Home بلاگ دہشت گردی کی لہر اور قومی تقاضے!

دہشت گردی کی لہر اور قومی تقاضے!

تحریر؛ شاہد ندیم احمد
ملک میں دہشت گردی کی ایک بار پھر سے وارداتیں شروع ہو گئی ہیں،اس میں ابتک متعدد افراد جاں بحق اور بیسیوں زخمی ہو چکے ہیں، ہماری مسلح افواج دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر انہیں ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کی وارداتوں پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے، دہشت گرد ہمہ وقت تاک میں رہتے ہیں اورجہاں کمزوری دکھائی دیتی ہے، وہاں اپنی کارروائیاں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،خیبر پختون خوا ،اور بلو چستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسندوں کے علاوہ کا لعدم تحریک طالبان نے بھی مورچے سنبھال لیے ہیں ، اس کے باعث دہشت گردانہ کاروائیاں بڑھنے لگی ہیں،صورتحال یوں بنتی جارہی ہے کہ جیسے حکومت ،پولیس اور سکیورٹی ادارے امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آرہے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ ایک بار پھر دہشت گردوں نے سر اٹھانا شروع کر دیا ہے اور گزشتہ کچھ دنوں سے دہشت گردی کی وارداتوں کا تسلسل دیکھنے میں آرہا ہے،یہ دہشت گرد کاروائیاں زیادہ تر سر حد پار سے ہورہی ہیں ،پا کستان کی نئی افغان حکومت سے امیدیں وابستہ تھیں کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا اقتدار سنبھالنے والے مقامی فریق اپنی سر زمین کو ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ،افغان طالبان کی جانب سے یقین دھانیاں کرائی گئیں اور آج بھی کرائی جارہی ہیں ،لیکن ساری یقین دہانیوں کے باوجود افغانستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی مؤثر اور منظم کاروائی ہوتی نظر نہیں آرہی ہے ۔افغان حکومت ایک طرف یقین دہانی کرواتی ہے تو دوسری جانب ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے گریزاں ہے ،الٹا پا کستانی حکومت کو ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر مجبور کیا جاتا ہے ،گزشتہ برس مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہا اور اس مذاکرات کے نتیجے میں امن معاہدہ بھی کیا گیا ،لیکن مذاکرات میں قیام امن کیلئے جو شرائط پیش کی گئیں ان کی نوعیت ایسی تھی کہ ان پر بات چیت جاری رکھی نہیں جاسکتی تھی ،اس عمل میں خلاف توقع افغان طالبان نے پا کستان کے حق میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا نہ اس دعوئے کا عملی ثبوت دیا کہ افغان سر زمین پا کستان کے خلاف استعمال ہونے نہیں دی جائے گی ،یہ صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں ،اب تو افغانستان میں پا کستا ن اور چین مخالف دہشتگردوں کی سر گرمیوں میں اضافے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔افغان طالبان حکومت سے بڑی امید تھی کہ بھارتی سر پرستی اور اعانت میں چلنے والے دہشتگردی کے مراکز ختم کرائے گی ،مگراس ساری امید وں کو مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ، اس بدلتی صورت حال کے باعث سیکورٹی کے بڑھتے خطرات میں پا کستان کے سیکوڑٹی اداروں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے ،تاہم پا کستا کے سیکورٹی ادارے ماضی قریب میں ایسے ہی چیلنجز سے جس کا میابی سے نمٹ چکے ہیں ،اس نے اداروں کی مہارت میں کافی اضافہ کیا ہے ،سیکورٹی اداروں کی ان صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ نئے چیلنجز سے پوری قوت اور مہارت سے نمٹا جائے گا،لیکن اس قسم کی صورتحال میںصرف اپریشنل حل کافی نہیں ،موثر مذاکرات کے ذریعے پر امن حل کی کوشش بھی جاری رکھنی چاہئے،پا کستانی عوام کو اپنی بہادر افواج پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کا بھی جلد صفایا کرتے ہوئیایک بار پھر ملک میں امن و امان قائم کرنے مین کا میاب ہو جا ئیں گے۔پا کستان کے سیکورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف سر گرم عمل ہیں ، تاہم ہمارے عوام جس طرح قدم باقدم افواج پا کستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،سیاسی قیادت کو بھی اسی طرح یک زباں ہو کر ملک دشمنوں کو سخت پیگام دینا چاہئے،،سیاسی قیادت کے سیاسی اختلافات اپنی جگہ ،لیکن پاک دھرتی کی حفاظت سب پر فرض ہے، ملک بھر میں امن وامان کاقیام بھی سب ہی کی ذمہ داری ہے ،اس لیے سیاسی اختلافات اور ذاتی مفادات پاک سر زمیں کے سامنے کو اہمیت نہیں رکھتے ہیں ،یہ ملک ہو گا ،یہاں امن ہو گا تو سیاست بھی چلتی رہے گی اور حکومتیں بھی آتی جاتی رہیں گی ،اگر خدا نخواستہ دہشت گردوں کودوبارہ منظم ہو نے کا موقع مل گیاتو حکومت اور اپوزیشن کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا ، ہم جس طرح کی دگرگوں سیاسی ومعاشی صورت حال سے دو چار ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کی تعداد کم سے کم کر نے اور دوستوں میں ہر ممکن طریقہ سے اضافہ پر توجہ دیں ۔، اگر ہم اپنے ملک کے خراب اندرونی حالات ہی میں الجھے رہے تو اس کا فائدہ ہمارے دشمنوں ہی کو پہنچے گا، ہمیں بہر صورت ایسی صورتحال سے فوری طور پر نکلنا ہو گا ،اس میں ہی مل وقوم کی بہتری ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

test

test

صحابہ کرام اہلبیت امہات المومنین کی توہین پر قانون سازی

تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹآئین پاکستان کے تحت مملکت کا نا م اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سرکاری مذہب اسلام ہے۔اسکے باوجود پاکستان...

مجھے اس دیس جانا ہے

منشاقاضیحسب منشا مجھ پر پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا جب میں نے نثری ادب میں...

دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہونے کے باوجود جاپان ڈیفالٹ کیوں نہیں کرتا؟

گزشتہ سال ستمبر کے آخر تک جاپان اس حد تک مقروض ہو چکا تھا کہ قرضوں کے اس حجم کو سُن...

پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ

کراچی (سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک (پی ٹی آئی) نے سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔