Home بلاگ پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی...

پاکستان کی ساکھ خراب کرنے والوں کے شر سے محفوظ رہنے کی ضرورت

اداریہ

پاکستان میں الزام تراشیوں سے مخالف کو زچ کرنے کا عمل بہت پرانا ہے تاہم اب قومی سلامتی کے ادارے پر تنقید سے پاکستان دشمنوں کو خوش کرنے کا تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے ،اس حوالے سے سینیٹ میں حکومتی بینچز کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر پاک فوج کے خلاف مبینہ مہم چلانے پر تنقید کی گئی جبکہ اپوزیشن نے حکومت پر پی ٹی آئی اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔ حزب اختلاف کے سینیٹرز نے پی ٹی آئی رہنما شہباز گل پر مبینہ تشدد کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ بھی کیا جو فوج سے متعلق ’فتنہ انگیز‘ تبصرے کرنے پر جیل میں ہیں۔اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے سیلاب زدہ علاقوں میں امداد اور بچاؤ کے کاموں میں جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر فوج کی تعریف کی اور مسلح افواج کے خلاف مبینہ ٹرینڈز پر پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ خصوصی سلوک پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ ‘دیگر سیاسی رہنماؤں نے کئی سال جیلوں میں گزارے، آصف علی زرداری نے 11 سال سے زیادہ جیل میں گزارے، ان کی بہن فریال تالپور کو آدھی رات کو ملٹری گریڈ کی گاڑی میں ایک دہشت گرد کی طرح ہسپتال سے اٹھایا گیا، مریم نواز کے ساتھ بھی ایسا ہی تجربہ کیا گیا’۔۔شیری رحمٰن کا مزید کہنا تھا کہ ‘پی ٹی آئی کی منافقت اور بھی شدت سے بے نقاب ہو گئی ہے, انہوں نے 2021 میں ایک امریکی کنسلٹنگ فرم گرینیئر کنسلٹنگ کی خدمات حاصل کیں جو اسلام آباد میں سی آئی اے کے ایک سابق اسٹیشن چیف چلارہے تھے، تا کہ پارٹی کو پاک امریکا تعلقات پر لابنگ اور مشورہ دیا جا سکے، یاد رکھیں کہ یہ وہ وقت تھا جب پی ٹی آئی اقتدار میں تھی اور عمران خان امریکا کے خلاف تقریریں کر کے پاکستان کو آہستہ آہستہ تنہا کر رہے تھے جبکہ اس کی خارجہ پالیسی تباہ ہو رہی تھی’۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سودوں کی یہ ‘حیران کن تفصیلات’ منظر عام پر آتی رہتی ہیں، پہلے یہ گرینیئر کنسلٹنگ تھی اور حال ہی میں یہ فینٹن آرلک ہے، ساتھ ہی انہوں نے عمران خان کی ‘حقیقی آزادی’ مہم پر بھی سوال اٹھایا۔اس سے قبل اجلاس میں ایک بل جس میں کسی شخص کو حراست کے دوران سرکاری اہلکاروں کی تشدد کی تمام کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا (دی ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ روک تھام اور سزا بل 2022) پیش کیا گیا۔یہ بل قومی اسمبلی سے پہلے ہی منظور ہوچکا تھا جسے چیئرمین نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔دوسری جانب قائد حزب اختلاف ڈاکٹر شہزاد وسیم نے شہباز گل پر مبینہ تشدد پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور حیرت کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے انسدادِ تشدد بل کا کیا مطلب ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز گل کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہے، جب اس کے سیاسی ڈیزائن کی بات آتی ہے تو حکومت کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، پیغام واضح ہے انہیں اتنا تشدد کا نشانہ بنایا جائے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ان سے اپنی پسند کا بیان نکلوایا جائے۔دوسری جانب قائد ایوان و وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اصرار کیا کہ شہباز گل کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا جا رہا ہے لیکن پنجاب حکومت عدالتی احکامات پر عمل کرنے کے بجائے وفاق کے خلاف کھڑی ہے۔انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ آئین اور قانون میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں اور مزید کہا کہ تشدد کے نام پر تحقیقات سے بھاگنا غلط ہے۔پی ٹی آئی کے سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا کہ حکمران اتحاد کے رہنماؤں بشمول آصف زرداری، نواز شریف، مریم نواز، خواجہ آصف اور ایاز صادق نے شہباز گل کے ریمارکس کے مقابلے میں فوج کے خلاف زیادہ ‘سخت زبان’ استعمال کی۔دریں اثنا پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے اس معاملے پر اپنے پہلے والے مؤقف کو تبدیل کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کے خلاف کارروائی اس وقت تک روک دی جانی چاہیے جب تک کہ ایسے ریمارکس دینے والے دیگر تمام سیاسی رہنماؤں کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔اس سے قبل انہوں نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کے خلاف قانونی کارروائی کی توثیق کی تھی اور کہا تھا کہ شہباز گل نے غلطی کی ہے، انہیں ایسے ریمارکس نہیں دینے چاہیے تھے۔علاوہ ازیں پی پی پی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے بھی شہباز گل پر مبینہ تشدد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گل پر جسمانی تشدد کی انتہائی پریشان کن تصاویر دیکھی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اس سے کتنا ہی اختلاف کرتے ہیں یا ناپسند کرتے ہیں، کسی شخص کی عزت کو اس طرح پامال نہیں کرنا چاہیے تھا، یا تو میاں شہباز شریف کی حکومت اس طرح کے مظالم میں ملوث ہے یا انہیں روکنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ان حالات میں محب وطن عوام ہی ملک دشمنی والے عمل کی حوصلہ شکنی کریں تاکہ انکے بیانیہ کو زائل کرکے قومی سلامتی کے اداروں کی ساکھ کو ملک دشمنوں کے شر سے محفوظ بنایا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

اسپین کا گھروں میں رہ کر کام کرنے والے افراد کیلئے نیا ویزا پروگرام

اسپین نے یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے 'ڈیجیٹل نوماڈ' ویزا پروگرام شروع کرنے...

منی لانڈرنگ کیس : جیکولین فرنینڈس گرفتار ہونے سے بچ گئیں

بالی وڈ اداکارہ جیکولین فرنینڈس کو منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت مل گئی۔ بھارتی میڈیا کے...

قذافی اسٹیڈیم میں پاک انگلینڈ سیریز کی تیاریاں، رنگ و روغن کردیا گیا

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان ٹی 20 سیریز کے بقیہ تین میچز کا آغاز 28 ستمبر سے لاہور میں ہوگا۔

عامر لیاقت سے شادی سےکافی عرصہ پہلے سے شوبز میں کام کر رہی تھی: سیدہ طوبیٰ

پاکستان کی ابھرتی ہوئی اداکارہ اور مرحوم عامر لیاقت حسین کی سابقہ اہلیہ سیدہ طوبیٰ انور نے شوبز انڈسٹری میں آنے...

چائے پینے والے افراد روزانہ کتنی پلاسٹک کھا رہے ہیں؟

کراچی کی دودھ پتی چائے میں بھی مائیکر و پلاسٹک کی آلودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ جناح...