Home بلاگ ڈالر کا بحران اور ہماری معیشت

ڈالر کا بحران اور ہماری معیشت

تحریر؛ جاویدایاز خان
مفتاح اسماعیل سابق وزیر خزانہ پاکستان کے بیان نے ملک میں کھلبلی مچا دی ہے کہ “پاکستان کا دیوالیہ ہونے کا خدشہ خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے اس سے قبل جنرل (ر)قمر جاوید باجوہ اپنی آخری تقریر میں اسکی نشاندہی کر چکے ہیں اور اپوزیشن لیڈر عمران خان بھی بار بار قوم کو اس خطرے سے خبردار کر رہیہیں گذشتہ روز ایار وائی ٹی وی پر سابق وزیر خزانہ اور ماہر معاشیات کے انٹرویوسے بھی خطرے کی نشاندہی نے بھی چونکا دیا گو حکومتی ذرائع اس کی تردید کر رہے ہیں اور موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار قوم کو تسلی دلا رہے ہیں کہ اس کی کبھی نوبت نہیں آے گی لیکن ملک و قوم کی تسلی نہیں ہو رہی اور کیونکہ ملک میں ڈالر کی بتدریج کمی کی خبریں اور بنکوں کی جانب سے فارن ایل سی کھولنے میں روکاوٹ ملک میں ڈالر کے ذخائر میں کمی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور ایک عام آدمی ملک کے دیوالیہ ہونے سے خوفزدہ ہے اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر خدانخواستہ اس دیوالیہ پن سے عام آدمی اور ملک کیسے اور کیوں متاثر ہوگا ؟میں کوئی ماہر معاشیات تو نہیں ہوں لیکن اپنے پینتالیس سالہ بینکنگ تجربے اور علم کے مطابق اس مختصر کالم میں سادہ طریقہ پر اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا ۔سب سے پہلے میں یہ واضح کر دوں کہ مجھے یقین ہے کہ گو پاکستانی معیشت پر بہت دباو ہے لیکن آئی ایم ایف اور پاکستان کے دیرینہ دوست مما لک خصوصا” چین اور سعودی عربیہ کبھی بھی پاکستان کو اس صورتحال سے دوچار نہیں ہونے دیں گے ۔ نہایت سادہ لفظوں میں کسی ملک کے دیوالیہ ہونے کے بارے میں ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ “ایک ملک جب اپنے بیرونی قرضے کی قسط اور اس پر سود کی ادائیگی سے قاصرہو جاے تو اس ملک کو دیوالیہ قرار دیا جاتا ہے “یا جب وہ بیرونی قرضوں کو ادا کرنے کیلیے بین الااقوامی معاہدوں پر عمل درآمد نہ کر پاے تو بھی دیوالیہ تصور کیا جاتا ہے ۔کیونکہ اندرونی قرضوں کو تو مقامی کرنسی چھاپ کر ادا کیا جاسکتا ہے لیکن بیرونی قرضے کی ادئیگی کے لیے عالمی کرنسی یعنی ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے ۔کسی بھی ملک کے دیوالیہ ہونے کی چند علامات ظاہر ہوتی ہیں ان میں سب سے بڑی علامت کسی ملک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر اور ان کے مقابلے میں بیرونی قرضوں اور ان پر سود کی کتنی ادائیگی ہونی ہے جب ادائیگی کی رقم زرمبادلہ سے زیادہ ہوجاے یا کسی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہوجائیں تو ملک کے جاری کھاتوں یعنی کرنٹ اکاونٹ کا خسارہ بہت بڑھ جاے تو بیرونی قرضوں کی ادائیگی مسئلہ بن جاتا ہے اور جاری کھاتوں ( کرنٹ اکاونٹ )کا خسارہ اس لیے بڑھ جاتا ہے کہ ملک میں درامدات زیادہ اور اسکے مقابلے میں برآمدات اس رفتار سے نہیں بڑھ پاتیں تو اس کا دباو زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے کیونکہ وہاں سے درآمدات کے لیے ادائیگی کرنی پڑتی ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو جاتے ہیں اور بیرون ملک قرضوں کی ادائیگی کے لیے فنڈز کی کمی ہو جاتی ہے جو ڈیفالٹ کا باعث بنتی ہے ۔سوال یہ ہے کہ ڈالر کیا ہے اور اسکے ذخائر کم زیادہ کیوں ہو جاتے ہیں ؟اس کے لیے ڈالر کو سمجھنا ہوگا ۔ امریکی ڈالر جو دنیا کی طاقتور کرنسی ہے اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں بطور زر مبادلہ استعمال ہوتی ہے اور سونے کے ساتھ ساتھ اسکے ریزروز کو بھی کرنسی کی سیکورٹی کہاجاتا ہے ۔یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سٹیٹ بنک یا ہم جو کرنسی اور روپیہ چھاپتے ہیں اسے چھاپنے کے لئے حکومت سٹیٹ بینک کو اتنی مالیت کا سونا یا فارن ریزروز گروی رکھواتی ہیکاغذ کے نوٹ کی کوئی ویلیو نہیں بلکہ اس کی حیثیت صرف ایک رسید اور گارنٹی کی ہے جو کہ سٹیٹ بینک ہمیں دیتا ہے – اور پچھلے کئی سالوں میں جو روپے چھاپے گئے ان کے لیے سونا جمع نہیں کروایا گیا بلکہ ادھار پر نوٹ چھپوائے گئے جس سے خسارہ بڑھا اور ہماری حکومت کو ڈالر کی کمی دور کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے مہنگی شرائط پر قرضہ لینا پڑتا ہے جو روپے کی ویلیو کم کرتا ہے اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈالر کی قیمت کم یا زیادہ کیسے ہوتی ہے ۔ ڈالر کی قیمت کا انحصار تین چیزوں پر ہوتا ہے ۔برامدات اور درآمدات میں فرق (یعنی ڈالر کی طلب بڑھ جے اور رسد کم ہوجاے یا بڑھ جاے )،بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجا گیا ڈالر یا غیر ملکی کرنسی کا سرمایہ اور بیرونی انو یسٹمنٹ یا سرمایہ کاری کی شکل میں ڈالر کی آمد اسکے علاوہ ڈالر کی قدر بڑھانے یا کم کرنے میں بیرونی قرض اور بیرونی امداد بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔کرونہ کی تباہی اور روس یوکرین کی جنگ سے ہماری ہی نہیں پوری دنیا کی معیشت کے توازن کو ایک بڑا کو دھچکا لگا ہے ۔ ہر ملک اپنی اپنی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کو سنبھالنے کی بھر پور کوشش کر رہا ہے ۔ ڈالر کی طلب اور رسد کو متوازن رکھنے کی جد جہد میں اپنی برآمدات بڑ ھانا چاہتا ہے اور درمدآت کم کرکے زرمبادلہ بچانا چاہتا ہے بر آمدات اور درآمدات میں فرق اگر پلس میں ہوگا مطلب برآمدات درآمدات سے زیادہ ہونگی تو یقینا آپکے ملک کا زرمبادلہ بڑھے گا اور یوں ڈالر آپکے ملک میں آئے گا- کیونکہ تجارت اور ٹریڈ زیادہ تر ڈالرز میں ہوتی ہے لہذا آپکے ملک میں ڈالر آئے گا اور یوں جتنی زیادہ برآمدات ہوگی اتنا ہی ڈالر کی قیمت میں کمی ہوگی اور ڈالر سستا ہوگا- لیکن اگر برآمدات اور درآمدات کا فرق مائنس میں ہوگا یعنی برآمدات درآمدات سے کم ہونگی- تو ڈالر ملک میں کم آئے گا کیونکہ جو ڈالر آئے گا وہ درآمدات کی ادائیگی کے لیے دوسرے ملکوں کو دے دیا جائے گا اور یوں ملک مین ڈالر کی قلت پیدا ہوجائے گی- اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور ہمارے ملک کی کرنسی کی قیمت میں کمی آے گی ۔اس لیے ڈالر کی طلب اور رسد کا فرق اسکی قدر کو کم یا زیادہ کر دیتا ہے ۔خسارہ پورا کرنے کے لیے جو قرضے لیے جاتے ہیں وہ ہمیں سود سمیت واپس کرنے پڑتے ہیں اور ان کی واپسی بھی ڈالر کے ذریعہ ہوتی ہے جو ملک میں ڈالر میں کمی لاتی ہے ۔ بیرون ملک پاکستانی جو کہ روزگار کے سلسلے میں باہر ہیں وہ اپنے گھروں کو پیسہ عام طور پر ریال، یورو، پانڈز اور ڈالر کی شکل میں بھیجتے ہیں لہذا جتنے وہ پیسے زیادہ وہ اپنے گھر کو ڈالر کی شکل میں بھیجیں گے اتنی ڈالر کے کے ذخائر اور ریزرو بڑھ جائیں گے اور ڈالر کی قیمت کم ہوتی چلی جاے گی اور ملک میں ڈالرز اور دوسری کرنسی کے ذخائر اور ریزرو معیشت کے استحکام کی علامت ہوتے ہیں ۔ اس لیے اور سیز پاکستانی اس ملک کی ریڑ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔اگر وہ یہ رقوم نہیں بھیجتے یا کم بھیجتے ہیں تو ڈالر کی کمی کی وجہ سے ہماری کرنسی متاثر ہوکر اپنی قدر کھو دیتی ہے ۔اور ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے ۔ ملک کی سیاسی صورتحال مستحکم ہو اور اقتصادی اور معاشی صورتحال مضبوط ہو امن و امان اور سیکورٹی تسلی بخش ہو تو بیرونی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کے لیے بڑی دلچسپی لیتے ہیں اور ایسے ہی ممالک میں سرمایہ لانا اور لگانا چاہتے ہیں ۔ آپکے ملک اور حکومت کی ریپوٹیشن اور ساکھ دنیا میں جتنی اچھی ہو گی دوسرے ملک کے لیے انوسٹمنٹ یا سرمایہ کاری کے لیے سازگار ہوگی اور سرمایہ آے گا لیکن اگر آپکی حکومت کی ریپو اور ساکھ بہتر نہیں تو آپ کے ملک میں کوئی بھی انویسٹمینٹ یا سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور چونکہ یہ سرمایہ کاری ڈالر کی شکل میں ہوتی ہے اس لیے آپکے ملک میں سرمایہ کاری کے لیے ڈالر نہیں آسکے گا – اور ملک میں ڈالر کی قلت ہوجائیگی اور ڈالر کی قلت کی وجہ سے ڈالر کے ذخائر کم ہوتے جائیں گے ہمارے ملک میں پچھلے کئی سالوں میں برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہوگئی ہیں اور ہم خسارے میں جا چکے ہیں – -پچھلے سالوں میں سوائے چین کے کسی ملک نے سرمایہ کاری میں کوئی خاص دلچسپی نہیں لی اور یوں ہم اس معاملہ میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں – لہذا ہم آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرضے لینے پر مجبور ہو گئے اور اپنی معیشت کی بقا کے لیے آئی ایم ایف کی کڑی سے کڑی شرائظ مان رہے ہیں اگر وہ قسط لیٹ کر دے تو ڈالر کی کمی واقعہ ہوجاتی اسلیے بروقت قسط حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ اپنی معیشت کو تباہی سے بچایا جا سکے ۔ ہم اشتہاروں میں کہتے ہیں کہ ہم نے یہ ترقی کرلی وہ ترقی کرلی- صرف سڑک بنانا ترقی نہیں ہوتی- ترقی ہمیشہ ماپی جاتی کہ اس ملک کے باشندوں کی فی کس آمدنی کتنی ہے ؟ یا ہمارے ملک میں جی ڈی پی کیا ہے ؟ ہر فرد کی فی کس ایوریج آمدنی کیا ہے ؟یہ ہے ترقی کا پیمانہ- جب ملک میں سیاسی استحکام ہوگا تو آپکے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی، کاروبار ترقی کرے گا آپکی برآمدات بڑھیں گی اور یوں ڈالر کی قیمت کم ہوگی اور آپکے روپے کی ویلیو زیادہ ہوگی- مہنگائی کم ہوجائے گی اور آپکی بچت زیادہ بڑھ جائے گی۔ڈالر کی اس خطرناک حد تک اونچی اڑان کو روکنے اور ذخائر میں اضافے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ۔سب سے اہم ملک میں جاری سیاسی بحران اور مخدوش اقتصادی حالات کا خاتمہ ہے ۔ائی ایم ایف کی قسط کا فوری اجرا اور درآمدات میں کمی لانی چاہیے ۔بیرون ملک پاکستانیوں کی ہمدردی حاصل کی جاے اور ان کو اعتماد میں لیا جاے اور ان سے درخواست کی جاے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ڈالر اپنے اکانٹ میں بھجوائیں تاکہ ملک کی معیشت بہتر ہو سکے جن لوگوں کے سرماے اور رقوم ملک سے باہر ہیں انہیں ملک اور قوم کی خاطر آمادہ کیا جاے کہ وہ اپنی ترسیلات زیادہ بھجوائیں ۔ اپنے دوست ممالک سے سرمایہ کاری کی درخواست کی جاے ۔حکومتی اخراجات میں فوری کمی کی جاے تاکہ درآمدی اشیا کے استعمال کو ختم یا کم ازکم کیا جاے ۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے ! ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے اور اس کا اثر عام عوام پر سب سے زیادہ ہوتاہے ۔ڈالر بڑھ رہا ہے ! مہنگائی عروج کی جانب گامزن ہے ! لوگوں کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے اور وہ سب کسی نجات دہندہ کے منتظر ہیں جو ان کو ریلیف دے ۔وہ مشکل اور تلخ نہیں بلکہ چند آسان اور خوش آئند فیصلوں کے منتظر ہیں جو ان کی زندگی میں خوشی اور مسرت کے چند لمحے مہیا کر سکیں۔ آج ڈالر تاریخی اونچائی پاکستانی روپے تک جا چکا ہے ہ اور ڈالر کی موجود قیمت اپنے ساتھ ایک مہنگائی کا ایسا طوفان لا رہی ہے جو عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہوگا ۔ اس صورتحال سے بچنے کے فوری اقدمات ہم اپنے ملک کی انرجی بچا کر اور اپنی درآمدت بڑھا کر اور برآمدات کم کرکے ہی ممکن بنا سکتے ہیں ۔بجلی کے استعمال میں کمی اور بڑی بڑی گاڑیوں پر پابندی اور پبلک ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی ،اور ملکی پراڈکٹ کا استعمال ضروری ہو چکا ہے ۔ÐÏࡱá

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Must Read

test

test

صحابہ کرام اہلبیت امہات المومنین کی توہین پر قانون سازی

تحریر: محمد ریاض ایڈووکیٹآئین پاکستان کے تحت مملکت کا نا م اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سرکاری مذہب اسلام ہے۔اسکے باوجود پاکستان...

مجھے اس دیس جانا ہے

منشاقاضیحسب منشا مجھ پر پہلی بار اس بات کا انکشاف ہوا جب میں نے نثری ادب میں...

دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہونے کے باوجود جاپان ڈیفالٹ کیوں نہیں کرتا؟

گزشتہ سال ستمبر کے آخر تک جاپان اس حد تک مقروض ہو چکا تھا کہ قرضوں کے اس حجم کو سُن...

پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ

کراچی (سٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک (پی ٹی آئی) نے سندھ اسمبلی سے مستعفی نہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔