Home بلاگ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان

از حکیم راحت نسیم سوھدروی

بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان اسلامیان برصغیر کے ان جلیل القدر راھنماوں میں سے تھے جن کی تمام زندگی اسلام کی سربلندی اور فرنگی حکمرانوں سے آزادی کے لئے بھر پور جدوجھد میں گزری اور اس حوالے سے بے مثال قربانیاں دئیں یھاں تک کہ ان کی زندگی کا ھر تیسرا دن جیل میں گزرا اور اس زمانے میں ان کے اخبار زمیندار کی ایک لاکھ سے زیادہ کی ضمانتیں ضبط ھوئیں مگر ان پاے استقلال میں کوئ لغرش نہ ائ بلکہ ھر مشکل کے بعد زیادہ سرگرم عمل ھوے یھی وجہ ھے کہ علامہ اقبال نے ان کے قلم کی کاٹ کو مصطفی کمال کی تلوار سے تشبیہ دی اور قائد اعظم نے بادشاہی مسجد لاھور میں خطاب کرتے ھوے کھا کہ اگر ظفر علی جیسے دو چار افراد اور مل جائیں تو غلامی کی زنجیریں بھت جلد کٹ جائیں- بقول مولانا صلاح الدین احمد کہ ھماری تحریک آزادی کا تذکرہ مولانا ظفر علی خان کے نام اور کام کے ذکر کے بغیر مکمل نھیں ھو سکتا
مولانا ظفر علی خان کو اللہ تعالی نے بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا-وہ قادر الکلام شاعر، بے بدل ادیب، بھترین مترجم،بے باک خطیب،نڈر صحافی، مقبول عوامی راھمنا سب سے بڑھ کر پکے اور سچے مسلمان تھے- زندگی کے جس شعبہ میں کام کیا یا جس سرگرمی میں حصہ لیا اس کا مقصد واحد اسلام کی سربلندی، ملت اسلامیہ کی نشاستہ ثانیہ اور فرنگی سامراج سے آزادی رھا- عشق رسول ان کا خاص وصف تھا اور سرکاردوجھاں سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے چنانچہ فرماتے ھیں
ھوتا ھےجھاں نام رسول خدا بلند
ان محفلوں کا مجھ کو نمائندہ کردیا
بنا کر سرکاردوجھاں کا مجھے غلام
میرا بھی نام تاابدزندہ کردیا
ایک اور جگہ فرمایا
اتنی ھی آرزو ھے میرے دل میں اے خدا
اسلام کو زمانے میں دیکھوں سر بلند
ھم خواہ ذلیل ھوں یا ارجمند
مولانا ظفر علی خان کو اسلامی شعائر و روایات سے گھرا شغف تھانہ صرف ان پر عمل پیرا ھوتے بلکہ کسی حال میں ان کی بے حرمتی یا توھین برداشت نہ کرتے اس حوالے سے ان کی زندگی کے چند واقعات پیش ھیں-
میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد مولانا سری نگر چلے گئے تھے جھاں ان کے والد مولوی سراج الدین محکمہ ڈاک میں ملازم تھے ایک روز نوجوان ظفر علی خان ڈاکخانہ کے احاطہ میں دھوپ سک رہے تھے ایک انگریز فوجی وردی میں آیا اور ظفر علی خان کو اشارہ سے کہنے لگا کہ اولڑکے ! ادھر او -گھوڑے کی لگام پکڑو -مگر ظفر علی خان اس کی آواز پر کان نہ دھرا جس پر انگریز بھت سیخ ہوا اور دوبارہ بولااو لڑکے تم نے سنا نھیں ادھر او اور گھوڑے کی باگ پکڑو -ظفر علی خان نے انگریز کو غور سے دیکھا اور سنجیدگی سے جواب دیا جناب میں اپ کا ملازم نھیں ھوں انگریز کسی ھندوستانی کی زبان سے یہ جواب سن کر سخت غصہ میں آیا اور انگریز ریذ یڈنٹ گورنر سے شکایت کی کہ مولوی سراج الدین کو ملازمت سے برخاست کردیں مگر مولوی سراج الدین کی کاوشوں سے مسئلہ حل ھوگیا اور یوں ملازمت بچ گئ مگر نوجوان ظفر علی خان میں انقلابی سوچ پیدا کردی اور فرنگی حکمرانوں کے خلاف بغاوت کا مادہ پیدا ھوگیا- ظفر علی خان ملازمت کا ارادہ ترک کے مزید تعلیم کے لئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی چلے گئے جھاں علمی ادبی اور ملی فضا میں ان کی فطری استعداد سامنے آنے لگی -علی گڑھ کی ایک تقریب میں سرسید احمد خان نے کھا کہ ظفر علی ان نوجوانوں میں سے ھیں جھنوں نے آگے چل کر ملک و ملت کی ذمہ داریاں سنبھالنی ھیں -میں ان ایک روشن مستقبل دیکھ رھا ھوں
1910 میں ایڈورڈ ھفتم کے انتقال پر شاھی مسجد لاھور میں تعزیتی جلسہ ھوا جس شاہ ایڈورڈ ھفتم کی مغفرت کےلئے دعا کی اپیل کی گئ تو نوجوان ظفر علی آٹھ کھڑا ھوا کہ ایک غیر مسلم کے لئے دعا مغفرت جائز نہیں ھے اس طرح 1911جارج پنجم رسم تاج پوشی کے لئے دھلی اے تو بڑے بڑے علما اور مشائخ استقبالیہ قطار میں کھڑے تھے اور جھروکوں سے درشن کے منتظر تھے کہ عصر کی نماز کا وقت ھوگیا جارج پنجم کی سواری میں تاخیر ھورھی تھے نوجوان ظفر علی اگے بڑھے اور لال قلعہ پر اذان دے کر سبزہ زار پر کوٹ بچھا کر نماز شروع کرکے اللہ کی واحدانیت وکبریت کا اظھار کرکے دعوت دی کہ حقیقی خدا کے سامنے جھکو – مولانا ظفر علی خان ال انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے تھے مگر دوسرے مسلمان رہنماوں کی طرح کانگریس کے پلیٹ فارم سے آزادی وطن کی جنگ لڑ رہے تھے مگر کانگریس کے اجلاس کراچی میں جب نماز عصر کے لئے اجلاس ملتوی نہ کیا گیا تویہ کھڑے ھوے اور کانگریس سے الگ ھو نے کا اعلان کردیا اور فرمایا
گنبد کا نگریس سے ارھی ھے یہ صدا
نیشنلسٹ ھے وھی جسے ضد ھو نماز سے
پونا میں کانگریس کا اجلاس تھا اجلاس کے بعد اغا محل تالاب پر گاندھی اور مولانا موجود تھے کہ گاندھی نے کہا کس قدر شفاف پانی ھے کہ اس میں شیواجی کی تصویر صاف نظر ارھی ھے مولانا نے اسی وقت کہا کہ مجھے اورنگزیب کا جوتا بھی صاف نظر ارھا ھے جس پر گاندھی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے
ایک بار مولانا کانگریس کے اجلاس کی صدارت کررہے تھے کہ ایک مسلمان مقرر نے کہہ دیا کہ میں مذھب پر قومیت کو ترجیح دیتا ھوں جس مولانا کھڑے ھوئے اور کھا کہ میں پھلے مسلمان ھوں پھر کچھ اور
اس طرح ھندو راھنما تلک کی برسی پر جلسہ ھورھاتھا مولانا خطاب کررہے تھے کہ کسی نے اواز لگائی کہ یہ ماتمی جلسہ ھے سر سے ٹوپی اتار دو مولانا نے اسی وقت کہا کہ ماتمی جلسہ میں ننگے سر ھونا ضروری نہیں ھے میں پیغمبر اسلام کے احکامات کے مطابق ٹوپی نھیں اتاروں گا
قادیانیت کے خلاف جھاد کےلئے عوام اور علما کو بیدار کرنے کےلئے ان کا کردار سب سے نمایاں ھے قادنیوں کو اقلیت قرار دینے کی تجویز سب سے پھلے انھوں نے پیش کی وہ انھیں انگریز خود کاشتہ پودا قرار دیتے ان کی نظموں کی ایک مکمل کتاب ارمغان قادیان بھی ھے
میرے والد ماجد حکیم عنایت اللہ نسیم سوھدروی مرحوم کو مولانا کو قریب سے دیکھنے کے مواقع ملے وہ بتایا کرتے تھے کہ مولانا کا معمول تھا کہ رات کے پچھلے پھر بیدار ھوتے نماز تہجدادا کرکے تلاوت کرتے پھر نماز فجر ادا کرکے لمبی اور تیز تیز سیر کرتے واپسی پر سادہ اور پنجاب کا روائتی ناشتہ کرتے پھر دن کے معمولات کا آغاز ھوجاتا- مولانا کی صلاحتیوں کا اندازہ اس واقعہ سے ھو جاتا ھے کہ لاھور میں انجمن حمایت اسلام کا سالانہ جلسہ تھا علامہ اقبال عمرانیات پر مقالہ پیش کرنے کھڑے ھوے تو کہا کہ اپنا مقالہ انگریزی میں پیش کروں گا کیونکہ فلسفایانہ اصطلاحات کے باعث اردو میں سمجھا نہ سکوں گا مولانا کھڑے ھوئے اور کہا کہ اردو اتنی بے مایہ زبان نہیں ھے مشکل سے مشکل اصطلاحات بھی پیش کی جاسکتی ھیں علامہ نے فرما یا بے شک مولانا جیسے فاضل کے لئے مشکل نھیں مگر میں اپنی مشکل بتا رھا ھوں اس پر شیخ عبدالقادر نے کھا کہ مولانا اورپطرس نوٹس لیں گے بعد خاص نکات اردو میں پیش کردیں-علامہ نے انگلش میں مقالہ پیش کیا مولانا نے کوئ نوٹس نہ لئے پطرس نوٹس لیتے گئے جب علامہ مقالہ پیش کرچکے تو مولانا اٹھے اور مقالہ کا مفہوم اردو میں پیش کردیا جو الفاظ اور تراکیب استعمال کیں وہ علامہ کے مقالہ کے عین مطابق تھا جب ظفر علی بیان کرچکے تو علامہ نے فرما یا کہ 98 فیصد میرے خیالات کی ترجمانی کا حق ادا ھوا ھے
قیام پاکستان کے بعد مولانا خرابی صحت کے باعث عملی سرگرمیوں سے الگ ھوگئے-آخری تقریر جامعہ پنجاب میں اردو کانفرنس میں کی جھاں اواز مدھم ھونے پر چند طلبہ نے آوازیں کسے جس پر مولانا نے فرما یا کبھی دنیا تماشہ تھی اور ھم تماشائی اج ھم تماشہ ھیں اور دنیا تماشائی- جھاں چڑھتے سورج کی پوجا ھو وھاں ڈوبتے سورج کو کون پوجتا ھے مولانا کا یہ کہنا تھا کہ کانفرنس میں موجود بڑے بڑے دانشورابدیدہ ھوگئے -اس کے بعد کچھ عرصہ مری اور پھر کرم اباد رھے -میرے والد بتاتے تھے کہ وہ ستمبر 56 میں کرم اباد ملنے گئے تو قوت گویائی مکمل سلب ھو چکی تھی -پہچان نہیں سکتے تھے البتہ اواز سے جان جاتے تھے -بالآخر یہ مجاھد حریت اور افتاب 27 نومبر کو غروب ھوگیا اور کرم اباد اپنے والد کے پھلو میں سپردخاک ھوے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

test

test

صحابہ کرام اہلبیت امہات المومنین کی توہین پر قانون سازی

تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹآئین پاکستان کے تحت مملکت کا نا م اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سرکاری مذہب اسلام ہے۔اسکے باوجود پاکستان...

مجھے اس دیس جانا ہے

منشاقاضیحسب منشا مجھ پر پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا جب میں نے نثری ادب میں...

دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہونے کے باوجود جاپان ڈیفالٹ کیوں نہیں کرتا؟

گزشتہ سال ستمبر کے آخر تک جاپان اس حد تک مقروض ہو چکا تھا کہ قرضوں کے اس حجم کو سُن...

پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ

کراچی (سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک (پی ٹی آئی) نے سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔