Home بلاگ صبر کیا ہے ؟

صبر کیا ہے ؟

تحر یر : ستارہ جبیں

جب انسان پر کوئی آزمائش یا مشکل آتی ہے وہ مالی ہو جسمانی ہو ، دنیاوی ہو یا دینی ہو مادی ہو یا روحانی ہو کسی بھی قسم کی آزمائش کا اثر دو چیزوں پر پڑتا ہے انسان کی روح ( اندر ) پر اور ظاہر ( جسم ) پر اندر سے بے چینی ، اضطرابی کیفیت ، ٹینشن ، قلق اور اضطراب ہوتا ہے اور ظاہرا اس کا اثر انسان کے اخلاق واوصاف اور مزاج پر پڑتا ہے جس سے انسان غصہ ، گالم گلوچ ، تقدیر پر شکوہ ، غضب کا اظہار ، زبان بے لگام ، زہر آلود جملے ، یعنی کے انسان کے مزاج پر مصیبت اثر انداز ہوتی ہے جس سے انسان کی کیفیات ، احساسات، حالات ، معاملات ، اختیارات ، سب چیزیں چینج ہو جاتی ہے
صبر اسے کہتے ہیں کہ انسان اپنے روح کے اندر کی تکلیف کو ( جس کا مداوا نہیں ہو سکتا ) اسے اپنے اندر ہی رکھے اور ظاہر ( مزاج ) پر اس تکلیف کا کوئ اثر منفی صورت میں بالکل نظر آے یعنی کہ لوگوں کے ساتھ تعلقات اور معاملات میں کوئ تبدیلی نہ آئے
صبر کی اسلام نے بڑی اہمیت فضیلت قرآن حد یث میس بیان فرمائی ہے اللہ نے خور فرما یا کہ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ا نہیس فتح اور کامرنی نصیب ہوتی ہے ایسے لوگوں کو آخرت میں اعلی تر ین گھر عطا ہوتے ہیس
مصیب میس صبر کرنا عبادت ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جو شخص صبر کرنے کی کوشیشں کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو صبر دےگا صبر سے زیادہ بہتر اور بہت سی بھلا ئیوں کو سمینے والی بخشش کوئی نہیں مسلمانوں کو چاہئے دنیاوی امور میں پرشان نہ ہوں بلکہ اللہ پر کامل ایمان رکھیں
رسول ﷺ دنیا میں سب سے زیادہ صابر تھے آپ ﷺ پر مصائب کے پہار ٹوٹے لیکن آپ ﷺ نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔۔۔۔
حضرت ایوب علہ اسلام کا صبر بہت مشہرر ہے
حضرت امام حسین رضہ اللہ عنہ نے بھی صبر کی اعلی ترین مثال قائم کی اور میدان کربلامیں تسلیم و رضا اور صبروشکر کا ریکارڈ قا ئم کیا صبر کا اعلی درجہ یہی ہے کہ اپنی مصیبت اور تکلیف کا ذکر اظہار کسی سے نا کیا جائے جس نے یہ تکلیف یا مصیبت آپکی طرف بھیجی یےاس سے زیادہ کوئی رحم و کریم کوئی نہیں
تمہارا رب سچا رب ہے۔ وہ کہتا ہے”ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے” تو یقین رکھو ایسا ہی ہوگا تم کیوں بدگماں ہوئے پھرتے ہو جب وہ خود کہتا ہے میں ساتھ ہوں تو تم کیوں خود کو اکیلا محسوس کرتے ہو تم جتنا لوگوں کی تلخ باتوں کو برداشت کرو گے اتنا ہی اپنے رب سےجڑتے جاؤ گے بے شک اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور بہتر بدلہ لینے والا ہے اس لیے ہر چیز مسکرا کر اللّه پر چھوڑ دیا کرو یہ دنیا عارضی ہے یہاں کے لوگ عارضی ہیں، انکی باتیں عارضی ہیں، انکے رویےعارضی ہیں تو سہہ جاؤ نہ سب جب ان عارضی چیزوں پر صبر کرنے سے تمھاری آخرت سنور رہی ہے، چھوڑ دو کسی سے شکایت کرنا،
صبر کسی بزدلی اور بے چارگی کا نام
نہیں ہے۔اگر کسی کو کوئی دکھ دے اور وہ اس کو جواب دینے کی پوری طاقت بھی رکھتا ہو لیکن پھر سنت رسولﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے تحمل سے برداشت کرجائے یہ بہت بڑی بہادری اور مردانگی ہے۔ہاں اگر کوئی اپنی کمزوری اور بے بسی کی بنا پر برداشت کرتا ہے تو وہ صبر کے اعلیٰ درجے پر نہیں آتا۔کیونکہ ظالم کا ظلم سہنا اور وہ بھی بے چارگی کی وجہ سے صبر کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
صبرکی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ صبر نعمت لے کر دیکھا جاتا ہے اور شکر نعمت دے کر آزمایا جاتا ہے۔اس مقام پر صابر اور مشکوردونوں قابل رشک ہیں۔ نعمتیں لے لی جائیں اور پھر منہ پر شکوہ نہ ہوا ور در محبوب پر پھر بھی جھکارہے۔یہ کمال صبر کی بات ہے اور یہ صرف طالب المولیٰ والے ہی ہوں گے جو اس منزل سے گزریں گے۔یہ صرف اور صرف مردان کامل ہی کاکام ہے۔نعمت دے کر شکر آزمانا یہ بھی انتہائی سخت آزمائش اور امتحان ہے۔اس میں بھی صرف مردان کامل ہی سرخرو ہو کر نکلتے ہیں۔طیش میں خوف خدا کو اپنے اوپر غالب کر لینا اور عیش میں یاد خدا سے غافل نہ ہونا،یہ فقط صابروں اور ذات حق کے شکر گزاربندوں کا ہی کام ہے۔ذات حق کی آزمائش خواہ نعمت لے کر کرے یادے کرکرے بہت ہی کٹھن مرحلہ ہے۔صبر اور شکر دونوں مقام عارفین کا ملین اور واقفین کے ہیں جن پر عام آدمی کا گزر بھی نہیں۔
صبر اور شکر دونوں نعمتیں ہیں۔لیکن ذائقہ اور لذت الگ الگ ہے۔صبر کی ابتداترک شکایت ہے اور انتہا ترک رضا سے ہے۔صبر کرنے والے کی اپنی رضا ہوتی ہی نہیں ہے۔شکر کی حقیقت یہ ہے کہ نعمتوں کی موجودگی اور غیر موجودگی دونوں شاکر کے لیے برابر ہیں۔یعنی نہ نعمت کے آنے کی خوشی اور نہ نعمت کے جانے کاغم !
“صبر اور برداشت میں فرق ہے”

زندگی کی مشکلات پر حالات پر رویوں پر لہجوں پر الفاظ پر صبر کرنے کی کوشش کریں اپنا مقدمہ اللہ کی عدالت میں دائر کریں اور پھر ہلکے پھلکے ہو جائیں برداشت کی چبھن اندر ہی اندر انسان کو تلخ بناتی ہےصبر کی ٹھنڈک پرسکون اور مطمئن کر دیتی ہے برداشت کا جذبہ اندر ہی اندر کہیں انتقام کی خواہش کو ہوا دیتا ہے جبکہ صبر اعلی ظرف بناتا ہے احسان کرنا بدی کا جواب نیکی سے دینے کا حوصلہ دیتا ہے
یہ سطریں ذاتی تجربات کی بنا پر بیاں کیں جب جب میں نے برداشت کیا ایک کڑواہٹ اور اداسی اندر تک اتر گئی اور جب جب صبر کیا تو سکون محسوس ہوا زندگی کے جس دور سے بھی آپ گزر رہے ہیں وہ آپکو گزارنا ہی ہے کیوں نہ اس کو مصیبت کے بجائے اپنی تربیت کا ایک دور سمجھ کر گزارا جائے مشکل حالات سے اچھے سبق لیےجائیں کچھ چیزیں ہمارے نصیب کا حصہ نہیں ہوتیں پر ہمارا صبر اور ہمارا یقین ہی ہمیں اس منزل تک لے جاتا ہے کہ جہاں ” کُن”ہوتا ہے اور اللّٰہ پاک فرماتا ہے تم صبر کی انتہا کر دو میں معجزوں کی انتہا کر دوں گا۔

” بے شک! اللّٰہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے”

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...