Home بلاگ سید قائم نقوی کی یاد میں

سید قائم نقوی کی یاد میں

دیوان عام نثار حسین

ادب میں ہیرے تلاش کرنے والے اب باقی نہیں رہے جس کی وجہ سے اچھے خاصے ادیب روزگار کمانے یاحالات کے جبر کا شکار ہوکر کہیں گم ہوگئے۔ادب میں شاعری سب سے اہم صنف سخن قرار پائی ہے اور شاعر کو قرآن پاک نے شعور رکھنے والے الہامی طاقت سے آراستہ قرار دیا ہے تاہم اس میں اچھے اور برے شاعروں کا فرق بھی بتایا اور سمجھایا گیا ہے قرآن پاک کی سورہ شعراء میں ارشاد ہے کہ خدائے بزرگ وبرتر نے شاعر کے دماغ میں قوت متخیلہ پیدائشی طور پر رکھدی ۔اب یہ بات تو طے ہوگئی کہ شاعر خود نہیں بن سکتا ہاں خود اچھا یا برا بننے کی صلاحیت ضرور دی گئی ہے اسی لئے مبالغہ آرائی کرنے والے شاعروں کو برا کہا گیا ہے ۔ادب کی اس صنف میں بے شمار معتبر ہستیوں نے اپنے جوہر دکھائے ہیں ،معصومین ،اہل بیت نے بھی شاعری کو ذریعہ بنایا ہے ،حضرت علی علیہ السلام کا کلام بھی بہت بڑا اثاثہ ہے ،سر دست امام حسین علیہ السلام کا کلام قارئین کے ذوق مطالعہ کی نذر کررہا ہوں ۔

امام حسین علیہ السلام کی شاعری

۔۔۔۔۔۔امام حسین ؑکے چند اشعار
جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے کہ آئمہ ؑ نے شاعری کی ہے، بقیہ اماموں کی طرح مولا امام حسین ؑ نے بھی شاعری کی ہے، جس میں بہت اعلی مفاہیم پائے جاتے ہیں، ہم یہاں فقط ایک نمونہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں
و إن تكن الدنيا تعد نفيسة فدار ثواب الله أعلى و أنبل‏
و إن تكن الأبدان للموت أنشئت‏ فقتل امرئ و الله بالسيف‏ أفضل‏
و إن تكن الأرزاق قسما مقدرا فقلة حرص المرء في الكسب أجمل‏
و إن تكن الأموال للترك جمعها فما بال متروك به المرء يبخل‏
كشف الغمة في معرفة الأئمة

اگر دنیا نفیس شمار کی جائے تو بھی اللہ کا دار جزا اس سے بہتر اورقیمتی ہے۔ اگر بدن مرنے کے لئے ہی بنا ہے تو راہ خدا میں تلوار سے شہیدہونا بہتر ہے۔ اگر روزی سب کی تقسیم ہو چکی ہے تو آدمی کا کمائی میں حرص نہ کرنا اچھا ہے، اگر سب کا سب مال چھوڑ کر جانے کے لئے ہے تو آدمی اس میں بخل ہی کیوں کرتا ہے۔
کتنے معرفت بھرے اشعار ہیں، کس قدر اعلی مضامین پرمشتمل ہیں، واقعا امام کی شاعری کس قدر حقیقت اور واقعیت کے نزدیک ہے، کس طرح امام ؑ نےحقائق کو آشکار فرمایا ہے۔ دنیا اور آخرت میں مقایسہ کیا ہے، اور دنیا پر آخرت کی فضیلت کو بیان کیا ہے، موت اور شہادت کا تقابل کرا کر شہادت کی اہمیت کو بیان کیا ہے، روزی کے مقدر ہونے کا لازمہ لالچ اور حرص سے دوری کو بیان کیا ہے۔ ان اشعار میں انسان کو عمل کی دعوت دی گئی ہے، کسی قسم کا کوئی سبز باغ نہیں دکھایا گیا، کوئی افسانوی اور خیالی بات نہیں کی گئی، کوئی باطل اور ناحق مضمون بیان نہیں ہوا۔
دعا ہے کہ خالق کائنات ہمارے شعرا کو اسلام کی ان گرانقدر تعلیمات پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”
امام عالی مقام علیہ السلام کے کلام سے ہر زمانے اور ہر جہان کیلئے استفادے کی راہ کھل جاتی ہے اور انسانیت کی حقیقی بقا و سلامتی کا درس ملتا ہے ۔انہی کے پیرو کار انسانیت کے حقیقی علمبردار ہیں اور انکے نظریات سے انحراف کرنے والے ہی درحقیقت یزیدی مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں ،

امام کے جانثاروں نے عملی طور پر انکے نظریات کی حفاظت اپنی جانیں تک نچھاور کرکے بھی کی ،کربلا کے میدان سے حشر تک انکی وفا بے مثال اور لازوال قرار پائی ہے اسی طرح فکری انداز میں امام حسین علیہ السلام کے نظریات کی حفاظت کرنے والے مجاہدین میں کئی صف اول کے نام ہیں تاہم آج میں ایک ایسی ہستی کا ذکر کررہا ہوں انہوں نے اپنے اجداد کے افکار کی مشعل کو اپنی زندگی سے بھی مقدم رکھتے ہوئے آخری دم تک روشن رکھا ،شاعر اہل بیت سید قائم نقوی نے اپنے عہد کے بڑے نامور شعرا کو بھی امام سے محبت کے اصول سمجھا کر اپنی ممتاز حیثیت ثابت کردی ۔سید قائم نقوی نے اپنے خانوادے کے مصائب اور فضائل کومنظوم انداز میں رقم کرکے تاریخ کو حقائق سے ہم آہنگ کردیا،سید قائم نقوی نے اپنے عہد میں تاریخ ساز کارنامہ انجام دیکر نئی تاریخ رقم کردی ۔سید قائم نقوی کی پوری زندگی امام عالی مقام علیہ السلام کے نظریات کی ترویج وحفاظت پر وقف رہی ۔انکی عملی زندگی بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت کی پیروی کرتے ہوئے گزری ،انہوں نے ہر لحاظ سے اہل بیت کے افکار کو اپنا ،خاکسار کی بھی سید قائم نقوی سے نیاز مندی رہی اور وہ ہمیشہ ہمیں اپنے سگے بھائیوں کی طرح پیار دیتے رہے گزشتہ دنوں جب وہ اسلام آباد تشریف لائے تو مجھے فون کرتے رہے میں بیٹے سے ملنے آسٹریلیا میں ہوں جس پر ان سے فون پر ہی رابطہ ہوسکا اور یہ سید قائم نقوی سے میری آخری بار بات ہوسکی ،بالمشافہ نہ مل سکے جس کا اب عمر بھر قلق رہے گا کیونکہ سید قائم نقوی کچھ دن پہلے خالق حقیقی سے جا ملے ۔
ممتاز شاعر اہلبیت سید قائم نقوی کے انتقال پر دبستان ادب کا ایک باب بند ہوگیا ،مرحوم سید قائم نقوی تحفۃ العوام کے مؤلف مولانا سید منظور حسین نقوی قدس سرہ کے فرزند ،
مولانا سید ابو الحسن نقوی حال مقیم قم المقدس ایران کے حقیقی چھوٹے بھائی ،مولانا سید حسن عسکری نقوی المشہدی حال مقیم مشہد مقدس ایران کے چچا،
سید نمود مسلم ڈپٹی کنٹرولر نیوز پی ٹی وی ہیڈکوارٹر اسلام آباد کے والد تھے ،اہل بیت پر شاعری کی نئی جہت متعارف کرانے والے سید قائم نقوی
ماہنامہ ،، ماہ نو ،، کے سابق چیف ایڈیٹر،سہہ ماہی ،، نمود ،، کے ایڈیٹر انچیف تھے ،انکے انتقال سے ایک عہد اہل بیت کے سچے محب سے خالی ہوگیا ،سید قائم نقوی کی یاد انکے کلام کی صورت دل ودماغ کو روشن کرتی رہے گی ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...