Home بلاگ چار سو گز کا سفر

چار سو گز کا سفر

منشاقاضی
حسب منشا

شیلے نے کہا تھا کہ ہم ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جو کتابوں کا نہیں اخباروں کا ہے , شیلے کے نزدیک کتابیں پڑھنے کی چیز ہیں , لیکن لوگ پڑھتے نہیں اور اخبار پڑھنے کی چیز نہیں لیکن لوگ ہر صبح ان پر پتنگوں کی طرح ٹوٹے پڑھتے ہیں , بات تو درست ہے مگر کچھ کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں اور ان کے کئی ایڈیشن مصنف کے علم میں ہی نہیں ہوتے ناشر شائع کرتا رہتا ہے , ایک اچھی کتاب کسی دوست عزیز یا کسی بھی پیاری ہستی کو بہترین تحفہ کے طور پر دی جا سکتی ہے , انسان برٹش میوزیم کی تمام کتابیں پڑھ لینے کے بعد بھی جائل مطلق اور ناخواندہ رہ سکتا ہے لیکن اگر ایک اچھی کتاب کے دس صفحے بھی علم حاصل کرنے کے جذبہ کے ساتھ پڑھ لئیے جائیں تو انسان ہمیشہ کے لیئے کچھ حد تک پڑھا لکھا بن حاتا ہے , جن کتابوں کے پڑھنے سے انسانوں کے شوق تقلید کو تحریک ملتی ہے ان میں مختصر کہانیاں لکھنے والے دنیا کے سارے مصنف کامیاب رہے ہیں امریکہ کی ایک مشہور مصنفہ سارہ . کے . بولٹن مختصر سوانح عمریوں کے لکھنے میں بڑا نام پیدا پیدا کر چکی ہیں اور انہوں نے مشہور اور نامور عبقری خواتین و حضرات کے حالات ایسی دلآویزی سے قلم بند کیئے ہیں کہ امریکہ میں اس کی کتابیں لاکھوں کی تعداد میں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں اور ان کے پڑھنے والوں کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا چلا جا رہا ہے اور میں جس کتاب کا تذکرہ کر رہا ہوں ان کی کتاب ,, چار سو گز کا سفر ,, کے بارے میں ممتاز مزاح نگار , رائٹر , شاعر اور کالم نگار عطاءالحق کی تاثرات ملاحظہ فرمائیں ,
تحریر کا یہ سارا حسن محض میرا اور آپ کا دل بہلانے کے لیئے نہیں ہے بلکہ جن مسائل کا حل تو درکنار , ہم ان سے آنکھیں بھی نہیں ملاتے , مسعود نے ان کا حل بھی ہمارے سامنے لا کر رکھ دیا ہے , وہ ایک مشفق اور مہربان دوست کی طرح ہمارا ہاتھ ملائمت سے تھامتا ہے اور پھر اپنی تشخیص اور اپنی مؤثر گفتگو سے ہمارے ذہن کی وہ وہ ساری گھتیاں سلجھا دیتا ہے جو ہمیں بے سکون اور بے آرام رکھے ہوتی ہے , صدارتی ایوارڈ برائے پرائڈ آف پرفارمنس ایسوسی ایٹ پروفیسر نیشنل کالج آف آرٹس لاہور پروفیسر ڈاکٹر اعجاز انور , چار سو گز کا سفر ,, کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں , مجھے یہ مانتے ہوئے خوشی ہوئی کہ باوجود یہ کہ میں نے پرانے لاہور پر بہت لکھا مگر اس پائے کا مضمون میں نہ لکھ سکا , میں نے پرانے لاہور کی بہت سی گلیاں رنگوں کی زبان میں لکھی مگر روشنیوں کے شہر میں ایک تاریک گلی شاید ,, اقبال حسین ,, بھی اپنے مخصوص انداز میں اس طرح نہ بیان کر سکا جس طرح کہ مسعود علی خان کر گیا ایک اور ماہر نفسیات قیصر عباس کی تحریر ملاحظہ فرمائیں ,, مسعود کی تحریروں میں روانگی ہے تسلسل ہے , سادگی ہے , سچائی ہے , تڑپ ہے اور سب سے بڑھ کر وہ کشش ہے جو پڑھنے والے کو باندھ کے رکھ دیتی ہے ,اور میری طرح وہ اس کتاب کے طلسم سے تب تک باہر نہیں آتا جب تک آخری صفحہ ختم نہ کر لے , مسعود علی خان کی یہ کتاب آپ کو دوسروں سے اور خود سے Connect ہونا سکھائے گی , یہ کتاب آپ کی سوچ اور احساس میں خاموشی سے ایسی مثبت تبدیلی لائے گی , کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کیونکہ مسعود سچ مچ ایک جادوگر ہے , میں نے کسی کالم میں مسعود علی خان کو جادو گر مصنف لکھا تھا , یہ ,, کتاب چار سو گز کا سفر , آپ کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دے گی , دس کہانیاں ایسی دلآویز اور پرکشش داستانیں ہیں
جو کامیاب زندگی اور زندگی مزید کامیاب بنا دیتی ہیں ,چار سو گز کا سفر , کتاب میں مصنف نے خوبصورت سوچ اور خوبصورت احساس کے حسین امتزاج سے خوبصورت کتاب پیش کی ہے , خوبصورت سوچ زمین کی پاتال سے پیدا نہیں ہوتی یہ فلک الفلاک سے آتی ہے اور آپ کو خوبصور احساس کی دولت سے ہمکنار کرتی ہے , مختصر کہانیوں کے مصنف نے اس کتاب کو تجارتی اور مادی ضرورتوں سے بہت دور رکھا ہے , اس کتاب کی آمدنی TAC سکول سسٹم کو عطیہ کی جائے گی , پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا , اس کتاب کی پہلی کہانی روشنیوں کے شہر میں ایک تاریک گلی , سبز دوپتہ , چار سو گز کا سفر , کامیابی کا فارمولہ , خوبصورت احساس , تعلقات , ہماری منزل , Daisies , کالج آف فیوچر اور دسویں کہانی لڑکی کی سالگرہ پر ختم ہوتی ہے , مصنف نے احساس کوخوبصورت اور سوچ کو خوبصورت رکھا ہے , میں سمجھتا ہوں خوبصورتی کے ساتھ سوچ اور احساس کو پاکیزگی کے لباس میں ملبوس کر کے شراب میں سے انگور تخلیق کیئیے ہیں , جس دل میں احساس نہیں ہوتا وہ اس تاریک غار کی طرح ہے جو سورج کی شفیق کرنوں سے محروم ہے , حقیقی خوبصورتی کا چشمہ دل ہے اگر یہ سیاہ ہے تو چمکتی ہوئی آنکھیں کچھ کام نہیں دیتیں , خوبصورت سوچ اور خوبصورت احساس خوبصورت دل کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں جن کو مسعود خان نے دو کرداروں میں اجاگر کیا ہے , مصنف کا تعارف ایک الگ کالم کا تقاضا کرتا ہے اس لیئے کتاب کا انتساب مصنف نے اپنی بیٹی عائشہ علی خان اور بیٹے اکبر علی خان کے نام معنون کیا ہے , جن میں انسانی حقوق , قدرت اور فطرت سے پیار , غریب اور بوڑھے لوگوں کے لیئے ہمدردی اور انصاف کا جذبہ اور جانوروں سے لگاؤ بہت زیادہ ہے اور جو ہمیشہ ہر موقع پر محبت اور انڈرسٹینڈنگ پیدا کرتا ہے , اس کتاب کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں , مگر مصنف نے یہ کتاب اشاعت اربعہ مرتبہ علم و عرفان پبلشرز لاہور کے زیر اہتمام شائع کی ہے , اس کی قیمت نہیں ہے , اس کی تقریب رونمائی بہت جلد انعقاد پذیر ہو گی ,

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...