان کی محبت میں شاید کسی بھی حد تک چلا جائے لیکن فواد چودھری اورشاہ محمود قریشی جیسی دیگرپارٹی قیادت ان کے ساتھ نظر آئے گی یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...