Home بلاگ پولیس کے نہیں عوام کے شہداٗ

پولیس کے نہیں عوام کے شہداٗ

تحریر : رخسانہ اسد

محرم الحرام کامہینہ شروع ہے اورپولیس فورس کی دوڑلگی ہوئی ہے اس لیے نہیں کہ وہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں بلکہ اس لیے کہ کوئی قیمتی جان ضائع نہ ہوجائے یہ صرف محرم الحرم کیلئے بھاگ دوڑ نہیں بلکہ سماج دشمن عناصر سے مقابلہ ہو یا دہشت گردی کا خاتمہ، قانونی کی بالادستی ہو یا امن و امان کا قیام ، ہر محاذ پر پولیس فورس کے بہادر جوان فرائض سرانجام دیتے ہیں مگر انہیں فرائض منصبی کے دوران جام شہادت نوش کرتے آئے ہیں۔ وطن کی خاطراپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدائے پولیس کی عظیم خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یوم شہدائے پولیس چاراگست کو منایا جاتا ہے ۔ نیشنل پولیس بیورو پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر میں یوم شہدائے پولیس منانے کا مقصد قوم کے ان بہادر سپوتوں کی شجاعت کو سلام پیش کرنا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ان کی یاد میں بڑی تقاریب کا انعقادکرناہے جس میں شہداء کی ارواح کو ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے، شہداء کی قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں اور محکمہ پولیس کے شہداء کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یوم شہدائے پولیس پر اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ یہ صرف پولیس فورس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے شہدا ء ہیں اور ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھولے نہیں اور نہ ہی کبھی بھولیں گے ، ہمیں ان کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔بلاشبہ جس طرح پاک فوج کے جوان سرحدوں کی حفاظت اور ملک دشمن عناصرسے جنگ کے دوران جام شہادت نوش کرکے تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں اسی طرح وطن عزیز کے اندرعوام کے جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے لئے قائم اداروں میں سر فہرست محکمہ پولیس کا ادارہ ہے جوکہ ملک بھر میں دہشت گردی ،چوری، ڈکیتی ، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم کے خلاف برسرپیکار ہے ،پاک فوج کے جوان سرحدوں پر ملک کی حفاظت کررہے ہیں تو پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز ملک کے اندر موجود ، امن دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں مصر وف عمل ہیں۔ اگرمیں یہاں ماں باپ کی مثال دوں توغلط نہ ہوگاکیونکہ باپ گھرسے باہرمشقت کرتاہے تاکہ میری اولاد کا مستقبل اچھااوروہ اچھا کھاناکھاسکیں اورماں گھرمیں رہ کراپنی اولاد کی نگرانی کرتی ہےاورانہیں مصیبتوں سے بچاتی ہے مگرہاں ان دونوں کی قربانیوں کوفراموش نہیں کیاجاسکتا۔لیکن بات جب پولیس فورس کی ہوتو عوام کے ذہن میں فوراً منفی تاثر ابھرتا ہے، کسی سے بھی پولیس کے بارے میں بات کریں فوراً اس کی زبان پر پولیس کے کرپٹ ہونے کے الفاظ رواں ہو جاتے ہیں۔عوام ہو یا میڈیا غرضیکہ ہر کوئی پولیس پر تنقید کرتا نظر آتا ہے اور اس طرح پولیس کے خلاف شکایات کا لامتناہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔ ان شکایات کے برعکس اگر پولیس کے اوقات کار کی طوالت اور ذمہ داریوں کو دیکھا جائے تو ہر ذی شعور کو اس بات کا اداراک ہے کہ پولیس جتنا سخت اور طویل ڈیوٹی کام کوئی اور محکمہ نہیں کرتا۔ اور شہریوں کے ساتھ جب کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، تو مشکل کی اس گھڑی میں وہ پولیس کو ہی اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں،کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پولیس ان کی مدد کو ضرورپہنچے گی۔پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی خاطر ہرطرح کے حالات میں مدد کو پہنچتے ہیں۔ موسم کی شدت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خاص طورپر موسم گرما میں پچاس ڈگری درجہ حرارت میں بھی باوردی کانسٹیبل بلٹ پروف جیکٹ اور بھاری بھرکم گن اٹھائے فرائض کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں جب گرمی کی بات آئی توٹریفک پولیس کو کیسے بھولاجاسکتاہے ٹریفک وارڈنز سخت گرمی اورشدید ٹھنڈ میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں توڈولفن فورس عوام کی خدمت کیلئے جگہ جگہ موجود ہوتی ہے اورہرگھمبیرمسئلے سے نمٹنے کوتیاررہتی ہے۔ محترم قارئین آپ نے کئی بارنیوز چینلز میں دیکھاہوگاجب بھی کوئی پولیس اہلکارکسی حادثے میں شہیدہوتاہے تونیوز چینل پرجانبحق کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں جوکہ بہت تکلیف پہنچاتے ہیں پولیس کے شہدا دراصل ”مظلوم شہدا“ ہیں۔ جن کی شہادت کی قدر نہ تو عوام کو ہوتی ہے اور نہ ہی میڈیا ان کی قربانی کی اہمیت بتلاتا ہے۔ کیا ان کی جان اپنے گھر کی رکھوالی کرتے ہوئے گئی ہے؟ یا پھر گلی محلوں میں ہمارے جیسے سو کالڈ ایماندار اور پارسا لوگوں کے جان و مال چھیننے والے دہشت گرد سے مقابلہ کرتے ہوئے؟تو پھر میڈیا اس منافقت کا شکار کیوں ہے؟ جب ” شہید“ کا بیٹا اپنے باپ کے نام کے آگے ”جاں بحق“ کا لفظ دیکھے گا تو اس پر کیا بیتے گی ۔ جب ایک عام شہری میڈیا پر یہ خبر پڑھے گا تو اس کے لاشعور میں یہی بات رہے گی کہ پولیس والا ”جاں بحق“ ہوتا ہے ”شہید“ نہیں۔یوم شہدائے پولیس درحقیقت پولیس اور عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے اور اشتراک عمل کو بڑھانے کا ایک سنہری موقع ہے جس سے بھر پور استفادہ وقت کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ آئندہ نسلوں کو پولیس کے شہداء کے کارناموں سے با خبر رکھنے کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈز کے تحت چھپنے والی درسی کتابوں میں اس حوالے سے اسباق شامل کرے ، جس طرح افواج پاکستان کے شہدا کے تذکروں سے طالب علموں کے ذہنوں میں ان کی یادیں روشن کی جا رہی ہیں اسی طرح پولیس کے شہداء کی یاد بھی نئی نسل کے سامنے اجاگر کرکے یہ بات ان کے ذہنوں میں بٹھائی جائے کہ پولیس اہلکار بھی ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سر شار اورجرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہر لمحہ برسر پیکار رہتے ہیں۔تمام سیکیورٹی فورسز خصوصاً پولیس فورس کورخسانہ اسدکامسکان کے ساتھ سلیوٹ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

انتہائےشہادت امام حسین۴

تحریر: رخسانہ اسد لاہور شاہ است حسین، بادشاہ است حسین……دین است حسین، دین پناہ است حسین……سردادنداددست دردست...

نوشہرہ: گاڑی پر فائرنگ سے پی ٹی آئی رہنما اور ان کے بھائی زخمی ہوگئے

نوشہرہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما معتصم باللہ کی گاڑی پر فائرنگ سے وہ خود اور ان...

ایم کیو ایم وفاق اور سندھ حکومت سے پھر ناراض، پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے وفاقی اور سندھ حکومت سے ناراضی کا اظہار کردیا۔

کراچی: مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق، والدین کی حالت خراب ہوگئی

کراچی کے علاقے جوہر آباد میں گھر میں مبینہ طور پر مضر صحت کھانا کھانے سے 2 بچے جاں بحق جب...

اینہاں دا کاں تے چٹا ای رہنااے

روداد خیال : صفدر علی خاں اپنے اخبار کی اشاعت کا تسلسل جاری رکھنے کی خاطر سرگرم...