Home بلاگ عسکری مصنف کرنل (ر ) نواب علی کی یادوں کا خزانہ

عسکری مصنف کرنل (ر ) نواب علی کی یادوں کا خزانہ

منشاقاضی
حسب منشا

تاریخ میں ایسی نابغہ ء روزگار شخصیات کے بارے میں پڑھا ہے کہ جن کا حافظہ بلا کا اور یاداشت ضرب المثل تھی , ان کی نظروں کے سامنے کوئی منظر گزر جائے ان کا حافظہ اپنی لوح پر نقش کر دیتا ہے , غیر ضروری تحریروں کی طرف وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے دماغ کے چراغ جل اٹھیں , غالب نے کہا تھا ,

یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

غالب کا فلسفہ بھول جانے کے گو بہت سے فائدے ہیں سب سے بڑا فائدہ ادھار لی ہوئی رقم کی واپسی کا بھول جانا شعار بن جاتا ہے , دکھ , درد , مصیبت , کسی کی طرف سے دی گئی اذیت کو بھول جانا فائدے اور خاصے کی چیز ہے , لیکن یادوں کے چراغوں کو کجلا دینے والا حافظہ قومی فیوض و برکات کی غارتگری ہے , اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کرنل نواب علی کا حافظہ کو لوح پر ہوشیار پور سے لائلپور تک کی یادیں کہکشاں کی مسجع اور مقفع عبارتوں کی طرح جگمگا رہی ہیں , آپ نے اس سفر میں زندگی کا ہر لمحہ سمو دیا ہے کرنل نواب علی کی اس تصنیف کی ورق گردانی کرتا ہوں تو بیساختہ غالب کے شعر کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یوں پڑھتا ہوں ,

یاد ماضی ثواب ہے یارب
نہ چھین مجھ سے حافظہ میرا

یاد ماضی کرنل نواب علی کے لیئے عذاب ہوتا تو آج یہ کتاب جو میرے نظر نواز ہے یہ نہ لکھی جاتی , مصنف مر جاتا ہے اس کی تصنیف زندہ ء جاوید رہتی ہے , دلوں اور ذہنوں کو روشن رکھنے والی کتابوں میں , ہوشیار پور سے لائلپور تک ,, تصنیف کا شمار ہوتا ہے , اس کتاب کے مصنف نے کتابوں سے زیادہ انسانوں کو پڑھا اور تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے یہ کتاب مطالعہ سے زیادہ مشاہدہ کی قوت سے لکھی گئی ہے , اور اس مشاہدہ میں ایک زمانہ لگا ہے اور کہتے ہیں کہ زمانہ بہترین استاد ہے اور جناب کرنل نواب علی کا بہترین استاد زمانہ ہے اور آپ زمانے کی راہ کا استعمال نہیں کرتے کیونکہ وہ تکلف اور مصنوعی حفظ نراتب کے قائل ہی نہیں ہیں , یہ شعر آپ پر صد فی صد صادق آتا ہے کہ

تم آئے ہو زمانے کی راہ سے
وگرنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

مجھے آپ کے فرزند سعادت مند نے یہ کتاب جب پیش کی تو میں نے سرسری ورق گردانی کی اور اس کتاب کو اپنے لیئے جناب شہزاد احمد کی طرف سے خوبصورت تحفہ اور اپنے خیالات اور جذبات کو متحرک رکھنے کا بہت بڑا وسیلہ سمجھا اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ مصنف لفظوں کے پیچھے نہیں بھاگتا , واقعات اس کا تعاقب کرتے ہیں اور وہ اپنے حافظے کی قوت سے خیالات کا ہجوم اپنے آئینہ ادراک پر محسوس کرتا ہے تو الفاظ خود بخود آ جاتے ہیں , ہوشیار پور سے لائل پور کے مصنف نے اس کتاب کا انتساب اپنے کسی عزیز کے نام معنون نہیں کیا بلکہ اس ماں کے نام کیا جس کی آبرو اور تحفظ کے لیئے وہ میدان کار زار میں مر مٹنے کے لیئے تیار رہتے تھے اور آج بھی وہ ان سجیلے جوانوں کی جوانیوں کو نہیں بھولے جنہوں نے بوڑھے والدین کی سسکتی ہوئی بزرگیوں کی صدائے باز گشت کو آج بھی کانوں کے ذریعے دل میں لگا رکھا ہے یہ انتساب ملاحظہ فرمائیں ,
انتساب

پاک فوج کے ان سجیلے جوانوں اور شہدا کے نام جو دن رات وطن عزیز کی حفاظت اور اس پر مر مٹنے کو تیار رہتے ہیں ,
مٹنے والوں کی وفاؤں کا سبق یاد رہے
بیڑیاں پاؤں میں ہوں دل مگر آزاد رہے

کرنل نواب علی کی یہ لاجواب تصنیف حسن ترتیب میں ڈاکٹر عبدالقدیر محسن پاکستان کی تحریر کرنل نواب علی کی داستان حیات سے شروع ہوتی ہے اور اس سے پہلے ان تھانوں کا ذکر منظوم کیا گیا جو مشرقی پنجاب انڈیا کی پہچان بن گئے تھے , اس کتاب پر پسندیدگی کا اظہار کرنے والوں میں جناب مجیب الرحمان شامی , جناب عطاء الحق قاسمی کی عطا , ڈاکٹر صفدر محمود شناسا تحریر , ڈاکٹر اجمل نیازی کی حب الوطنی کے جذبات میں ڈوبی ہوئی محب وطن سپاہی کی سرگذشت کو بڑی اچھوتے انداز میں رقم کیا ہے , کرنل نواب علی کی پہلی کتاب برگیڈیئر محمد یوسف جیسے عبقری دانشور کے خامہ ء عنبر شمامہ سے خوبصورت طرز و اسلوب کے بعد محمد فاروق عزمی نے پورے عزم بالجزم سے ہوشیار پور سے لائل پور تک ,, کرنل نواب علی لکھ کر زبردست کام کیا ہے , کرنل نواب علی پر جناب عبدالستار کی خامہ فرسائی داستان عزم و ہمت کا پتہ دیتی ہے , 85 سالوں کی سنہری یادیں علامہ عبدالستار عاصم کے قلم سے کرنل صاحب کی زندہ ء جاوید تحریروں کو کتاب کا پیرہن عطا کرتیں ہیں , کاش عبدالستار عاصم صاحب خود اپنے نام کے ساتھ علامہ نہ لکھا کریں , شبلی نعمانی , سلیمان ندوی , نیاز فتح پوری , حسرت موہانی , ظفرالملت ولدین ظفر علی خان اور علامہ اقبال نے کبھی بھی خود علامہ اقبال نہیں لکھا , داستان حیات کرنل نواب علی کی لاجواب داستان ہے , جو آپ نے تحصیل و ضلع ہوشیار پور کے قصبہ پنڈوری بی بی و پنڈوری کد کی تاریخ لکھ دی ہے اتنی عمیق نظری سے اس کی مثال نہیں ملتی اور خاندانی سلسلہ , خاندانی امتیاز , محترم والدین , پڑھائی کا سلسلہ , میرا گاؤں , پنڈوری گاؤں کا چھوڑنا , پنڈوری بی بی کیمپ سے جدائی کے لمحات کا دلگداز منظر , ہجرت کا سفر , لائل پور موجودہ فیصل آباد کی طرف روانگی , والد محترم سے ملاپ , اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ , گیارہواں JSPCTs اور چودھواں PMA , روانگی اور قیام آسٹریلیا , اسلم کو اسٹریلیا بلوانا , انڈسٹری ٹریننگ ( Training with Industry) , نیشنل لاجسٹک سیل NLC , رشتہ ازدواج , فوجی زندگی اور ما بعد , سویڈش موٹرز کے ساتھ , کمشنر زراعت شماری اور سوالات و جوابات شاندار اور مؤثر عنوانات پر کرنل نواب علی نے خامہ فرسائی فرمائی ہے یہ کتاب ایک ہی نشست میں پڑھنے کا تقاضا کرتی ہے , قاری کو اپنی داستان حیات محسوس ہو گی , اس کتاب کی اشاعت کا اہتمام شہزاد احمد خود کرتے تو اس کا حسن مزید نکھرتا , اس کتاب میں والدہ محترمہ کا تذکرہ کرتے وقت ان پڑھ لکھا گیا ہے , مرحوم ضیا شاہد نے بھی اپنی والدہ ماجدہ کے بارے ان پڑھ لکھا تھا اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے مرحوم کی توجہ جب والدہ مرحومہ کے بارے لفظ ان پڑھ کی طرف دلائی کہ مان ان پڑھ نہیں ہوتی وہ ایک یونیورسٹی ہوتی ہے تو آپ نے اس کی تصحیح فرما لی تھی اور میرا شکریہ ادا کیا تھا , میری اپنی والدہ مرحومہ کی جب یاد آتی ہے تو نذیر قیصر کا یہ شعر یاد آتا ہے تو دیر تک گنگناتا رہتا ہوں ,

دیکھتا ہوں تو سبھی کچھ ہے سلامت گھر میں
سوچتا ہوں تو تیرے بعد رہا کچھ بھی نہیں

علامہ اقبال نے کہا تھا

مکالمات افلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرارار افلاطوں

شہزاد احمد کی سعادت مندی کا یہ عالم ہے کہ آپ نے اپنے والد گرامی کرنل نواب علی کی خواہشات کا احترام کیا اور اس کتاب کا انگلش حصہ بڑی عمیق نگاہ سے پروف ریڈنگ کر کے اس کو غلطیوں سے پاک کر دیا , اس کتاب کی تقریب رونمائی روٹری کلب لاہور گیریزن کے زیر اہتمام ہو گی , آپ اس کتاب کے حصول کے لیئے رابطہ کر سکتے ہیں , 03218402556

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...