Home بلاگ ڈنکی غیر قانونی امیگریشن ہوس زر یا افلاس

ڈنکی غیر قانونی امیگریشن ہوس زر یا افلاس

تحریر : عاشق علی جوئیہ

“پاکستان یا کسی بین الاقوامی سرحد کو غیر قانونی بنیاد پر پار کرنا ‘ڈنکی ‘ غیر قانونی امیگریشن کا عمل ہے”
جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ بے روز گاری تنگ و دست ہے جہاں ہر دوسرا نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہے۔ زیادہ تر نوجوان اچھے روز گار کے لئے امریکہ یا یورپ کے ممالک جانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں. پسماندگی اور غربت کی انتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئیے ماؤں کے لعل معاشرتی عدم مساوات ، سماجی ناانصافی اور مواقع کی عدم دستیابی سے تنگ آئے ہوئے تو بیرون ملک کے خواب سجا لیتے ہیں جب یہ بھی خواب بیرون ملک کیلئے ادھورے رہ جائے تو وہ ایسے میں ایجنٹس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو ان کو غیر قانونی طریقوں سے یورپ یا امریکہ جانے کے سنہری خواب دکھاتے ہیں اور انہیں بھلا پھسلا کر ان سے اچھی خاصی رقم بٹورنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ ملک سے باہر یورپ یا امریکہ میں کمائی کے شوقین نوجوان اس مافیا گینگ کے ہتھے چڑھ کر اپنی زندگی کی تمام تر جمع پونجی ان کے حوالے کرکردیتے ہے
تو پھر پنجاب کے مختلف شہروں سے نوجوانوں کولالہ موسیٰ،کھاریاں اکٹھا کرتے ہیں اور پنجاب کے علاقے گجرات ، گوجرانوالہ ، منڈی بہاؤالدین ، سیالکوٹ اور کچھ جنوبی پنجاب کے علاقہ کے لوگ بھی شامل ہیں۔ اس کی تلخ حقیقت سفر سے وہی لوگ واقف ہیں جو آدھے راستے سے واپس آ ، جاتے ہیں یا بہت ہی زیادہ خوش قسمتی یونان پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کے پاس کئ اقسام کے ڈنکی سفر کے پیکجز ہوتے ہیں جو پنجاب میں نوجوانوں سے13,12 سے 15 لاکھ روپے انسانی اسمگلروں کو دے کر اپنی موت کا اذیت ناک سودا کرنے کا سفر شروع کرتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو پنجاب سے کراچی یا صادق آباد، رحیم یارخان لایا جاتا دستاویزات مکمل کراۓ جانے کے بعد کوئٹہ روانہ ہوجاتے پھر دس،پندرہ دن کے لیے کوئٹہ میں رہائش پذیر ہوتے ہیں_
أرام کرنے کے بعد نوجوانوں کو بلوچستان کے شہر کوئٹہ سے تفتان ، تفتان سے تہران سفر کرنا ہوتا ہے
مشکلوں سے بھرا ہوا اور ذلت آمیز ہوتا ہے ,اس غیر قانونی سفر میں ہر وقت دہشت خوف طاری رہتا ہے پھر ان نوجوانوں کو دوسے تین ماہ کا سفر طے کرنا پڑتا ہے بند کنٹینرز ، بڑے ٹرکوں میں سامان کے نیچے یا بسوں میں موجود کھانوں میں چھپا کر لے جاتے ہیں. سفر پیدل کرنا ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر نوجوان بھوک پیاس یا سردی و گرمی کی شدت سے مرجاتے ہیں کئی بیچارے ایسے بھی ہیں جو کسی ملک کی سرحد پار کرتے ایرانی سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے اور میت تک واپس اپنے ملک نہیں لائی جا سکی اگر بالفرض ان کے ماں باب،بہن بھائیوں کوپیارے کی میت لانا پڑ جائے تو بہت سی مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہے.
کچھ بچاروں کو کفن دفن ہی نہیں ملتا ان کو جنگلی جانور اور گدھ نوچ نوچ کر کھا جاتے ہیں گل سڑ کر بوسیدہ رہ جاتا ہیں.زخم ایسے ملتے ہیں جو ساری زندگی کے لیے بھیانک یاد بن کر رہ جاتے ہیں پھر تہران سے ماکو پہاڑی گزر کر ترکی داخل ہونے کامیاب ہو جاتے ہیں
اس کے بعد بچے ہوئے لوگوں کو ترکی کے علاقے ازمیر سے سمندر میں چھوٹی کشتیوں کے ذریعے آگے جانا ہوتا ہے ۔ چھوٹی کشتیوں پر بڑی تعداد میں لوگ سوار کرائے جاتے ہیں جس کی وجہ اکثر کشتیاں کا توازن بگڑنے سے ڈوب جاتی ہیں ۔ اس جگہ کے سمندر کو یونانی جزیره لیسبوس بحره ایجیئن کے نام سے پکارا جاتا ہے جہاں پانی نقطہ انجماد سے نیچے ہوتا ہے ۔ خون جما دینے والے پانی میں اکثر کئی کلومیٹر کا فاصلہ تیر کر بھی پار کرنا پڑتا ہے ۔ دونوں ملکوں کی فوجوں میں سے کسی کی نظر میں آئے تو گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔ اگر پانی اور گولی ، دونوں سے بچ گئے اور یونان کے کسی سرحدی قصبے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے پھر کنٹینرمیں نوجوانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح یا چھوٹی گاڑیوں میں بیٹھا کراوپر سامان لوڈ کر دیا جاتا ہے اگر پھر بھی زندگی باقی رہی تو ایتھنز سقراط و افلاطون کی سرزمین میں پہنچ جاتے ہیں ۔
اسطرح ڈنکی سفر میں ناجانے کتنے ماؤن کے لعل قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مربوط کوششیں کرنا ہوں گی پوری طرح مستعد ہیں تاہم لوگوں کو خود بھی احتیاط برتنی ہو گی ۔ اپنے اردگرد انسانی اسمگلروں اور دہشت گردوں پر نظر رکھیں ، ان کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کوآگاہ کریں اوردوسرا ، زندگی میں ہر چیز کا رسک لیں مگر زندگی کا نہیں کیونکہ عیش وعشرت،کوٹھیاں بنگلے،لگثری کاریں مل سکتی ہے
تاہم زندگی کبھی نہیں_

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...