Home بلاگ کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے

کرپشن کا خاتمہ کیسے ممکن ہے

تحریر ایم فاروق انجم بھٹہ

عصر حاضر میں کئی ایک سماجی برائیاں نسل انسانی کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان سماجی برائیوں میں سر فہرست جس نے نسل انسانی کو نقصان پہنچایا ہے وہ کرپشن کا ناسور ہے۔ کرپشن کو ام الخبائث کہا جاتا ہے، کیوں کہ بے بہا برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں، کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے، جو معاشرے کو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کھوکھلاکردیتی ہے۔ یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوموں کی تباہی میں مرکزی کردار ہمیشہ کرپشن کا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہوگی وہ اتنی ہی جلد بربادی کے گڑھے میں گرے گی، اگر کسی قوم میں کرپشن سرایت کر جائے تو وہ اپنی شناخت وساخت اور مقام ومرتبہ سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کوملا ہی نہیں تھا۔
اسی طرح اگر کسی ملک کے مالیاتی نظا م میں بد دیانتی، خیانت اور بے ایمانی سرایت کر جائے تو وہاں دولت کی عادلانہ تقسیم ممکن نہیں رہتی۔ اگر سرکاری کارندے اور افسران بدعنوانی میں ملوث ہو جائیں تو ملکی خزانہ غلط طور پر استعمال ہونے لگتا ہے۔ غیر حق دار لوگ تو ناجائز ذرائع سے سب کچھ لے جاتے ہیں، لیکن حق دار محروم رہ جاتے ہیں۔ ملکی آمدنی عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔ عوام سرکاری خزانے اور قومی آمدنی سے مستفید نہیں ہو پاتے۔ سرکاری افسران تو بہت امیر ہوتے جاتے ہیں، لیکن عوام کے حصے میں غربت ہی آتی ہے۔ ملکی خزانہ تو خالی ہوجاتا ہے لیکن ملک غریب اور سرکاری افسران امیر ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملکی اخراجات چلانے کے لیے ملک سرمایہ دار ملکوں کا مقروض ہو جاتا ہے اور یہ سرمایہ دار ممالک اکثر اوقات ایسی شرم ناک شرائط کے ساتھ قرض دیتے ہیں کہ ملک سود در سود ادا کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، بلکہ بعض اوقات یہ شرائط ملکی سلامتی کے سراسر مخالف ہوتی ہیں،کرپشن ایک طرف ملک کے اندر دولت کی تقسیم کو غیر عادلانہ بناتی ہے تو دوسری طرف سرکاری خزانہ عوام کی بجائے با اثر لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ وہاں پوری قوم اخلاقی طور پر بدعنوانی کے مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ رشوت کے ذریعے ہر کام ممکن ہو سکتا ہے۔ پوری قوم کی اخلاقی حس مردہ ہو جاتی ہے۔ ہر طرف بد عنوانی کی فضا چھا جاتی ہے۔ لوگ رشوت دے کر ہر جائز وناجائز کام کروا لیتے ہیں اور سرکاری کارندے رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔
اگر ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بڑا واضح او رقابل عمل مؤثر ضابطہ ملتا ہے۔ آپ کی حکمت عملی کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیمات تھیں، جن میں ہمیں حلال وحرام کی تمیز سکھائی گئی ہے اور حرام خوری کے وبال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے امانت ودیانت اور بد دیانتی کا واضح تصور پیش کیا۔ امانت داری کی فضیلت اور بد دیانتی کی نحوست کا ذکر فرمایا اوران پر لوگوں کو گام زن کروایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے نفوس کا تزکیہ فرمایا۔ ان میں الله تعالیٰ کا خوف اور یوم آخرت کی مسئولیت کا احساس پیدا فرمایا کہ انسان کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہو گا۔ آپ نے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ قیامت کے دن کسی بھی شخص کو ایک قدم آگے اٹھانے کی اجازت نہیں ہو گی جب تک کہ وہ پانچ باتوں کے بارے میں جواب نہیں دے لے گا۔ ان میں ایک سوال یہ ہو گا کہ تم نے جو دولت کمائی وہ کہا ں سے اور کن ذرائع سے حاصل کی او رپھر اسے کن جگہوں پر خرچ کیا؟

اصول وضوابط خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں اگر لوگوں کے دلوں میں الله کا خوف نہ ہو تو کوئی چیزا نہیں برائی اور خیانت سے روک نہیں سکتی۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ ڈنڈے کے زور سے آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اعلانیہ جرائم سے روک سکتے ہیں، لیکن وہ جرائم جو چھپ کر ہوتے ہیں قانون اور اختیار انہیں روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اچھائی اور دیانت داری پر کبھی قانون مجبو رنہیں کر سکتا ،اگر دل خوف خدا سے بھرا ہوا ہو تو لوگ خود بخود اعلانیہ اور خفیہ معاملات میں جرم سے اجتناب کریں گے۔ کرپشن کے خاتمہ کے لیے جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنا انفرادی کردارادا نہیں کرے گا تو اس کا علاج ممکن نہیں۔ محکمہ انسداد ِ رشوت ستانی کے ساتھ قدم بہ قدم تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ امر ایک جہاد ہے۔ اس سماجی برائی کے خاتمہ کے لیے خاص کر اساتذہ کے علاوہ، علمائے کرام او رمیڈیا کا فرض عین ہے کہ وہمعاشرے میں موجود کرپشن کی حقیقت کو بے نقاب کریں۔
مختصر یہ کہ اگر ہم کرپشن کے ناسور سے صحیح معنوں میں چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی نظام حیات کو اپنانا ہو گا۔ یہ وہ مکمل نظام ہے جس میں ہر مسئلے کا حل ہے،جس میں اخوت اور بھائی چارے کا درس ہے، جس میں ایک دوسرے کی پاس داری کا سبق ہے،جس میں حلال وحرام کی تمیز ہے، جس میں دوسروں کے ساتھ ہم دردی اورمحبت ہے۔ الغرض جذبہ اسلامی اپنانا ہو گا، اس لیے کہ خالق کائنات کا قانون ہی تمام مسائل کا حل ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

test

test

صحابہ کرام اہلبیت امہات المومنین کی توہین پر قانون سازی

تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹآئین پاکستان کے تحت مملکت کا نا م اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سرکاری مذہب اسلام ہے۔اسکے باوجود پاکستان...

مجھے اس دیس جانا ہے

منشاقاضیحسب منشا مجھ پر پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا جب میں نے نثری ادب میں...

دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہونے کے باوجود جاپان ڈیفالٹ کیوں نہیں کرتا؟

گزشتہ سال ستمبر کے آخر تک جاپان اس حد تک مقروض ہو چکا تھا کہ قرضوں کے اس حجم کو سُن...

پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ

کراچی (سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک (پی ٹی آئی) نے سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔