Home بلاگ عدالتی شادی اور طلاق کی شرعی حیثیت

عدالتی شادی اور طلاق کی شرعی حیثیت

تحریر توصیف رضا

    اکثر  سننے میں آتا ہے کہ فلاں لڑکا لڑکی نے گھر سے بھاگ کر  یا اپنی  مرضی  سے  کورٹ میرج کر لی۔ اسی طرح جن میاں بیوی کی آپس میں نہیں بنتی وہ بھی طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کرتے ہیں ۔چند مہینے عدالتوں کے چکر لگانے کے بعد جو طلاق نامہ ہاتھ آتا ہے ۔اس کی شرعی  حیثیت  کیا  ہے؟ اور جو لوگ کورٹ میرج کرتے ہیں اس میرج سرٹیفیکیٹ کو عالم دین قبول کرتے ہیں  یا  نہیں۔

    میرے ذہن میں  چند  سوالات  ہیں جو مجھے  پریشان  کرتے  رہتے  ہیں۔جن کے جوابات  کی مجھے  تلاش ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ مسلم ملک کا مسلم  جج جو بھی فیصلہ  کرتا ہے وہ اسلامی  قانون  و سنت کی روشنی  میں  ہی کرتا ہے ۔اس لیے اس پر اعتراض نہیں  کیا  جا سکتا۔یعنی  قانون  کی نظر  میں  عدالت  میں  کی گئی  شادیاں  اور طلاقیں  درست اور جائز ہیں۔

      کچھ عرصہ  پہلے میری نظر  سے ایک  ٹاک شو گزرا، ٹاپک یہی  تھا کہ کیا  عدالت میں  کی گئی شادیاں  اور طلاقیں  ویلڈ  ہیں اور شرعی  طور پر قابل قبول  ہیں؟ تو اس پروگرام  میں  موجود علماء  اس سے متفق نہیں  تھے ۔اور وکیل  صاحب نے بتایا  کہ ہم شادی کرنے والے جوڑے کو میرج  سرٹیفیکیٹ  جاری  کر کے انہیں  پروٹیکشن فراہم  کرتے  ہیں۔تاکہ کوئی انہیں  نقصان  نہ پہنچا  سکے۔

      یہاں میرا سوال یہ ہے  کہ جب عدالت  میں  ان کا نکاح  نہیں پڑھوایا  جاتا  تو وہ کیسے  میاں  بیوی  کے رشتے  میں  بندھ سکتے  ہیں۔اس طرح نکاح  کے  بغیر تو ان کی شادی  یا  رشتے کی کوئی شرعی  حیثیت  نہیں۔یہاں اہل سنت  علماء  کو تو شاید  کوئی  اعتراض نہ ہو لیکن اہل تشیع  علماء اس شادی کو نہیں  مانتے۔ان کےنزدیک شادی کے لئے دو گواہوں  کے علاوہ  ولی یا  باپ کی اجازت کا ہونا ضروری ہے۔ اس طرح تو شیعہ لڑکی کورٹ میرج نہیں  کر  سکتی ۔اگر  کرتی ہے تو وہ شیعہ علماء  کے نزدیک جائز نہیں ہے۔جیسے دعا زہرہ اور ظہیر   کی شادی بغیر ولی کی اجازت کے صحیح  نہیں ہے۔

     میرے  خیال میں عدالت میں نکاح  خواں بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ  جب کوئی کورٹ میرج  کے لئے  آے تو اسی وقت  اس کا نکاح بھی  پڑھوا کر قانونی اور شرعی  دونوں  تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔اس طرح کسی میرے جیسے  ناقص علم  والے کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا،اور جائز  ناجائز  کی بحث بھی  ختم ہو جائے گی۔اہل تشیع  کا تو نہیں لیکن کچھ دوسرے فرقوں سے تعلق رکھنے والوں  کا مسئلہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا۔(مسئلہ یہ ہے کہ عدالت میں بغیر نکاح کے میرج سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔اس شادی کی کوئی  شرعی  حیثیت  نہیں۔میرے خیال میں اس طرح کی شادیوں  کو روکا  جائے  یا  نکاح کا بھی انتظام کیا جائے۔اس لیے کیونکہ جب کوئی کام غلط ہو رہا ہوتا ہے تو کوئی نہیں بولتا ،جب غلط ہو جاتا ہےتو ہر کوئی فتوی لگانے کے لیے  تیار ہو جاتا ہے )

  دوسرا  مسئلہ کورٹ سے لی گئی طلاق  کا ہے۔یہاں میں صرف اہل تشیع میں طلاق اور خلع کا مسئلہ بیان کرنا چاہتی ہوں ۔جو مرد اپنی  مرضی سے طلاق  دے  دیتے ہیں وہ تو ہو جاتی ہے ۔قانونی طور پر  بھی اور شرعی طور پر بھی ۔ خواہ عورت طلاق لینا چاہے یا نہ لینا چاہے۔ مرد طلاق  دے کر بہت  آسانی سے جان چھڑا لیتا ہے۔ لیکن اگر  عورت کسی بدکردار شوہر سے طلاق  یا خلع لینا چاہتی ہے تو شیعہ علماء کے نزدیک جب تک شوہر  طلاق  نہیں دیتا ،طلاق  نہیں ہوتی۔

     شیعہ علماء کے نزدیک اگر عورت کورٹ سے طلاق لیتی ہے تو اسے شرعی طور پر بھی طلاق کنفرم کر نے کے لئے طلاق کے صیغے  پڑھوانے پڑتے ہیں۔ اور یہ صیغے شوہر کی اجازت سے ہی پڑھے جاتے ہیں۔اگر شوہر طلاق کے لئے صیغے پڑہنے کی  اجازت نہیں دیتا تو مولانا صاحب 2 ،3 بار اس سے صیغے پڑہنے  کی اجازت مانگتے ہیں پھر بھی وہ نہیں دیتا تو کسی مجتحد کی اجازت سے طلاق کے لیے صیغے پڑھ کر طلاق  کنفرم کر دی جاتی ہے ۔لیکن ہر بار بھی ایسا نہیں ہو تا۔امریکہ سے آئے ہوئے کورٹ کے طلاق نامے پر تو فورا طلاق کے صیغے  جاری کر دیے جاتے ہیں۔اور پاکستانی عدالت سے جاری کردہ طلاق نامہ کو کیوں قبول نہیں کیا جا تا۔کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

     یہاں میرا سوال یہ ہے کہ شرعی احکامات سب کے لیے ایک جیسے یا برابر نہیں ہونے چاہئیں؟ میرا تعلق بھی شیعہ سید فیملی سے ہے اور میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے مولانا حضرات سے پوچھ گچھ کے بعد ہی لکھا ہے۔

 اس طرح تو ایک اہل تشیع مسلک کی عورت کی زندگی کا  کچھ حصہ وہ مرد برباد کر دیتا ہے جس کے ساتھ  وہ نہیں  رہ سکتی اور تنگ  آ کر طلاق کا فیصلہ کرتی ہے۔باقی ماندہ زندگی  یہ طلاق کا طریق کار خراب کر دیتا ہے ۔جس کے تحت یہ کہا جاتا ہے کہ عدالت سے لی گئی طلاق کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ۔یعنی طلاق  واقع  نہیں ہوئی۔

   اس طرح شیعہ سید لڑکی کورٹ سے طلاق یا خلع لینے کے بعد دوسری شادی نہیں کر سکتی اگر کرتی ہے تو وہ نکاح  پر نکاح کا فتوی لگاتے ہیں۔انہی مسائل سے تنگ آ کر اب بہت سے لوگ شرعی طلاق  کی بجائے کورٹ کی طلاق کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ میں  کئی فیملیز  کو  جانتی ہوں، جنہوں نے اپنی بیٹیوں کی طلاق کورٹ سے لے کر ان کی  دوسری شادی کر دی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟

اگر عدالتیں اپنی کروائی گئی شادیوں اور طلاقوں کو صحیح سمجھتی ہیں تو ان مولانا حضرات سے پوچھا جائے کہ وہ  کیوں نہیں صحیح  سمجھتے ۔اور اگر مولانا حضرات عدالت  کی شادی اور طلاق یا خلع کو صحیح نہیں مانتے تو وہ ان شادیوں اور طلاقوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے ؟

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ  جب کوئی کورٹ میں  طلاق کے لیے درخواست دے تو ساتھ ہی ایک مولانا کو بھی اس معاملے میں ملوث  کر لیا جائے۔تاکہ طلاق کے شرعی  تقاضے بھی پورے کر دیے جائیں۔اس طرح ایک فیملی کو کورٹ سے طلاق نامہ ملنے کے بعد مسجدوں اور امام بارگاہوں کے چکر نہیں  لگانے پڑیں گے۔ شادی اور طلاق دونوں جائز کام ہیں لیکن کچھ مسالک میں ان کا طریق کار اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ جائز کام بھی ناجائز لگنے لگتا ہے ۔

اس مضمون کو  لکھنے  کا  میرا مقصد صرف یہ ہے کہ قانون اور شریعت دونوں کو مل کر کوئی حل نکالنا چاہئے تاکہ بہت سی زندگیاں خراب ہونے سے بچ جائیں۔ جہاں  مرد کو تو چار شادیوں کی اجازت ہے اور کہیں مسیار تو کہیں متعہ نکاح بھی جائز ہیں۔وہاں  ایک اہل تشیع عورت کو ایک بد کردار، شرابی اور زانی مرد سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایک لمبے پروسیس سے کیوں گزرنا پڑتا ہے؟ کوئی بھی قانون یا مذہب کسی عورت کو غلط مرد کے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ اس طرح کی شادیوں کو  گھسیٹنے سے بہتر ہے کہ علیحدگی اختیار کی جائے۔ دین اسلام  ہماری زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے آیا تھا۔لیکن ہم نے اسے مختلف فرقوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے۔اسلام  کہیں پیچھے رہ گیا اور فرقے آگے نکل گئے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...