Home بلاگ امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد امت کی اصلاح

امام حسین علیہ السلام کے قیام کا مقصد امت کی اصلاح

زاد راہ سید علی رضا نقوی

دنیا نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی صدیاں گزرنے پر بھی دلوں پر قائم حکومت دیکھ لی ،اسلام کے حقیقی مقصد کو بھی پورے عالم پر واضح کرنا امام عالی مقام کی لازوال قربانی کا نتیجہ ہے ،آج اسلام کا حقیقی پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا گیا ہے تو اس ایک انکار کے سبب جو امام حسین علیہ السلام نے باطل قوت یزید کے غیر اسلامی چلن کو مسترد کرکے کیا تھا۔جب حاکم مدینہ کی طرف سے یزید کی بیعت کے لئے دباؤ ڈالا گیا تو آپ نے فرمایا کہ “اذا ابتلیت الامۃ بمثل یزید فعلی الاسلام السلام” مسلمانوں کا حکمران یزید جیسا شخص ہو گا تو ایسے اسلام پر سلام، بیعت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھ جیسا شخص یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔ اس طرح امام عالی مقام نے اپنا موقف دو ٹوک انداز میں بیان کر دیا اور حکومت، اس کے کردار اور پالیسیوں کو ٹھکراکر انہیں غیر اسلامی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔
اپنے قیام کے اہداف و مقاصد واضح فرمائے چنانچہ اپنے بھائی محمد ابن حنفیہ کو ایک وصیت نامے میں امام عالی مقام نے اس طرح ارشاد فرمایا
’’میرے اس قیام، میری جدوجہد کا اصل مقصد اور میری اس تحریک اور اقدام کا اصل ہدف صرف امت کی اصلاح ہے، میرا عزم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔‘‘ اس فصیح و بلیغ بیان میں آپ نے اپنے اہداف و مقاصد اور اسلام کے تحفظ اور دین کی بقاء کے لئے اپنے خدا اور اپنے نانا سید الرسل ص کی طرف سے ودیعت کی گئی ذمہ داریوں کا مکمل احاطہ فرما دیا ہے۔ اصلاح کا کلمہ بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فساد موجود ہے، انتشار و افتراق برپا ہے اور بگاڑ ہویدا ہے۔ لہذا ان برائیوں کے خاتمے کے لئے اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔ آپ نے اپنے خطوط و خطبات میں قیام کی وجوہات واضح کرنے کے لئے کئی مرتبہ اس دور کی صورتحال، کیفیت، امت کی حالت زار اور حالات کی ابتری کی نقشہ کشی اور منظر کشی فرمائی۔چنانچہ امام جب مکہ تشریف لائے تو بصرہ کے قبائل کے سرداروں کو ایک خط لکھا جس میں امام ع نے تحریر فرمایا کہ میں ابھی اپنے نمائندے کو اس خط کے ساتھ آپ کی طرف بھیج رہا ہوں، میں آپ کو کتاب خدا اور سنت پیغمبر اکرم ص کی طرف دعوت دیتا ہوں، چونکہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ سنت پیغمبر اکرم ص ختم ہو چکی ہے اور بدعتیں زندہ ہو گئی ہیں، اگر آپ میری بات کو سنیں گے تو میں آپ کو سیدھے راستے کی طرف ہدایت کروں گا۔ سفر عراق کے دوران مقام بیضہ پر لشکر حر کو خطبہ میں ارشاد فرمایا: ۔
’’اے لوگو! یہ (حکمران) اطاعت خدا کو ترک کر چکے ہیں اور شیطان کی پیروی کو اپنا نصب العین بنا چکے ہیں۔ یہ ظلم و فساد کو اسلامی معاشرے میں رواج دے رہے ہیں۔ خدا کے قوانین کو معطل کر رہے ہیں اور ’’مال فے‘‘ کو انہوں نے اپنے لئے مختص کر لیا ہے۔ خدا کے حلال و حرام اور اوامر و نواہی کو بدل چکے ہیں۔ میں اس معاشرے کی ہدایت و رہبری کے لئے اور ان سے سب فتنوں، فسادکاریوں اور مفسدوں کے خلاف کہ جنہوں نے میرے نانا کے دین کو تبدیل کر دیا ہے، قیام کرنے میں دوسروں سے زیادہ اہل ہوں۔‘‘
اس خطبے میں کی گئی منظر کشی سے واضح ہوتا ہے کہ یزیدی دور میں حکمران، احکام شریعت الہی اور سنت رسول ص میں دیئے گئے زندگی گزارنے کے طور طریقوں کو بھلا کر گمراہی اور گناہ کی زندگی اختیار کر چکے تھے۔ عدل اجتماعی سے گریز کرتے ہوئے مستقل طور پر بے عدلی اور ناانصافی کو اسلامی معاشرے کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ خدا نے انسان اور معاشرے کی بھلائی کے لئے شریعت کی شکل میں جو قوانین اور پابندیاں عائد کیں ان سے عملاً برات کر کے اپنے خود ساختہ قوانین رائج کئے جا رہے تھے۔ قومی خزانے کو لوٹا جا رہا تھا۔ کرپشن اور حرام خوری حکمرانوں کی عادت بن چکی تھی، جس سے معاشی ناہمواری، غربت، افلاس اور جہالت کو فروغ مل رہا تھا۔ حکمران خود بھی اور اپنی رعایا میں بھی حلال و حرام کی تمیز نہیں کر رہے تھے۔ بلکہ حرام امور کو حلال تصور کر کے انجام دے رہے تھے۔ خدا کے احکامات کی تابعداری کرنے کی بجائے نافرمانی کر رہے تھے۔ سفر عراق میں ذی حسم کے مقام پر خطبہ میں ارشاد فرمایا:۔’’وہ جو ہونے والا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں، زمانے کے حالات بالکل تبدیل ہو چکے ہیں۔ برائیاں ظاہر ہو چکی ہیں، نیکیاں اور فضیلتیں بہت تھوڑی رہ گئی ہیں، جیسے کسی برتن کی تہہ میں چند قطرے۔ لوگ ذلت و پستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی کا منظر پتھریلی چراگاہ کی طرح ہے، جس میں گھاس کم ہے۔ زندگی دشواریوں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ’’کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جا رہی۔ ان حالات میں ایک ایماندار شخص کو چاہیے کہ اپنے پروردگار کے دیدار کا طالب و مشتاق رہے اور اس قدر ذلت بار حالات میں حسین ابن علی موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو بوجھ سمجھتے ہیں۔‘‘ مزید ارشاد فرمایا : ۔’’لوگ دنیا کے بندے ہیں، دین ان کی زبانوں پر صرف لقلقہ لسانی تک ہے۔ جب تک ان کی زندگی پررونق رہتی ہے اس وقت تک دین کے ساتھ رہتے ہیں اور جب امتحان و آزمائش کا وقت آتا ہے تو دیندار بہت کم رہ جاتے ہیں۔‘‘مولا حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کے مقاصد بیان کرکے طشت ازبام کئے اور دنیا پر حق بات پر ڈٹ جانے کا درس دیا ،نواسہ رسول نے اپنے اقوال پر عمل پیرا ہونے کی خاطر سر کٹا لیا ،یہی سبب ہے کہ آج ہر زمانے پر امام عالی مقام علیہ السلام کی حکومت ہے ۔امام حسین علیہ السلام نے باطل قوتوں کے خلاف برسر پیکار ہوکر اچھائی اور برائی کے فرق کی تاحشر وضاحت کردی ،امام حسین علیہ السلام کا یہ فرمان کہ” میرے جیسے یزید جیسوں کی بیعت نہیں کرسکتے” تو یہ انکا ظلم کے خلاف اعلان ہے ،امام حسین علیہ السلام کا یہی فلسفہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

’کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

تحریر : ایم فاروق انجم بھٹہ سوچیۓ کہ اگر ہم واقعی آزاد ہیں تو اب بھی ہم...

جناح انمول ہے

منشاقاضیحسب منشا شاعر مشرق علامہ اقبال نے چراغ رخ زیبا لے کر اس ہستی کو تلاش کر...

پی سی بی نے تینوں فارمیٹ کیلئے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کر دیے

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے تینوں فارمیٹ کے لیے 33 کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ جاری کردیے ، ٹیم کے...

کراچی میں شدید بارشیں، انٹرمیڈیٹ کے 13 اگست کے پرچے اور پریکٹیکلز ملتوی

اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے شہر میں شدید بارشوں کے پیش نظر ہفتہ 13 اگست کو ہونے والے انٹرمیڈیٹ کے...

ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ کیوں لیے؟ شہری 22 سال بعد مقدمہ جیت گیا

بھارتی شہری ریلوے ٹکٹ کی مد میں 20 روپے زیادہ لینے کے خلاف کیا گیا مقدمہ بلآخر 22 سال بعد جیت...