Home بلاگ سیلاب کی تباہ کاریاں اور جشن آزادی

سیلاب کی تباہ کاریاں اور جشن آزادی

تحریر؛ مشتاق قمر
سیلاب متاثرین ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ، کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔ وزیراعظم پاکستان محمد شہبازشریف نے کوئٹہ قلعہ سیف اللہ بولان ژوب اور ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ امداد کی رقم دینے کی رپورٹ پر 48گھنٹے بعد وزیراعظم سیکرٹریٹ میں دینے کے احکام صادر فرمائے۔ متاثرین کو خوراک ادویات اور رہائش کی سہولیات یقینی بنانے، سیلاب زدہ علاقوں میں صفائی بروقت ،اسپرے کے انتظامات کیے جائیں۔ جتنے بھی متاثرین ہیں ان کے لیے صاف پانی کی فراہمی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ جزیہ ایک ایسے وزیراعظم کی طرف سے دیکھنے میں آیا جو گذشتہ ادوار میں خادم اعلیٰ کے نام سے مشہور تھے۔ دکھ درد کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا نام ہی انسانیت ہے۔ اقتدار آنے جانے والی شے ہے، آج ہم ہیں تو ہم ہی ذمہ دار ہیں۔ جب تک آخری فرد کو ریلیف نہیں مل جاتی چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ دوسری طرف جب دیکھیں تو ایک ایسی جماعت جو گذشتہ کئی سالوں سے سڑکوں پر ہے کچھ عرصہ اقتدار میں بھی رہے مگر اقتدار میں بھی رہتے ہوئے قوم نے دیکھا ان کے بیان اور شعلہ بیان سے ایسے ہی محسوس ہوتا تھا جیسے یہ اب بھی اپوزیشن جماعت ہے۔ ان کے چاہنے والے بھی اتنے سادہ ہیں کہ کبھی یہ تجزیہ کرنے کے لیے چند لمحے نہیں نکالتے کہ جو ہمارا لیڈر ارشاد فرما رہا ہے۔ اس میں حقیقت کتنی ہے، اندھی تقلید نے آج ملک کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے۔ بغور تجزیہ کریں تو کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کی وجہ سے آج مشکلات ہیں۔ کچھ آفات نے گھیر رکھا ہے اور کچھ ہماری اپنی کوتاہیوںاور غلط فیصلوں نے مشکل میں ڈال دیا ہے۔ سی پیک اور غیر ملکی تاجروں نے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا مگر کچھ سالوں سے ہماری غلط پالیسیوں اور مفاد پرست لوگوں کا اعلیٰ عہدوں پر آنے سے جو نقصان ہوا اس کا خمیازہ آج پوری قوم ادا کر رہی ہے جب تک مخلص قیادت اور کام کرنے والے لوگ اداروں کے بڑے عہدوں پر نہیں آئیں گے۔ مسائل ختم نہیں ہوں گے اور ان چند لوگوں کی وجہ سے حالات خراب سے خراب ہوتے چلے جائیں گے۔ ہر آنے والی حکومت چور اور ڈاکو کی کہانیاں سناتی ہیں مگر عدم ثبوت اور عوامی دبائو کی وجہ سے عدالتیں بھی فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ کرتی ہیں۔ ایسے فیصلے جس سے جمہوریت اور ملک کی سمت درست کرنے میں معاون ثابت ہوں اس کی وجہ سے ہم اپنی منزل سے دور سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ انصاف اگر اپنا راستہ اختیار کرے اور طاقت ور لوگوں کو محلوظ خاطر نہ رکھے تو ملک کے قرضے اس کے آگے کوئی دیوار نہیں بن سکتے۔ ہمارے مسائل کا حل مساوی انصاف بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جب ہم عام آدمی کے عدالتی فیصلوں کی جانب دیکھیں تو وہ جس رفتارسے سامنے آتے ہیں اس کے مقابلے میں اشرافیہ اور طاقت ور لوگ اس سے ماورا دیکھائی دیتے ہیں۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار مزدور طبقہ اور فیکٹری ورکر پر ہے جس کی تعداد لاکھوں کی بجائے کروڑوں میں ہے مگر ان کے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ حل نکالتے نکالتے انسان ختم ہو جاتا ہے مگر مسائل حل نہیں ہوتے۔ دوسری جانب وہ سرمایہ دار طبقہ جو نعرہ مزدور خوشحالی کا لگاتا ہے اس کے سرمایہ میں جس تیزی سے اضافہ ہوتا ہے ہم دنگ رہ جاتے ہیں۔ کوئی قانون اس سے پوچھنے سے ڈرتا ہے اور اس کی دولت اور فیکٹریوں میں دن رات اضافہ حیران کرنے کے لیے کافی ہے یہ وہ طریقے ہیں جس سے مزدور استحصال کے جس گڑھے میں گرتا چلا جاتا ہے۔کوئی قانون، کوئی سمری ایوانوں سے پاس ہوتی دیکھائی نہیں دیتی۔ الٹا مافیا جو ہر جگہ دنداناتا پھرتا ہے اپنی غنڈہ گردی سے لوگوں میں خوف ڈال کر معاشرے پرقابض ہے ہر مافیا عوامی نمائندے بن کر اور ان کے رشتے دار ملک کے ادوار میں بیٹھ کر عوام کا خون نچوڑ رہے ہوتے ہیں۔ شکایت کندہ ہی مجرم بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ جس ملک کے نوجوانوں کو بغیر میرٹ کے اعلیٰ عہدوں پر بٹھا دیا جائے اور نان پروفیشنل لوگ تنخواہ لینے کے عوض بھرتی کر لیے جائیں تو ادارے تباہ نہیں ہوں گے تو کیا یہاں دودھ اور شہد کی نہریں چلیں گی۔ ہمارا نظام تعلیم اتنے خانوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ والدین پریشان ہیں کہ بچے اخلاقی تربیت اور تعلیمی ترقی کس میڈیم میں ہے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ معیاری تعلیم کے نام پر پیسے بٹورنے والے ادارے بن چکے ہیں۔ ہماری اسلامی اقدار خطرے میں ہے سماجی اور معاشرتی پستی کی جانب جانے والے رستے میں ہمارا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی تباہ کاریاں الگ سے ہیں۔ مزدور کو اجرت گذشتہ کئی سالوں پہلے والے حکومتی اعلان کے مطابق بھی نہیں دی جاتی جبکہ مہنگائی ہر دوسرے دن بڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ حکومتوں نے الگ سے عوام کو لوٹنے کا فارمولا نکال لیاہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں ٹیکس کے نام پر ڈاکے پریشان کر رہے ہیں۔ کس کس لوٹ مار کا احوال لکھوں صرف تباہی کے منظر نظر آتے ہیں گلیوں محلوں میں کوڑے کے ڈھیر بے شمار بیماریوں کا موجب بن رہے ہیں کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نپٹنے کے لیے ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ آج تک سیلاب سے تباہ ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے ہم نے کچھ نہیں کیا۔ دریائوں میں پانی زیادہ آ جائے تو ہمارے ہاتھ پائوں پھول جاتے ہیں۔ خدانخواستہ کوئی زلزلہ آ جائے تو ہم دوسرے ملکوں کی طرف دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ مہنگائی اور بجلی گیس کے بلوں نے عوام کا سکون چھین لیا ہے۔کیسا احوال ہے کہ ہم گیس بجلی کے بل نہ ملنے کی وجہ سے اتنے ادا کرتے ہیں اور اگر بجلی اور گیس ہمیں برابر ملتی رہے تو پھر ہمارا کیا بنے۔بارشوں کے حالیہ نقصانات کی تفصیل کی جانب نکلوں تو خوفناک صورتحال نظر آتی ہے کوئی ملک میں پلاننگ نہیں کوئی بھی شخص کچھ شرپسند عناصر لوگوں کو جمع کرکے جب چاہے دھاوا بول دے، ہم دن رات ٹیلی ویژن پر مزے لے لے کر دیکھتے ہیں۔ یہ سب سیاستدان گھنٹوں تقریریں اس لیے کرتے ہیں کہ کیمرہ دیکھاتا ہے اگر یہ کیمرہ نہ دیکھائے تو کوئی غنڈہ گردی اور دھونس جمانے کی سوچے بھی نہ۔ ہمارا سب سے طاقتور ادارہ میڈیا کو ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر اپنی رپورٹنگ کرنی چاہیے ۔ خدانخواستہ یہ ملک کسی دشمن کے شکنجے میں چلا گیا تو پھر ہم نے کہاں دفن ہونا ہے یہ ضرور سوچیں۔
وارث بلھے شاہ حسین دا پیارا پاکستان
بن کے چمکے انبراں اُتے تارا پاکستان
ہندو سکھ عیسائی وسدے اِکو جھنڈے تھلے
تائیوں رَل مِل مار دے رہندے نعرہ پاکستان

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب...

گجرات ڈویژن اور حافظ آباد کی عوام کا فیصلہ؟

تحریر؛ راؤ غلام مصطفیوزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گجرات کودسویں ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری کے بعد باقاعدہ...

عالمی معیشت میں خاندانی کاروبار

تحریر؛ اکرام سہگلدنیا بھر میں خاندانی فرموں کا غلبہ اب اچھی طرح سے قائم ہے: عوامی طور پر تجارت کی جانے...

گجرات ڈویژن اور انسانی ہمدردی

تحریر؛ روہیل اکبرگجرات پنجاب کا 10واں ڈیژن بن گیاجس سے وہاں کے لوگوں کو سہولیات ملیں گے اب انکا اپنا نظام...

ملک بھرمیں PTCL کی انٹرنیٹ سروسز متاثر

لاہور(سٹاف رپورٹر)ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی سروسز ڈاؤن ہو گئیں۔ پی ٹی سی ایل...