Home بلاگ نو سموک ، نو ڈرگز کیمپس

نو سموک ، نو ڈرگز کیمپس

تحریر: پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر(وی سی خواجہ فرید یونیورسٹی)
دور حاضر کے بڑے بڑے مسائل میں سے ایک منشیات کی لعنت ہے۔ دنیا کا شائد ہی کوئی خطہ اس سے محفوظ ہو۔ نوجوان نسل میں منشیات کا فروغ ہر شعبہ زندگی کیلئے ایک تشویشناک امر ہے۔ اس کی وجہ سے کئی ہنستے بستے گھر اجڑ چکے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ کہ ہر سال اس تعداد میں ہوش ربا اضافہ ہو رہا ہے۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی خاصی تعداداس لت کا شکار ہو رہی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 50 لاکھ سے زیادہ افراد صرف منشیات کے استعمال کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی اس سے محفوظ نہیں بلکہ وہاں اس کا رجحان مزید بڑھ رہا ہے۔
اس حوالے سے انسداد منشیات کے لئے اینٹی نارکوٹکس فورس جہاں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے وہیں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق لوگ بھی اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس میجر جنرل غلام شبیر نیریجو سے ایک سیر حاصل ملاقات ہوئی جس میں ایگزیکٹوز اور طلبا و طالبات سمیت قوم میں نشے کی بڑھتی ہوئی لت اور اس کے سد باب پر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے انسداد منشیات کے لئے مختلف اقدامات سے متعلق تفصیلا آگاہ کیا کہ کس طرح اے این ایف منشیات کے خلاف قانون نافذ کرنے والا پاکستان کا اولین ادارہ ہونے کی حیثیت سے اپنے فرائض کو پورا کرنے کیلئے مکمل طورپر پُرعزم ہے۔ اے این ایف پاکستان میں منشیات کی فراہمی کو روکنے، منشیات کے اسمگلروں کو گرفتار کرنے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے سرگرم عمل ہے اور منشیات کے استعمال کے مضراثرات کے حوالے سے عوام الناس میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے وسیع پیمانے پر کوششیں کر رہاہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان منشیات کے خلاف اقدامات کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر قابلِ تقلید ملک کی حیثیت رکھتا ہے اور وطن عزیز کو دنیا میں منشیات کی غیر قانونی کاشت اور پیداوار کے سدِباب کرنے پر کامیابی کے نمونے کے طور پر لیا جاتا ہے۔
اس دوران میجر جنرل صاحب کو نو سموک اور نو ڈرگز سے متعلق خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل بتائی تو انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی خوش آئند ہے کہ خواجہ فرید یونیورسٹی منشیات کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ نوجوان نسل کو نشے کی لت سے بچانے کے لئے انہی اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ نوجوان ہی اس ملک کا مستقبل ہیں اگر وہ محفوظ رہے تو ملک کا مستقبل بھی محفوظ رہے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مخالف عناصر قوم کا مستقبل تباہ کرنے کے لئے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔ ہمسائیہ ملک میں تیار ہونے والی منشیات کی کھیپ کو پاکستان سمگل کر کے نسل نو کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
منشیات کے سد باب کےحوالے سے اے این ایف کی کارکردگی متاثر کن ہے کہ پاکستان کو 2001 سے ’’پوست سے پاک ملک‘‘ کا درجہ حاصل ہے، اے این ایف، دیگر شراکتی اداروں کے تعاون ،دستیاب وسائل، پیشہ ورانہ مہارت اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کر رہا ہے۔
دوران گفتگو ڈائریکٹرجنرل اے این ایف نے خواجہ فرید یونیورسٹی کی نو سموکنگ ، نو ڈرگز کی پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ باقی اداروں کو بھی اس یونیورسٹی کی پیروی کرنی چاہئے۔
خواجہ فرید یونیورسٹی میں سگریٹ نوشی اور منشیات کے استعمال کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔کسی شخص کو جامعہ میں ایسی کسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہے۔ اساتذہ، سٹاف ممبرز اور طلبا و طالبات کوئی بھی اس پابندی سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا کے ذریعے نشہ کے دینی اور دنیوی نقصانات کو واضح کیا جائے۔ والدین گھروں کے ماحول میں اصلاحی اقدامات کریں۔ بچوں کی اخلاقی تربیت کی طرف توجہ دیں۔ ان پر نظر رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ خطبات جمعہ میں علمائے کرام تحقیق کرکے ایسے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو فرمائیں تاکہ لوگوں کی راہنمائی کی جا سکے کہ خود اس سے کیسے بچیں اور اپنی اولادوں کو کیسے بچائیں۔ بچوں کے لیے صحت افزا سرگرمیوں کا ماحول پیدا کیا جائے۔ انہیں کھیلوں اوررفاع عامہ کے کاموں کی طرف متوجہ کیا جائے تاکہ ایسی فضولیات کی طرف جانے کی بجائے وہ خوشگوار سرگرمیوں میں مصروف عمل رہیں۔ اس کے علاوہ منشیات کے خاتمے سے متعلق قوانین کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ بعض اوقات طبی ضروریات کے لئے بہت سی نشہ آوار ادویات کی ضرورت ہوتی ہے۔ میڈیکل سٹورز پر سختی سے اس بات پر عمل کروانا چاہیے کہ یہ نشہ آور ادویات ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر عوام الناس تک نہ پہنچیں۔ علاوہ ازیں بری صحبت انسان کو نشے کا عادی بنا سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچے کے معمولات کی سختی سے نگرانی کریں اور بری صحبت سے بچائیں۔ چونکہ ہمارے قانون نافذکرنے والے ادارے اور ایجنسیاں گلیوں اس ضمن میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں مگر یہ کمیونٹی کا بھی فرض بنتاہے کہ وہ اپنے علاقہ اور قرب وجوار میں نشہ کی ترسیل اور استعمال کرنے والوں پر نگاہ رکھیں اور اس کی خرید وفروخت کو روکیں۔ جب تک عوام میں نشے کی لعنت کے خلاف شعور بیدار نہیں ہوگا اس وقت تک اس سے چھٹکارہ ممکن نہیں۔
وطن عزیز میں منشیات کی مقامی کھپت اور منشیات کے عادی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے معاشرے بالخصوص نوجوان نسل پر منشیات خصوصا آئس کے استعمال کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ علاج اور بحالی کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہو گئی ہیں۔
منشیات میں اضافہ صرف وطن عزیز کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ اقوام عالم بھی اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ منشیات کا استعمال ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے لئے تمام ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو اسکے انسدادکے لئے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔
(صاحب مضمون ماہر تعلیم اور خواجہ فرید آئی ٹی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...